سیاق وسباق کی اہمیت

کسی بات کوصحیح طورپرسمجھنےکےلیے ضروری ہےکہ اس کے سیاق (context) کو سامنےرکھاجائے۔اس معاملہ کی اہمیت اتنی زیادہ ہےکہ اگر سیاق کوبدل دیا جائے تو سارا مفہوم ہی بدل جائےگا۔اس معاملہ کوسمجھنےکےلیے ایک مثال لیجیے۔راقم الحروف کی کتاب تذکیرالقرآن پرتبصرہ کرتےہوئےایک صاحب نے لکھاہے:

’’مولاناوحیدالدین کےنظریات سےاختلاف الگ بات ہے۔ اور مولانا کے اس نظریہ کوکہ ہندوستانی مسلمان ہندوستان میں بے مسائل (بےحقوق) ہوکررہیں گے تو انہیں اس ملک میں امن نصیب ہوگا،ورنہ نہیں ہوگا۔اس نظریہ کوآنے والامؤرخ پسپائی، ہزیمت اوربزدلی کےکون سےدرجہ میں رکھےگا،یہ وہی جانیں۔‘‘ (علماء دیوبند کی تفسیری خدمات، مولانا اخلاق حسین قاسمی صفحہ 49)۔

اس تنقیدی ریمارک میں میری عبارت نقل نہیں کی گئی ہے۔ بلکہ بطور خود کچھ الفاظ لکھ کر ان کومیرانظریہ قراردیاگیا ہے۔یہ طریقہ سراسرغیرعلمی ہے۔اس اقتباس میں میرا جو نظریہ بتایا گیا ہے وہ میرانظریہ ہی نہیں۔میرایہ کہناہےکہ مسلمان اس ملک میں داعی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور ان کےمقابلہ میں برادران وطن کی حیثيت مدعوکی ہے۔ یعنی مسلمانوں اور غیرمسلموں کےدرمیان جورشتہ ہےوہ قومی حریف کارشتہ نہیں ہےبلکہ وہ داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔

دوقوموں کےدرمیان اگرحریف اوررقیب کارشتہ ہوتواسی کے مطابق ان کےتعلقات قائم ہوں گے۔ایسی حالت میں اگر ایک قوم دوسری قوم کےخلاف اپنےدنیوی حقوق کےلیے احتجاج اورمطالبے کی مہم چلائےتووہ بالکل درست ہوگی۔مثلاً پسماندہ طبقہ کی طرف سےاونچی ذات کےلوگوں کےخلاف یامحنت کش طبقہ کی طرف سےسرمایہ دارطبقہ کے خلاف حقوق طلبی کی مہم۔ایسےکسی گروہ کےلیے اس قسم کی مہم چلانے کا معیار ان کے لیے صرف ملکی قانون اور ملکی دستور ہے اب چوں کہ ملکی قانون اور ملکی دستور اس قسم کی مہم کی اجازت دیتاہےاس لیے وہ ان گروہوں کےلیے جائز مہم قرار پائےگی۔

مگراہل اسلام کامعاملہ اس سےمختلف ہے۔اہل اسلام کےلیے صرف وہ مسلک درست ہے جو قرآن وسنت کے مطابق درست ہو اور وہ مسلک غلط ہےجوقران وسنت سے غلط قرار پائے۔ اس لحاظ سےدیکھاجائےتومعلوم ہوگاکہ قرآن وسنت کے معیار کے مطابق، اہل اسلام کی حیثیت داعی کی ہےاوربقیہ قوموں کی حیثيت مدعوکی۔ یہ تعلق بےحدنازک ہے۔ اس کامطلب یہ ہےکہ اہل اسلام کی حیثیت دینے والے گروہ (giver group) کی ہےاوردوسری قوموں کی حیثیت لینے والےگروہ(taker group) کی۔

داعی اورمدعوکےاس رشتہ کاتقاضا ہےکہ اہل اسلام اپنےمسائل کے لیے احتجاج اور مطالبات کاطریقہ نہ اختیارکریں، کیوں کہ اس سےداعی اورمدعوکےدرمیان دعوت کی معتدل فضاباقی نہیں رہتی۔اس نازک رشتہ کاتقاضا ہےکہ اہل اسلام اپنےمسائل کو خود اپنی کوشش سےحل کریں۔

اس وضاحت سےاندازہ ہوتاہےکہ راقم الحروف نےجوبات دعوت کےسیاق میں کہی تھی اس کواس کےسیاق سےہٹاکر دوسرےغیرمتعلق سیاق سے جوڑ دیا گیا۔اس طرح کلام کااصل منشاءبالکل بدل کررہ گیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion