یہ تھا مشرکین عرب کا کردار

1۔نبی ﷺ کی بعثت (610) ہوئی تو ایران کی ساسانی سلطنت اور روم کی بازنطینی سلطنت کے درمیان تصادم جاری تھا۔ اس دوطرفہ جنگ میں تقریباً بیس سال گزر گئے۔ ابتداء ًایرانیوں کو غلبہ حاصل ہوا۔ 615 تک رومی سلطنت کے تقریباً تمام شمالی مقبوضات اردن، شام ، فلسطین، عراق، مصر، سب ایرانیوں کے قبضہ میں چلے گئے۔

یہ ٹھیک وہی وقت تھا جب کہ مکہ میں اسلام اور غیر اسلام کے درمیان کش مکش جاری تھی۔ یہ کشمکش اتنی شدید ہو چکی تھی کہ 615 میں مکہ کے مسلمانوں کی بڑی تعداد کو اپنا وطن چھوڑ کر پڑوسی ملک حبش چلا جانا پڑا۔ ایسے حالات میں اہل کتاب رومیوں کے مقابلہ میں بت پرست ایرانیوں کی فتح۔ مکہ والوں کے لیے گفتگو کا خصوصی موضوع بن گئی۔ مشرکین نے مسلمانوں سے کہا کہ جس طرح پڑوس کے ملکوں میں بت پرست لوگ آسمانی کتاب کے حاملین پر غالب آئے ہیں، اسی طرح ہم بھی تمہارے اوپر غالب آ جائیں گے۔ عین اس وقت قرآن کی سورہ نمبر 30 اتری اور اعلان کیا گیا کہ چند سالوں کے بعد دوبارہ انقلاب آئے گا اور رومی سلطنت ایرانیوں کے اوپر غالب آ جائے گی۔

سورہ روم کی یہ آیتیں مکہ والوں کے لیے مذاق کا نیا موضوع بن گئیں۔ ابی بن خلف نے حضرت ابوبکر صدیق سے کہا کہ ایساکبھی نہیں ہو سکتا۔ اور اگر تم کو یقین ہے کہ ایسا ہی ہو گا تو آؤ مجھ سے شرط کر لو۔ اس نے اپنی طرف سے یہ شرط رکھی کہ رومی اگر تین سال کے اندر غالب آگئے تو میں دس اونٹ تمہیں دوں گا۔ اور اگر اس کے خلاف ہوا تو تم دس اونٹ مجھے دینا۔ نبی ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ قرآن میں بِضْعَ سِنِينَ کا لفظ ہے اور عربی میں بضع کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے۔ اس لیے دس کے اندر کی شرط کرو اور اونٹوں کی تعداد بڑھا کر ایک سو کر دو۔ حضرت ابوبکر نے دوبارہ آ کر ابی بن خلف سے یہ بات کہی۔ وہ راضی ہو گیا۔ کہ دس سال کے اندر دونوں میں سے جس کی بات غلط ثابت ہو گی وہ دوسرے فریق کو سو اونٹ دے گا۔

قرآن کی پیشین گوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی۔ نو سال بعد قیصر روم نے 624 میں ایرانیوں کو نینویٰ (عراق کے مقام پر فیصلہ کن شکستدی اور اپنے تمام چھینے ہوئے علاقے ایرانیوں سے واپس لے لیے)۔

اس مدت میں مکہ کی کش مکش اس نوبت کو پہنچ چکی تھی کہ نبی ﷺ اور آپ کے تمام ساتھی مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ دونوں فریقوں کے درمیان کشمکش اس شدید نوبت کو پہنچی کہ 624 میں جنگ بدر واقع ہوئی۔ اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح ہوئی، اور مشرکین مکہ کے اکثر بڑے بڑے سردار مارے گئے۔

اس سخت ترین ہیجانی فضا میں رومیوں کے غلبہ کی خبر آتی ہے۔ بدر کی شکست نے مکہ والوں کی دشمنی کو جنون کی حد تک پہنچا دیا تھا۔ مگر حضرت ابو بکر نے جب ابی بن خلف کے پاس پیغام بھیجا کہ ہماری بات پوری ہو گئی ، اس لیے شرط کے مطابق مجھے ایک سو اونٹ ادا کر دو، تو مکہ میں کسی نے مخالفت نہ کی، اور ابی بن خلف نے کسی قسم کی تکرار کے بغیر پورے ایک سو اونٹ ابوبکر صدیق کے پاس بھیج دیے۔ جب یہ اونٹ مدینہ پہنچے تو نبی ﷺ نے حضرت ابوبکر کو حکم دیا کہ ان کو صدقہ کر دو۔

سخت ترین دشمنی کے باوجود مشرکین عرب اس بات سے ناواقف تھے کہ شرط کے مطابق اپنے حریف کو ایک سو اونٹ نہ دینے کے فرضی بہانے تلاش کریں۔ یا ان کی تعداد میں کمی کرنے کی کوشش کریں۔ وہ ایک ہی بات جانتے تھے : جو بات طے ہو گئی ہے اس کو پورا کرنا ہے۔ خواہ وہ اپنے دوست کے ساتھ ہو یا دشمن کے ساتھ۔

