کل اور آج کا فرق
فرانس کے شہر رائن(Rouen) میں 1200ء اور1225ء کے درمیان چھ بار آگ لگی۔ ہر بار پورا شہر جل کر خاک ہوگیا۔ کیوں کہ اس وقت فرانس میں آگ بجھانے کا کوئی انتظام نہ تھا۔1200ء تک یورپ کے کسی شہر میں پختہ سڑکیں نہیں پائی جاتی تھیں۔ لوگ گھر کا کوڑا سڑکوں پر ڈال دیا کرتے تھے جس کی صفائی کے لیے کوئی سرکاری انتظام موجود نہ تھا۔ رات کے وقت کوئی آدمی گھر سے نکلتا تو وہ لالٹین لے کر نکلتا۔ کیوں کہ شہروں میں روشنی کا رواج نہ تھا۔ آج کی طرح پولیس کا انتظام نہ تھا۔ ہر شخص کو اپنی حفاظت خود کرنی پڑتی تھی۔ یہ دور جس کو ’’قرون وسطیٰ‘‘ کا دور کہا جاتا ہے، اس وقت یورپ کے شہروں میں بدنظمی عام تھی۔ مکانات معمولی مٹی کے ہوتے تھے۔ اس قسم کی تفصیلات پیش کرنے کے بعد عالمی انسائیکلوپیڈیا کا مقالہ نگار لکھتا ہے:
’’یہاں قرون وسطیٰ کے شہروں کی بابت جو کچھ لکھا گیا اس کا کوئی جزء اس شان دار تہذیب پرچسپاں نہیں ہوتا جو اس زمانہ میں مسلمانوں نے اسپین میں قائم کی تھی۔ مسلمانوں کا شہر قرطبہ قرون وسطیٰ میں یورپ کا سب سے بڑا شہر تھا، اس کے باشندے اعلیٰ ترین معیار زندگی پر فخر کر سکتے تھے جو یورپ میں کہیں بھی سیکڑوں برس تک موجود نہ تھا‘‘۔
World book Encyclopedia (1963) Vol.12 (M) p.429
مسلمان جو کسی وقت ساری دنیا میں سب سے آگے تھے، آج دنیا بھر میں سب سے پیچھے کیوں ہوگئے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ ان کے اندر تعمیری ذہن نہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان اگرچہ بہت بڑے پیمانہ پر سرگرمیاں دکھا رہے ہیں۔ مگر یہ سرگرمیاں منفی ذہن کی پیداوار ہیں ، نہ کہ مثبت ذہن کی پیداوار۔ دور اول کے مسلمانوں کو قرآن کے ایجابی فکر نے متحرک کیا تھا، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو جس چیز نے متحرک کیا ہے وہ صرف وہ شکایتیں ہیں جو ان کو دوسری قوموں سے پیدا ہوئی ہیں۔ شکایتی ذہن کے تحت کبھی تعمیری سرگرمیاں وجود میں نہیں آتیں۔ شکایت اور احتجاج کی زمین پر صرف شور وغل اور منفی ہنگاموں کی فصل اگتی ہے اور وہی آج بہت بڑے پیمانہ پر ہمارے یہاں اگی ہوئی ہے۔
