شہرت بوجھ بن گئی
فر انس کی سینما کی تاریخ میں جس خاتون نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی وہ’’ بی بی ‘‘ (Brigitte Bardot) ہے۔ وہ 1934 میں پیدا ہوئی۔ فلمی دنیا میں بعض اعتبار سے اس نے میر یلین مونر و اور مارلین ڈٹر چ سے بھی زیادہ بڑا مقام حاصل کیا۔ جو ن آف آرک کے بعد وہ فر انس کی سب سے زیادہ شہرت یافتہ خاتون شمار ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ’’ بی بی ‘‘ کے ذریعہ باہر کی جو دولت فرانسس میں آئی وہ اس سے بھی زیادہ ہے جو مشہور رینالٹ (Renault) موٹر کمپنی کے ذریعہ فرانس میں آئی۔ٹونی کر الی نے 1958 کے آخر میں اندازہ لگایا تھا کہ اس کی تصویر یں یو رپ اور امریکا کے جرائد کے صفحہ اوّل پر 29345 بار چھپ چکی ہیں۔ (ریڈ رز ڈائجسٹ مئی 1986)
’’ بی بی ‘‘ کی فلم پر فلم بنتی رہی۔ اس کی مقبولیت اتنی بڑھی کہ بعض اوقات وہ اپنے گھر سے نکلنے میں صرف اس لیے کامیاب نہ ہوسکی کہ اس کے گھر کے باہر فوٹو گرافروں کی نا قابل عبور فوج کھڑی ہوئی تھی۔ اس کے نا م روزانہ اتنے زیادہ خطوط آتے تھے کہ ان کی منتخب تعداد کو پڑھنا بھی اس کے لیے ناممکن تھا۔
ان تما م ظاہری رونقوں کے باوجود اندر سے وہ سخت غیر مطمئن تھی حتیٰ کہ ا س کی شہرت اس کے لیے ایک بوجھ بن گئی۔ اس نے خود کشی کے ارادہ سے ایک رات بہت زیادہ مقدار میں خواب آور گولیا ں کھا لیں
One night, worn out by her own fame, Brigitte swallowed an overdose of tranquillizers.
تاہم وہ مرنہ سکی۔ اس وقت بھی جب کہ و ہ نازک حالت میں پیرس کے ایک اسپتال میں لے جائی جارہی تھی ، فوٹو گرافروں نے ایمبولنس کار کو زبردستی راستہ میں روکا تا کہ وہ اس کا فوٹو لے سکیں۔ ’’بی بی ‘‘ کے بارے میں ایک رپورٹ میں اس کا تاثر بتایا گیا تھا کہ کیمرہ کے سامنے اس نے کبھی سکون محسوس نہیں کیا:
She never really felt at ease in front of the camera.
39 سال کی عمر میں جب کہ وہ تقریباً پچاس کا میاب فلمیں بنا چکی تھی، اس نے اچانک اپنا کیریر ختم کردیا۔ وہ فلمی دنیا سے بالکل بے تعلق ہوگئی۔ اس نے اپنی شاندار رولس رائس کار فروخت کردی اور اپنے مکان میں تنہار ہنے لگی جہاں وہ ایک معمولی انسان کی طرح خاموش زندگی گزارسکے :
"She sold her Rolls-Royce and went to live alone in her house on the Riviera," to cease to be considered a beautiful object and become a human being like any other." she said.
حقیقت یہ ہے کہ گھر کے با ہر کی دنیا میں ہیر وبننا اور ہر طر ف شہرت حاصل کرنا عورت کی فطرت کے سراسر خلاف ہے۔ عورت فطری طور پر خانہ پسند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مصنوعی میدانوں میں شہرت پانے والی عورتیں اپنے کیر یر کے درمیان میں یا اس کے آخر میں خانہ نشیں ہوجاتی ہیں۔ وقتی چمک دمک کے بعد بالآ خر ان کو جہاں سکون ملتا ہے وہ ان کا گھر هے، نہ کہ ان کا با ہر۔
عورت کے بارے میں اسلام کا قانون عورت کی اسی فطرت کی رعایت ہے، نہ کہ عورت کے اوپر کوئی ظلم۔ وہ مقام جہاں ایک عورت نا کام تجربہ کے بعد پہنچتی ہے، اسلام چاہتا ہے کہ وہ اپنے آزاد ارادہ کے تحت خود اپنے انتخاب کے ذریعہ وہاں پہنچے۔
