مزاجِ شریعت
اس آیت کے سلسلہ میں فقہا ء کے درمیان ضمنی اختلافات ہیں۔ تاہم یہ بات تمام فقہاء کے درمیان متفق علیہ ہے کہ اس کا تعلق اس مسئلہ سے ہے کہ طلاق واقع ہونے کے بعد وقتی طور پرسابق بیوی سے کیا سلوک کیا جائے۔ اس مسئلے سے اس آیت کا کوئی تعلق نہیں ہے کہ طلاق اور علاحدگی کی تکمیل کے باوجود مطلقہ عورت کو مرد کی طرف سے مستقل گزارہ (Maintenance)دیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ دوسرا تصور تمام تر جدید تہذیب کی پید اوار ہے۔ یہ تصور کبھی بھی الٰہی شریعت میں نہیں پایا گیا ہے۔ نہ اسلام میں اور نہ اسلام سے پہلے کی آسمانی شریعتوں میں ۔ مسلم فقہاءکے درمیان آیت کے عملی انطباق کے سلسلےمیں بہت کچھ جزئی اختلافات ہیں۔ مگر فقہاء میں سے کسی کی بھی یہ رائے نہیں ہے کہ اس آیت کے تحت مرد کے اوپر لازم ہے کہ وہ باقاعدہ طلاق واقع ہونے کے بعد بھی مستقل طور پر اپنی سابقہ بیوی کو گزارہ دیتا رہے۔ ایک شخص بطور خود اس قسم کا خیال ظاہر کر سکتا ہے۔ مگر قرآن یا حدیث کے اندر اس کے حق میں کوئی دلیل یا ماخذ موجود نہیں۔ اور نہ اسلامی فقہاء میں سے کسی بھی فقیہ کی یہ رائے ہے۔
اسلامی فقہ میں اسی لیے اس مُتعہ کو مُتعہ طلاق کہتے ہیں ، نہ کہ مُتعہ حیات ، یعنی وہ مُتعہ (کچھ مال) جو طلاق دے کر رخصت کرتے وقت عورت کو دیا جائے۔
قر آن ہر مسئلہ کو فطری انداز میں حل کرنا چاہتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ بات سراسر قرآنی روح کے خلاف ہے کہ جس مرد سے نباہ نہ ہونے کی بنا پر عورت کی جدائی ہوئی ہے اسی مرد سے اس عورت کا نفقہ دلوایا جائے۔ یہ چیز سماج میں منفی ذہنیت پیداکرنے کا ذریعہ بنے گی۔ چنانچہ قرآن میں نکاح وطلاق کے احکام کے ذیل میں ارشاد ہوا ہے:
وَإِنْ يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللهُ كُلًّا مِنْ سَعَتِهِ وَكَانَ اللهُ وَاسِعًا حَكِيمًا (4:130)۔ يعني اور اگردونوں جداہوجائیں تو اﷲ ہر ایک کو اپنی وسعت سے بے نیاز کردے گا اور اﷲ وسعت والا حکمت والاہے۔
اﷲکی وسعت سے مراد وہ وسیع فطری نظام ہے جوا ﷲتعالیٰ نے اس دنیا میں اپنے بندوں کے لیے مہیا کر رکھا ہے۔ عورت کو جب طلاق ہوجائے تو اس کے تمام خونی رشتوں میں فطری طور پر اس سے ہمدردی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ کسی دباؤ کے بغیر اس کی مدد اور سر پرستی کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں۔ خود عورت کے اندر نئی قوت ارادی ابھرتی ہے اور وہ اپنے مسئلہ کے حل کے لیے اکثر ایسے کام کر ڈالتی ہے جو اس نے اس سے پہلے سو چا بھی نہیں تھا۔ سابقہ تجربات اس کو زیادہ سمجھ دار اور محتاط بنادیتے ہیںاور اس طرح وہ اس قابل ہوجاتی ہے کہ اگر وہ دوبارہ کسی سے رشتہ نکاح میں منسلک ہوتوزیادہ کامیابی کے ساتھ رشتہ کو نباہ سکے۔ وغیرہ۔