2۔صلح حدیبیہ کے بعد ذی الحجہ 6ھ میں آپ نے ارادہ فرمایا کہ امرا اور سلاطین کے نام دعوتی خطوط بھیجے جائیں۔ اس سلسلے میں تقریباً ایک ماہ ضروری تیاری میں صرف ہوا۔ اور محرم 7ھ میں آپ نے 8 بادشاہوں کے نام اپنے سفیروں کے ذریعہ خطوط روانہ کیے۔ انہیں میں سے ایک خط ہرقل قیصر روم کے نام تھاجس کی سلطنت اس وقت شام سے لے کر قسطنطنیہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے پاس دحیہ کلبی خط لے کر گئے۔ ہر قل کو اس زمانہ میں ایران کے مقابلہ میں فتح حاصل ہوئی تھی اوراپنی نذر کے مطابق پیدل چل کر فلسطین آیا ہوا تھا۔ ہرقل کی خدمت میں آپ کا خط پیش کیا گیا تو اس نے حکم دیا کہ اس علاقہ میں عرب کا کوئی شخص آیا ہو تو اس کو میرے سامنے پیش کرو۔ اتفاق سے ابو سفیان (جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے اور ابوجہل کے بعد مشرکین مکہ کے سب سے بڑے لیڈر تھے) اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ بغرض تجارت شام آئے ہوئے تھے۔ ان کو ڈھونڈ کر لایا گیا۔ قیصر نے کہا، تمہارے یہاں جس آدمی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، میں اس کی بابت تم سے سوال کروں گا۔ تم اپنے علم کے مطابق اس کا جواب دو۔

اس موقع پر ہر قل اور ابوسفیان کے درمیان جو گفتگو ہوئی، وہ سیرت کی تمام کتابوں میں موجود ہے۔ اس وقت محمد ﷺ ابوسفیان کے نزدیک ان کے سب سے بڑے دشمن تھے۔ وہ آپ کو مکمل طور پر ختم کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے۔ مگر ساری گفتگو میں ابوسفیان نے ایک بھی غلط بات نہیں کی: چند سوال و جواب یہ تھے:

ہرقل           :       محمد کا نسب کیسا ہے۔

ابوسفیان         :       شریف و عظیم۔

ہرقل           :       کیا اس شخص پر کبھی جھوٹ بولنے کی تہمت لگائی گئی۔

ابوسفیان         :       کبھی نہیں۔

ہرقل           :       ان کے ماننے والوں کی تعداد گھٹ رہی ہے یا بڑھ رہی

ہے۔

ا بوسفیان         :       بڑھ رہی ہے۔

 ہرقل          :       وہ کس بات کی تعلیم دیتے ہیں۔

 ابوسفیان        :       وہ توحید اور حسن اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔

 ہرقل          :       کیا وہ عہد کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں۔

 ابو سفیان        :       نہیں ۔

ابو سفیان کہتے ہیں کہ میں نے کسی سوال کے جواب میں غلط بیانی نہیں کی اور نہ طعن کیا۔ مجھے اندیشہ تھاکہ میرے ساتھی مجھے جھوٹا کہیں گے۔ صرف آخری سوال کے جواب میں وہ اتنااضافہ کر سکے ’’امسال ہمارے اور ان کے درمیان ایک معاہدہ (حدیبیہ) ہوا ہے، دیکھیے اس میں وہ کیا کرتے ہیں‘‘ ۔

اس سوال و جواب کے وقت ابو سفیان اور ان کے ساتھی مشرک تھے اور سب کو نبی ﷺ کے ساتھ سخت ترین دشمنی تھی۔ مگر ان کو یہ گوارا نہ تھا کہ آپ کے بارے میں کوئی غلط بیان دیں یا آپ کو مطعون کرنے کی کوشش کریں۔

3۔ نبوت کے دسویں سال آپ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہو گیا۔ اب خاندانی رسم کے مطابق عبدالعزیٰ (ابو لہب) بنی ہاشم کا سردار منتخب ہوا جو اس وقت خاندان کا سب سے بزرگ آدمی تھا۔ ابو لہب آپ کے خاندان میں آپ کا سب سے بڑا دشمن تھا۔ شعب ابی طالب کے مقاطعہ کے زمانہ میں سارے خاندان بنی ہاشم نے آپ کا ساتھ دیا تھا۔ صرف ایک ابو لہب تھا جو آپ سے الگ رہا۔ اب جب کہ ابو لہب کو خاندان کے سردار کا مقام بھی مل گیا، اس نے آپ کو خاندان سے خارج کر دیا۔

