پیغمبر اسلام کی ہدایت
حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں آئی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب حکومت سے نزاع کرنے کو منع فرمایا:حضرت عبادہ بن الصامت انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی تو اس میں ہم سے جن چیزوں کا عہد لیا، اس میں ایک یہ بھی تھا کہ ہم اصحابِ امر سے جھگڑا نہیں کریں گے:وَعلٰی أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ۔ (صحيح البخاري،حدیث نمبر7055)
- سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ يَقُولُ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله علي وسلم يقولوَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ. قَالُوا:قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ؟ قَالَ لَا، مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ، لَا، مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلَاةَ۔ (صحيح مسلم،حدیث نمبر1855) یعنی عوف بن مالک الاشجعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ وہ لوگ بہت برے امیر ہیں جوتم سے نفرت کریں اور تم ان سے نفرت کرو۔ صحابہ نے کہاکہ اے خدا کے رسول، جب ایسا ہو تو کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں۔ آپ نے فرمایاکہ نہیں، جب تک وہ تمہارے درمیان نماز کو قائم رکھیں ، نہیں جب تک وہ تمہارے درمیان نماز کو قائم رکھیں۔
- عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد تم بہت سی برائیاں اور حکومت میں بگاڑ دیکھو گے۔ صحابہ نے کہاکہ اے خدا کے رسول ، آپ اس وقت کے لیے ہم کو کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا:ان کا حق انہیں ادا کرو اور اپناحق اللہ سے مانگو:أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللهَ حَقَّكُمْ۔ (صحيح البخاري، حدیث نمبر 7052)
- وائل بن حجر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر ہمارے اوپر ایسے حکمراں قائم ہو جائیں جو اپنا حق ہم سے مانگیں اور ہمارا حق ہم کونہ دیں۔ تو ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ سنو اور اطاعت کرو، کیوں کہ ان کے اوپر ان کی ذمہ داری ہے اور تمہارےاوپر تمہاری ذمہ داری:اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ۔(سنن الترمذي،حدیث نمبر 2199)
- عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تم میں سے جو شخص اپنے امیر کی طرف سے ایسی بات دیکھے جو اس کو ناپسند ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اس پر صبر کرے۔ مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ۔ ( صحيح البخاري، حدیث نمبر6646)
- إذَا عَدَلَ السُّلْطَانُ فَعَلَى الرَّعِيَّةِ الشُّكْرُ، وَلِلسُّلْطَانِ الْأَجْرُ. وَإِذَا جَارَ فَعَلَى الرَّعِيَّةِ الصَّبْرُ، وَعَلَى السُّلْطَانِ الْوِزْرُ۔)شرح السيرالكبيرللسرخسی، صفحہ 158(یعنی عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلطان اگر عدل کرے تو اس کی رعایا کو چاہیے کہ وہ شکر کرے اور اگر وہ ظلم کرے تو رعایا کو چاہیے کہ وہ صبر کرے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کا مطلب بے عملی نہیں، وہ عین عمل ہے۔ وہ انفعالیت نہیں بلکہ فعالیت کا سبق دیتی ہے۔ وہ حکمتِ عمل ہے ، نہ کہ ترکِ عمل۔ وہ پسپائی نہیں بلکہ اقدام کی اعلیٰ ترین قسم ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حکومت، سماج کے تابع ہوتی ہے ، نہ کہ سماج حکومت کے تابع۔ اس لیے اگر کوئی شخص حکومت میں خرابی دیکھے تو اس کو سماج کی سطح پر اپنا اصلاحی عمل جاری کر دینا چاہیے۔ یہی اصلاح کا صحیح اور اسلامی طریقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاسیاسی نزاع سے روکنے کا مطلب دراصل کوششوں کارخ پھیرنا ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ سیاست کے میدان میں سر نہ ٹکراؤ ، بلکہ تعمیر کے میدان میں اپنا کام شروع کر دو، اس طرح تم زیادہ بہتر طور پر اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہو۔
درخت کی پتیاں مرجھائیں تو کوئی بھی شخص ایسا نہیں کرتا کہ وہ پتیوں پر پانی بہائے۔ اس کے برعکس وہ درخت کی جڑوں میں پانی ڈالتا ہے۔ کسی کے بلب میں کرنٹ نہ آ رہا ہو تو وہ بلب پر محنت نہیں کرتا، بلکہ پاور ہاؤس سے ربط قائم کرتا ہے۔ کیوں کہ جڑ میں پانی ہونے سے درخت کی پتیاں سرسبز ہوتی ہیں۔ اسی طرح بلب اس وقت روشن ہوتا ہے جب کہ پاور ہاؤ س سے اس کو کرنٹ بھیجا جا رہا ہو۔
یہی معاملہ انسانی سماج کا بھی ہے۔انسانی سماج کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک ، حکمراں افراد اور دوسرے عوام۔ عوام کی حیثیت جڑ کی ہے اور حکمراں افراد کی حیثیت پتیوں کی۔ یا عوام بمنزلہ پاور ہاؤس ہیں اور حکمراں افراد بمنزلہ بلب۔ ایسی حالت میں یہاں بھی بگاڑ کی اصلاح کا صحیح طریقہ وہی ہے جو درخت اور پاور ہاؤس کی مثال میں پایا جاتا ہے۔ اگر حکمراں افراد کے اندر بگاڑ نظر آئے تو حکمراں افراد سے نہ لڑیے بلکہ عوام کی اصلاح شروع کر دیجیے ۔ پتیوں کے مسئلے کو جڑ کی سطح پر حل کیجیے ۔ حکمراں افراد کے اندر بگاڑ دیکھ کر حکمراں افراد سے لڑنا صرف سماجی تخریب میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ایسا کیا جائے کہ حکمراں افراد میں بگاڑ ظاہر ہونے کے مواقع پر عوامی اصلاح کے محاذ پر جدوجہد کی جائے تو اس سے سماج کی تعمیر ہوتی ہے اور اس کے بعد نتیجتاً حکمراں طبقے کی اصلاح۔
یہی وہ اہم سماجی مصلحت ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ تم جیسے ہو گے اسی طرح کے حکمراں تمہارے اوپر مقرر کیے جائیں گے:كَمَا تَكُونُونَ كَذَلِك يُؤمر عَلَيْكُم۔(مسند الشہاب القضاعی، حدیث نمبر 577 ) مٹی سے برتن بنتا ہے، برتن سے مٹی نہیں بنتی۔ اسی طرح عوام سے حکومت بنتی ہے ، حکومت سے عوام کی تشکیل نہیں ہوتی۔ اس لیے جو شخص حقیقی معنوں میں نتیجہ دیکھنا چاہتاہو، اس کو چاہیے کہ وہ سماج کو اپنی اصلاحی جدوجہد کانشانہ بنائے۔ افرادِ حکومت سے ٹکراؤ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
