سائنسی ترقیاں اور روحانی عقائد
موجودہ زمانہ میں سائنسی ترقیوں کے دو دور ہیں۔ ایک آئزک نیوٹن (1642-1727) سے لے کر البرٹ آئن سٹائن تک۔ اور دوسرا البرٹ آئن سٹائن (1879-1955) کے بعد۔
سائنسی ترقی کا تعلق مادی ترقی سے ہے۔ یعنی ان چیزوں کی ترقی سے جو ہر دیکھنے والے کو نظر آتی ہیں ۔ اس کے برعکس، روحانیت ایک ایسی چیز ہے جو دکھائی نہیں دیتی۔ سائنس کی دنیا مرئی ہے اور روحانیت کی دنیا غیر مرئی۔ نیوٹن کے بعد سائنس کا جو دور شروع ہوا اس میں بے شمار سائنسی ترقیاں ظہور میں آئیں۔ مادہ نے تبدیل ہو کر ایک پر رونق تہذیب کی صورت اختیار کرلی۔ اس کے مقابلہ ہیں روحانیت بدستور ایک غیر مرئی چیز بنی ہوئی تھی۔ ان حالات میں بہت سے لوگوں نے سمجھا کہ روحانیت ایک فرضی چیز ہے اور اس دنیا میں اصل وجو د صرف مادہ کا ہے ۔
مگر آئن سٹائن اور دوسرے سائنس دانوں کی تحقیقات نے اس نظریہ کوختم کر دیا۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ دنیا کی تمام چیزیں آخری طور پر جس چیز سے بنی ہیں وہ ایٹم ہے اور ایٹم ایک ٹھوس مادی ذرہ ہے جس کے مزید ٹکڑے نہیں کیے جا سکتے۔ جدید تحقیقات نے ایٹم کو توڑ دیا۔ اب معلوم ہوا کہ مادہ کوئی ٹھوس چیز نہیں ، وہ صرف ایک قسم کی منجمد توانائی ہے۔ مادہ کو جیسے ہی توڑا جاتا ہے وہ توانائی کی صورت اختیار کر لیتا ہے جس کا دیکھنا ممکن نہیں۔
ایٹم کے ٹوٹنے کے بعد اب مادہ خود بھی اسی طرح غیر مرئی ہو چکا ہے جس طرح اس سے پہلے روحانیت کو غیر مرئی سمجھا جا رہاتھا ۔ چنانچہ جدید سائنس داں یہ کہنے پر مجبور ہورہے ہیں کہ ہماری دنیا امکانات کی لہروں (waves of probabilities) ۔ کے سوا اور کچھ نہیں ۔
اس طرح جدید سائنسی ترقیوں نے ثابت کیا ہے کہ حقیقت اپنی آخری صورت میں غیر مرئی ہے۔ پہلے روحانیت اور مادیت دو الگ الگ چیزیں سمجھی جاتی تھیں۔ اب مادہ خود روحانیت میں تبدیل ہو گیا۔ سائنس اپنے ابتدائی مرحلہ میں روحانیت کی تردید کرتی ہوئی دکھائی دیتی تھی، مگر سائنس اپنے آخر می مرحلہ میں پہنچ کر روحانیت کی تصدیق کرنے والی بن گئی۔ اس نے روحانی حقیقت کو ہمیشہ سے زیادہ ثابت اور مضبوط بنا دیا۔
روحانی عقیدہ در اصل معنوی حقیقتوں میں یقین کرنے کا دوسرا نام ہے۔ روحانیت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی یہ سمجھے کہ انسانی وجود میں جسم سے زیادہ اہمیت روح کو حاصل ہے۔ مادی ترقیوں سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ اخلاقی قدروں کو ترقی حاصل ہو ۔ ظاہری رونقوں سے زیادہ بڑی چیز یہ ہے کہ انسان کو اندرونی سکون ملے۔ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو دکھائی نہیں دیتیں اور سائنس کے پہلے دور میں نہ دکھائی دینے والی چیزیں غیر واقعی سمجھی جانے لگی تھیں۔ اس بنا پر یہ سمجھ لیا گیا کہ سائنس اور روحانیت میں کوئی جوڑ نہیں ہے ۔ مگر اب جب کہ سائنس خود بھی ایک قسم کا روحانی علم بن چکا ہے، روحانیت کے بارے میں اس قسم کا خیال قائم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ۔
یہ سائنس اور روحانیت کا نظریاتی پہلو تھا۔ اب اس موضوع کے عملی پہلو کو دیکھئے۔ یہاں بھی بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنس اور روحانیت میں ٹکراؤ ہے۔ دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ مگر یہ بات روحانیت کے غلط تصور کی پیدا کی ہوئی ہے۔ روحانیت کا صحیح تصور سامنے رکھا جائے تو سائنس اور روحانیت میں دوبارہ کوئی ٹکرا و باقی نہیں رہتا۔
1961میں نئی دہلی میں ایک بین الاقوامی صنعتی نمائش ہوئی تھی۔ اس نمائش کو دیکھنے والوں میں میں بھی شامل تھا۔ اس موقع پر ہر ملک نے اپنی اپنی صنعتی ترقیاں دکھائی تھیں۔ امریکی پویلین سب سے زیادہ زائرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس کی وجہ وہ جدید طرز کی کارتھی جس کو ’’ہوائی موٹر کار‘‘ کہا جاتا تھا ۔
میں اور دوسرے بہت سے لوگ ایک خاص میدان میں جمع تھے۔ اتنے میں ایک کاربر آمد ہوئی۔ ڈرائیور نے پہلے اس کو زمین پر عام کار کی طرح چلا یا۔ اس کے بعد کا راوپر اٹھی اور سطح زمین سے تقریباً چارفٹ بلند ہو کر چلنے لگی۔ اس طرح اس نے میدان کے چاروں طرف گول دائرہ میں چند چکر لگائے اور پھر نیچے آگئی۔
بتا یا گیا کہ اس کار کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اوپر سے ہوا لے کر تیزی سے نیچے کی طرف پھینکتی ہے۔ یہاں تک کہ کار اور سطح زمین کے درمیان ایک طاقت ور ہوائی گدا بن جاتا ہے۔ کار اس ہوائی گدے پر تیرتی ہوئی چلتی ہے جس طرح کشتی پانی میں تیرتی ہوئی چلتی ہے۔
اس انوکھی کا رکو دیکھنے والوں میں ایک نوجوان سادھو بھی تھا۔ گیر وے کپڑے میں ملبوس اور لمبے بکھرے ہوئے بالوں والا یہ نوجوان 20 منٹ تک امریکی کار کو دیکھتا رہا۔ اس کی محویت کو دیکھ کر ایک اخباری نمائندہ نے اس سے اس کا تاثر پوچھا۔ اس کا جواب یہ تھا:
’’ اس کو دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ وہ یہ کہ کیا میں تیاگ کی زندگی کو چھوڑ کر مادی ترقیوں کی دنیا میں اپنے حوصلے کی تسکین تلاش کروں۔ اس نمائش نے مجھے اس سوچ میں ڈال دیا ہے کہ روحانی اور مادی دونوں دنیاؤں میں سے کون سی دنیا ہے جس کو میں اپنے لیے زیادہ بہتر سمجھ کر اس کو اختیار کروں ‘‘( ہندستان ٹائمس، 20 فروری 1961)۔
اس طرح کے واقعات سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا سائنسی ترقی اور روحانیت کے درمیان ٹکراؤ ہے۔ ایک چیز کو لینا اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی دوسری چیز کو چھوڑ دے ۔ مگر اس کا انحصار اس پر ہے کہ آپ روحانیت کے کیا معنی لیتے ہیں۔ اگر روحانیت کا مطلب یہ ہو کہ آدمی دنیا کو چھوڑ کر جنگلوں اور پہاڑوں میں چلا جائے اور دنیا کی چیزوں سے کوئی مطلب نہ رکھے تو البتہ سائنس اور روحانیت دو متضاد چیزیں معلوم ہوں گی ۔
لیکن اگر روحانیت کا دوسرا مطلب لیا جائے تو سائنس اور روحانیت کے درمیان کوئی ٹکراؤ باقی نہیں رہتا۔ روحانیت کا دوسرا مطلب ہے— روح اور نفس کی پاکیزگی۔ اس دوسرے اعتبار سے روحانیت حسن تعلق کا نام ہے نہ کہ ترک تعلق کا۔
روحانیت سائنس کا الٹالفظ نہیں ہے بلکہ مادیت کا الٹا لفظ ہے۔ روحانی آدمی غیر مادی ہوتا ہے، نہ کہ غیر سائنسی ۔ روحانیت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی مادی چیزوں میں نہ جیتا ہو بلکہ روحانی چیزوں میں جیتا ہو۔ اس کی ایک ذہنی زندگی ہو جس کو اس سے کوئی چھین نہ سکتا ہو۔ اس کو ایک قلبی سکون حاصل ہو جو ظاہری نفع یا نقصان سے بے نیاز ہو۔ اس نے فکر کی سطح پر کوئی ایسی چیز پائی ہو جو اس کو دوسری تمام چیزوں سے اعلیٰ نظر آئے۔ وہ اپنے آپ پر قائم ہو، نہ کہ اپنے سے باہر کی مادی چیزوں پر۔
موجودہ دنیا میں ہر آدمی ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے ۔ ایک مادیت اور دوسرے روحانیت۔ کوئی بھی شخص ان دو چیزوں سے خالی نہیں۔ دونوں ہی چیزیں ہر آدمی کی لازمی ضرورت ہیں۔ اب سوال صرف یہ ہے کہ دونوں میں سے کس چیز کو اوّلین اہمیت دی جائے اور کس کو ثانوی درجہ میں رکھا جائے۔ جو شخص مادی چیزوں کو دوسرا درجہ دے اور روحانیت کو پہلے درجہ میں رکھے اس کا نام روحانی آدمی ہے ۔ اور جو شخص اس کے بر عکس کرے وہ مادی آدمی۔
اس کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روحانیت کو آدمی کی زندگی میں مقصد کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے۔ اور جو مادی چیزیں ہیں وہ ضرورت کے خانہ میں چلی جاتی ہیں۔ اس سے سائنسی ترقیاں رکتی نہیں۔ وہ بدستور جاری رہتی ہیں۔ البتہ سائنسی یا مادی ترقیوں کو بذات خود مقصد سمجھ لینےسے سماج میں جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ روحانیت آدمی کو ذہنی اور اخلاقی صحت عطا کرتی ہے۔ مادی خوراک سے آدمی کا جسم تندرست ہوتا ہے اور روحانی خوراک سے آدمی کے ذہن وفکر کو تندرستی حاصل ہوتی ہے۔
عام آدمی کے لیے مادی چیزیں مقصد ہوتی ہیں اور روحانی آدمی کے لیے ضرورت۔ نقطۂ نظر کایہ فرق دونوں کی زندگیوں میں زبر دست فرق پیدا کر دیتا ہے۔
اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ روحانی آدمی کے اندر مادی نقصان کو بر داشت کرنے کی بے پناہ طاقت آجاتی ہے۔ موجودہ دنیا مقابلہ اور حادثات کی دنیا ہے۔ یہاں بار بار مختلف قسم کے نقصانات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ اب جو شخص مادی چیزوں کو اپنا مقصد سمجھ رہا ہو وہ نقصان کو دیکھ کر گھبر اٹھتا ہے اس کے اندر سخت جنجھلاہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ حتی کہ بعض اوقات وہ خود کشی کر لیتا ہے۔ مگر روحانی آدمی اس قسم کی ناخوش گوار یوں کو آسانی سے جھیل لیتا ہے ۔ کیوں کہ مادی نقصان کے بعد بھی اس کے پاس ایک اعلیٰ چیز موجود رہتی ہے جس کے سہارے وہ جی سکے۔
اس طرح روحانی آدمی اس سب سے بڑی برائی سے خالی ہوتا ہے جس کو گھمنڈ کہا جاتا ہے۔ گھمنڈ ہمیشہ مادی چیزوں کے بل پر پیدا ہوتا ہے۔ لوگ چوں کہ مادی چیزوں کو سب سے بڑی چیز سمجھتے ہیں اس لیے وہ ان کو پاکر گھمنڈ میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ انسانوں کو مادی ساز وسامان سے ناپتے ہیں۔ اس لیے جس شخص کے پاس مادی سازوسامان کم ہو اس کو نیچا خیال کرتے ہیں۔ اور جس شخص کے پاس مادی ساز و سامان زیادہ ہو اس کی بابت ان کا خیال ہو جاتا ہے کہ وہ اونچا آدمی ہے ۔ اس سے گھمنڈ کا جذبہ ابھرتاہے اور انسانوں کے درمیان مصنوعی اونچ نیچ کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔
مگر روحانی آدمی مادی چیزوں کو دوسرے درجہ کی چیز سمجھتا ہے۔ وہ ان کو اپنا خادم سمجھتا ہے نہ کہ اپنا آقا۔ اس بنا پر وہ مذکورہ قسم کی نفسیات سے بچا رہتا ہے۔ نہ مادی سامان زیادہ ہونے کی بنا پر وہ اپنے کو اونچا سمجھتا۔ اور نہ ایسا ہوتا کہ جس کے پاس مادی چیزوں کی کمی ہو اس کو وہ حقیر اور نیچا سمجھنے لگے۔ روحانیت آدمی کو اپنے لیے بھی بہتر بنا دیتی ہے اور دوسروں کے لیے بھی۔
__________________________________________
نوٹ : 20 اکتوبر 1984 کو آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کیا گیا۔