خاندان سے خارج کیا جانا قدیم عرب میں بدترین سزا تھی۔ اس کے بعد آدمی بالکل تنہا ہو جاتا تھا۔ جب کہ قبائلی نظام میں خاندانی پناہ کے سوا کوئی پناہ نہ تھی جس کے تحت آدمی محفوظ طور پر اپنی زندگی گزار سکے ۔ چنانچہ اس کے بعد مکہ میں لوگوں کی مخالفتیں بہت بڑھ گئیں۔ اس سے پہلے زیادہ تر زبانی طنز و تشنیع کا مقابلہ کرنا پڑتا تھا۔ اب جارحانہ قسم کی سختیاں شروع ہو گئیں ۔ یہ حالات دیکھ کر آپ نے ارادہ کیا کہ عرب کے دوسرے بڑے شہر طائف جائیں اور وہاں کے لوگوں سے پناہ کی درخواست کریں۔

آپ مکہ سے پیدل چل کر طائف پہنچے جو مکہ کے جنوب مشرق میں 65 میل پر واقع تھا۔ امید کے خلاف وہاں کے لوگوں نے بہت برابر تاؤ کیا۔ نہ صرف یہ کہ آپ کو پناہ دینے پر تیار نہ ہوئے بلکہ آپ کو پتھر مار مار کر بستی سے نکل جانے پر مجبور کر دیا۔ حتٰی کہ آپ کو وہاں کے لوگوں سے کہنا پڑا کہ دیکھو یہ خبریں مکہ نہ پہنچنے پائیں۔ ایک طرف اپنے وطن مکہ میں زمین کا تنگ ہو جانا، دوسرے طائف والوں کا وحشیانہ سلوک، ان واقعات نے آپ پر شدت سے اثر کیا۔ طائف سے واپسی پر آپ نے اپنے رب سے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے:

اللَّهُمَّ إلَيْكَ أَشْكُو ‌ضَعْفَ ‌قُوَّتِي، وَقِلَّةَ حِيلَتِي، وَهَوَانِي عَلَى النَّاسِ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ خدایا میں تجھی سے اپنی قوت کی کمی اور اپنی بے سروسامانی اور لوگوں کی نظر میں حقیر ہونے کی شکایت کرتا ہوں۔ (سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 48)

طائف سے واپسی کے بعد کوئی دوسری جگہ نہ تھی جہاں آپ جائیں۔ چونکہ مکہ سے نکالے ہوئے ایک شخص کو پناہ دینے کا کام طائف جیسے بڑے شہر کا کوئی سردار ہی کر سکتا تھا۔ مجبوراً آپ نے دوبارہ مکہ کارخ کیا اور شہر کے باہر غار حرا میں اپنے خادم زید بن حارثہ کے ساتھ مقیم ہوئے۔ اب سوال یہ تھا کہ کیا کریں۔ چند روز کے غور و فکر کے بعد آپ نے مکہ کے ایک سردار مطعم بن عدی کے پاس پیغام بھیجا کہ میں غار حرا میں ٹھہرا ہوا ہوں۔ تم مجھ کو اپنی پناہ میں لے لو۔ تاکہ مکہ میں آ کر رہ سکوں۔ مطعم ایک کافر تھا اور بدر سے پہلے کفر ہی کی حالت میں انتقال ہوا۔ نبی ﷺ اس وقت اس کے قومی دشمن کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر جب آپ نے اس سے حفاظت طلب کی تو اس کے لیے ناممکن ہو گیا کہ وہ آپ کو اپنی حفاظت میں لینے سے انکار کر دے۔ اس کے چھ جوان لڑ کے تھے۔ اس نے تمام لڑکوں کو حکم دیا کہ تم تلوار لے کر جاؤ اور محمد کو اپنی حفاظت میں مکہ لے آؤ۔ چنانچہ اس کے یہ لڑ کے غار حرا پہنچے اور ان کی تلواروں کے سایہ میں آپ دوبارہ مکہ میں داخل ہوئے۔ مکہ میں آکر آپ نے سب سے پہلے کعبہ کا طواف کیا، جب آپ طواف میں مشغول تھے تو مطعم بن عدی نے دروازہ پرکھڑے ہو کر اعلان کیا:

’’ میں نے محمد کو پناہ دی ہے، خبردار کوئی انہیں تکلیف نہ پہنچائے‘‘

مطعم بن عدی ایک کافر و مشرک تھا۔ نیز آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا مگر جب آپ نے اس سے پناہ طلب کی تو اس کے لیے ناممکن ہو گیا کہ آپ کو پناہ دینے سے انکار کر دے۔ یہ تھا کردار ان لوگوں کا جو مشرک و کافر کہے جاتے ہیں۔

عرب کے مشرکین نے پیغمبر اسلام ﷺ کے مشن کی شدید مخالفت کی لڑائیاں لڑیں۔ آپ کو اپنے وطن سے نکالا۔ مگر انہوں نے کبھی آپ کے خلاف کوئی ذلیل حرکت نہیں کی۔ آپ کو اپنے مخالفین کی طرف سے ذلیل اور رکیک حرکتوں کا تجربہ صرف ہجرت کے بعد ہوا جب کہ آپ کا سابقہ یہود کے ساتھ پیش آیا جو کتابِ الٰہی کے حامل تھے، جو اپنے کو نبیوں کاوارث کہتے تھے، جو گویا اس وقت کے ’’مسلمان‘‘ تھے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion