مؤتہ کا سبق

غزوہ ٴ مؤتہ میں بارہ مسلمان قتل ہوئے اور نو تلواریں ٹوٹ گئیں۔ اس کو امیری لشکر نے اتنا سنگین سمجھا کہ فوج کی واپسی کا حکم دے دیا۔ کیوں کہ صورت حال کے مطابق، اس وقت جنگ کو جاری رکھنا بے فائدہ بن چکا تھا۔ اس کے برعکس موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو دیکھیے۔ موجودہ زمانے میں بالاکوٹ مارچ (1831)سےلےکرا جو دھیا مارچ(1989) تک لاکھوں مسلمان مقابلہ آرائی میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ اور ساری دنیا کے لحاظ سے دیکھیے تو ہلاک ہونے والوں کی تعداد کروڑوں تک پہنچ جائے گی۔ اس درمیان میں جو بے شمار ’’تلواریں‘‘ ٹوٹی ہیں، ان کی تو کوئی گنتی ہی نہیں۔ اس کے باوجود کوئی نہیں جو اس بے فائدہ لڑائی کو روکنے کی بات کرے۔ ہر بولنے والا آدمی شمشیری زبان میں کلام کرنے کا بادشاہ بنا ہوا ہے۔

آج واقعات بار بار بتا رہے ہیں کہ جنگ اور تصادم کا طریقہ مسلمانوں کے لیے سراسر لاحاصل ہے۔ اس کے باوجود نام نہاد مسلم رہنماؤ ں کا حال یہ ہے کہ وہ ہر جگہ مسلمانوں کو لڑنے پر اکسا رہے ہیں۔ وہ حمص اور دمشق کے مزارات سے خالد بن الولید اور صلاح الدین ایوبی کی تلوار برآمد کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ مفروضہ دشمنوں کے خلاف لڑائی جاری رکھی جا سکے۔

اس الم ناک کہانی کا مزید الم ناک باب یہ ہے کہ تلوار کا یہ لفظی کارخانہ وہ لوگ چلا رہے ہیں جنہیں خو د لڑنا نہیں ہے ۔ وہ اپنی ذمہ داری صرف یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ولولہ انگیز تقریریں کریں۔ اور دوسروں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بے فائدہ طور پر لڑلڑ کر اپنے آپ کو ہلاک کرتے رہیں۔ کتنے ظالم ہیں وہ لوگ جن کا حال حضرت مسیح کے الفاظ میں  یہ ہے کہ ’’وہ ایسے بھاری بوجھ جن کو اٹھانا مشکل ہے، باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھتے ہیں مگر آپ ان کو اپنی انگلی سے بھی ہلانا نہیں چاہتے۔‘‘ (متی4:23)

حقیقت یہ ہے کہ آج خالد بن الولید کے اس حکیمانہ عمل کو دہرانے کا وقت ہے جس کا مظاہرہ انہوں نے مؤتہ کے موقع پر کیا تھا۔ اگر موجودہ مسلمان ایسا کریں تو ممکن ہے کہ بعض ظاہربیں افراد ان پر بزدلی کا الزام لگائیں اور انہیں’’ يَا فُرَّارُ ‘‘ کہہ کر پکاریں۔ مگر یقین ہے کہ عین اسی وقت خدا و رسول کی آواز یہ کہہ کر ان کے عمل کی تصدیق کر رہی ہوگی کہ:لَيْسُوا بِالْفُرَّارِ، ‌وَلَكِنَّهُمْ ‌الْكُرَّارُ إنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى ۔تاریخ بتاتی ہے کہ مؤتہ کے موقع پر جن لوگوں نے رومیوں کے مقابلے میں تدبیری واپسی کا فیصلہ کیا تھا، انہیں لوگوں نے بعد کو تیار ہو کر دوبارہ اقدام کیا اور نہ صرف غسانیوں کو بلکہ پوری رومی بادشاہت کو مٹا ڈالا اور اسلامی عظمت کی ایک نئی تاریخ پیدا کر دی۔

موجودہ زمانے کے مسلمان واپسی کے لیے تیار نہیں ہوئے، اس لیے کوئی تاریخی اقدام بھی ان کے لیے مقدر نہ ہو سکا۔

’’ مؤتہ ‘‘ کے محاذ سے واپس آنے والے ہی دوبارہ’’ مؤتہ ‘‘ کے محاذ کو فتح کرتے ہیں— جو لوگ اس راز کو نہ جانیں وہ ملت کی تاریخ میں صرف قبرستانوں کا اضافہ کریں گے، وہ ملت کی عظمتوں کا مینار کھڑا کرنے والے نہیں بن سکتے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion