کرنے کا کام
یہ 1920 کا زمانہ ہے جب کہ خلافت اور ترک موالات کی تحریک شروع ہوچکی ہے اور تمام بڑے بڑے مسلمان لیڈر سرگرمیوں کے آسمان پر نظر آتے ہیں۔ اس زمانہ میں مولانا ابو الکلام آزاد اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں۔
مجھے کس قدر حیرت ہوئی جب میں نے رابندر ناتھ ٹیگور کا ایک آرٹیکل د (فلاسفی آف انڈین ہسٹری) دیکھا جو ماڈرن ریویو میں نکلا تھا۔ اس میں وہ اس بات کی مثال دیتے ہوئے کہ مذہب کے بڑے آدمی خود معبود بن گئے ہیں۔ کرشن ، مسیح اور چیتن کے ساتھ محمد کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ یعنی کرشن اور مسیحی کی طرح محمد کی بھی پرستش مسلمانوں کے یہاں ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ ہندستان کا عظیم الشان شاعر جو امریکہ کی سیاحت سے واپس آرہا ہے اسے ان لوگوں کا ایک مشہور عقیدہ بھی نہیں معلوم جو خود اس کے اپنے گھر میں بستے ہیں۔ مسلمانوں کے اعتقاد میں جو انسان محمد یا کسی اور انسان کو معبود سمجھے وہ مسلمان باقی نہیں رہتا۔ ایک دہقانی مسلمان بھی جانتا ہے کہ اس کا پیغمبر انسان تھا۔ اسلام کا اصل مشن انسانی پرستش کو مٹا دینا ہے ۔ اسی طرجب میں بنکم چندر چٹرجی کے تاریخی ناول دیکھتا ہوں تو ہندستان کی اسلامی تاریخ سے ان کی بے خبری دیکھ کر منتخب ہو کر رہ جاتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ مسلمانوں کے مذہب اور تاریخ سے ایک ہندو اتنا ہی نا واقف ہے جتنا کہ ایک امریکن ۔ (ذکر آزاد ۔ از مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی) ۔
مولانا ابو الکلام آزاد نے ٹیگور اور چٹرجی جیسے لوگوں پر تعجب کیا ہے ۔ حالانکہ اصل تعجب کے قابل خود مولانا آزاد اور ان کے جیسے دوسرے اکابر ہیں، جو آزادی وطن اور قومی حکومت جیسے مقاصد کے لیے زندگی بھر سرگرم رہے۔ ان کی سمجھ میں یہ نہ آیا کہ اصل کام اسلام کے صحیح تعارف کا ہے، نہ کہ آزادی اور قومیت کا جھنڈا بلند کرنے کا ۔
آج کا انسان اس مذہب کی تلاش میں ہے جس میں انسان کو خدا نہ بنایا گیا ہو۔ جس میں خدا کو خدا کی جگہ رکھا گیا ہو اور انسان کو انسان کی جگہ۔ مگر یہی وہ کام ہے جس کو مجاہدین اسلام میں سے کوئی بھی کرنے کے لیے نہیں اٹھتا۔
دنیا اگر خدا کے سچے دین سے بے خبر ہے تو سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کی ذمہ داری کس کے اوپر ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر نہیں ہے جو بے خبر ہیں۔ بلکہ اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہے جو اس سے باخبر تھے مگر انھوں نے بے خبروں کو خبر دار نہ کیا۔
دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ کو محوری طاقتوں کے مقابلہ میں کامیابی حاصل ہوئی۔ مگر ’’ فریم ایٹ مڈ نائٹ‘‘ کے مصنف کے الفاظ میں جنگ کے بعد برطانیہ کے پاس اتنا تیل بھی نہ تھاکہ وہ اپنی فتح کی خوشی میں چراغ جلا سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ میں فتح پانے کے باوجود وہاں یہ انقلاب آیا کہ ایک طرف اندرونی طور پر فاتح چرچل کی حکومت ختم ہو گئی اور دوسری طرف برطانیہ کو اپنے نو آبادیاتی علاقوں کو آزادی دینے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔
یہی معاملہ فرد کے لیے بھی ہے اور یہی قوم کے لیے بھی۔ جنگ ہتھیاروں سے لڑی جاتی ہے۔ مگر ہتھیار صرف تباہی لاتے ہیں، وہ بھی کوئی صالح نتیجہ پیدا نہیں کرتے۔ ہتھیار کی طاقت کا حصول ہمیشہ اپنی بربادی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ مزید اس اضافہ کے ساتھ کہ ہتھیاروں کے ذریعہ جیتنے والابھی اتناہی ہارتا ہے جتنا ہارنے والا۔ کیوں کہ جب لڑائی ختم ہوتی ہے تو دونوں فریق تباہ ہو چکے ہوتے ہیں۔
مگر یہاں ایک اور ہتھیار ہے۔ اس کی طاقت زیادہ ہے اور اس کی فتح بھی یقینی۔ یہ ہے ایمان ویقین کی طاقت۔ اخلاق وانسانیت کی طاقت، اصول و نظریات کی طاقت۔ اس کی قوت بے پناہ ہے۔ اس کی مار ہمیشہ بے خطا ہوتی ہے۔ اس سے آدمی کے اندر وہ ہمت پیدا ہوتی ہے کہ بظا ہر خالی ہاتھ ہوکر بھی اپنے حریف سے کامیاب مقابلہ کر سکے ۔ یہ ایک ایسی تسخیری قوت ہے جو دشمن کو اپنا دوست بنا لیتی ہے ، جو غیر کو اپنے اثاثہ میں شامل کر لیتی ہے۔
جنگ و مقابلہ کے طریقہ میں ہتھیار استعمال ہوتے ہیں اور ایمان اور اخلاق کے طریقہ میں صبر بے ہتھیار والی لڑائی کا ہتھیار ہے۔ عام طور پر ایسا ہے کہ جب کسی کی طرف سے کوئی نا پسندیدہ بات سامنے آتی ہے تو آدمی صرف ایک بات سوچتا ہے۔ ’’ یہ ہمارا مخالف ہے اس کو کچل ڈالو۔ اور پھر ہر ایک اپنی طاقت اور حالات کے بقدر دوسرے کو کچلنے کی کارروائی شروع کر دیتا ہے۔ مگر یہ انسان کے امکانات کا بہت ناقص اندازہ ہے۔ خدا نے انسان کی نفسیات میں بے حد لچک رکھی ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ انسان بھی ایک حالت پر قائم نہیں رہتا۔ وہ ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ اسی لیے قرآن و حدیث میں صبر کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ صبر کسی بے عملی کا نام نہیں ۔ صبر کا مطلب وقتی تلخیوں کو برداشت کر کے مستقبل کے انسان کا انتظار کرنا ہے۔ ہر آدمی کے اندر ہمیشہ ایک اور انسان چھپا ہوا ہوتا ہے۔ اور صابرانہ طریقہ اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس آنے والے وقت کو آنے کا موقع دیا جائے جب کہ آج کے انسان کے اندر چھپا ہوا کل کا انسان بر آمد ہو جائے۔
