دوخواتین

  • سَمِعْتُ ‌عَلِيًّا بِالْكُوفَةِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا ‌خَدِيجَةُ ‌بِنْتُ ‌خُوَيْلِدٍ(صحيح مسلم، حديث نمبر2430) ۔حضرت علی سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا:اُن کی سب سے بہتر خاتون مریم بنت عمران تھیں اور اِن کی سب سے بہتر خاتون خدیجہ بنت خویلد ہیں۔

فتح الباری میں  طیبی کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ الضَّمِيرُ الأَوَّلُ رَجَعَ إِلَى الأُمَّةِ الَّتِي كَانَتْ فِيهَا مَرْيَمُ، وَالثَّانِي إِلَى هَذِهِ الأُمَّةِ۔ یعنی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مریم امت یہود کی سب سے بہتر خاتون تھیں امت مسلمہ کی سب سے بہتر خاتون ہیں۔

یہ افضلیت کیوں تھی، اس پر مندرجہ ذیل دو احادیث سے روشنی پڑتی ہے:

  • عَنْ ‌عَائِشَةَ قَالَتْ:‌مَا ‌غِرْتُ ‌عَلَى ‌نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَى خَدِيجَةَ، وَإِنِّي لَمْ أُدْرِكْهَا. قَالَتْ:وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَبَحَ الشَّاةَ فَيَقُولُ:أَرْسِلُوا بِهَا إِلَى أَصْدِقَاءِ خَدِيجَةَ! قَالَتْ: فَأَغْضَبْتُهُ يَوْمًا فَقُلْتُ: خَدِيجَةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي قَدْ رُزِقْتُ حُبَّهَا(صحيح البخاري، حديث نمبر 3816؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 2435)۔یعنی، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں  مجھے خدیجہ کے سوا کسی کے اوپر غیرت نہیں آئی۔ حالانکہ میں  نے ان کا زمانہ نہیں پایا۔ حضرت عائشہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بکری ذبح کرتے تو فرماتے کہ اس میں  سے خدیجہ کی دوستوں کو بھیج دو۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک روز مجھے اس پر غصّہ آ گیا اور میں  نے کہا خدیجہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاخدیجه کی محبت مجھےپلادی گئی ہے۔
  • عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكَادُ يَخْرُجُ مِنَ الْبَيْتِ حَتَّى يَذْكُرُ خَدِيجَةَ،فَيُحْسِنُ عَلَيْهَا الثَّنَاء، فَذَكَرَهَا يَوْمًا مِنَ الْأَيَّامِ، فَأَدْرَكَتْنِي الْغَيْرَةُ فَقُلْتُ:هَلْ كَانَتْ إِلَّا عَجُوزًا، فَقَدْ أَبْدَلَكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْهَا، فَغَضِبَ ثُمَّ قَالَ: لَا وَاللهِ مَا أَخْلَفَ اللهُ لِي خَيْرًا مِنْهَا، وَقَدْ آمَنَتْ بِي إِذْ كَفَرَ بِيَ النَّاسُ، وَصَدَّقَتْنِي وَكَذَّبَنِي النَّاسُ، وَوَاسَتْنِي مِنْ مَالِهَا إِذْ حَرَمَنِي النَّاسُ، وَرَزَقَنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأَوْلَادَ مِنْهَا، إِذْ حَرَمَنِي أَوْلَادَ النِّسَاءِ(الشريعة للآجري، حديث نمبر1681؛ المعجم الكبير للطبراني، حديث نمبر 22)۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ کی تعریف کیے بغیر گھر سے نہ نکلتے تھے۔ ایک روز آپ نے خدیجہ کا ذکر فرمایا تو مجھے غیرت آگئی۔ میں  نے کہا وہ ایک بڑھیا ہی تو تھیں اور اللہ نے اس کے بدلے آپ کو زیادہ بہتر دیدیا ہے۔ آپ غضب ناک ہو گئے اور فرمایا۔ خدا کی قسم نہیں، خدا نے مجھے خدیجہ سے بہتر نہیں دیا۔ وہ ایمان لائیں جب کہ لوگوں نے انکار کیا۔ انہوں نے میری تصدیق کی جب کہ لوگوں نے مجھے جھٹلا دیا۔ انہوں نے اپنے مال سے میری مدد کی جب کہ لوگوں نے مجھے محروم کیا۔ اور اللہ نے مجھے ان سے اولاد دی جو دوسری بیویوں سے نہ دی۔

حضرت مریم اور حضرت خدیجہ کو تاریخ کی معیاری خواتین کی حیثیت کیوں حاصل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو ہمہ تن اللہ کے حوالے کر دیا۔ انہوں نے اپنی مرضی کو خدا کی مرضی میں  ملا دیا۔

یہودکے آخری زمانہ میں  ایک ایسی خاتون درکار تھیں جو حضرت مسیح جیسے معجزاتی پیغمبر کی ماں بن سکیں۔ اﷲتعالىٰ کایہ منصوبہ تھا کہ وہ قوم یہود کے آخری پیغمبر کو باپ کے بغیر پیدا کرے۔ اس مقصد کے لیے ایسی خاتون درکار تھیں جن کی عصمت اور پاکبازی اتنی مسلّم ہوکہ کسی کو ان کے بارے میں  ادنيٰ شبہ کی گنجائش نہ رہے۔ حضرت مریم نے اپنی غیر معمولی زندگی سے اس کا ثبوت دیا۔ اس لیے وہ حضرت مسیح کی ماں بنا ئے جانے کےلیے چن لی گئیں۔

اسی طرح آخری رسول کے حالات کے اعتبار سے ان کو ایسی خاتون کی ضرورت تھی جو اپنی زندگی اور اپنا اثا ثہ پوری طرح پیغمبر کے حوالے کر دیں اور کبھی کسی بات پر شکایت نہ کریں۔ حضرت خدیجہ کے امتیازی اوصاف کی بنا پر خدانے ان کو اس خدمت خاص کے لیے چن لیا۔ انہوں نے اپنی زندگی،اپنا اثاثہ،اپنا آرام وراحت ، سب کچھ پیغمبر خدا کے لیے وقف کردیا۔ سخت ترین مصائب کے باوجود کبھی اُف نہ کیا۔ ان کی انہیں خصوصیات نے انہیں خدا کی نظر میں  اس قابل بنا یا کہ وہ پیغمبر آخرالز ماں کی رفیقۂ حیات بنیں۔

اسلام کے مشن کے لیے ہر دور میں  ایسی عورتوں اور ایسے مردوں کی ضرورت ہوتی ہے جو موجودہ امتحانی دنیا میں  زیر عمل لائے جانے والے خدائی منصوبہ میں  اپنے آپ کو شامل کریں۔ جو خدا کے کاگ (cog)میں  اپنا کاگ ملائیں۔ اس میں  شک نہیں کہ یہ بے حد صبر آزما عمل ہے۔ مگر اس میں  بھی شک نہیں کہ اس کا اجر بہت زیادہ ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس کو قرآن میں  خدا کی مدد کرنا کہاگیا ہے۔ اور بلاشبہ کسی مرد یا عورتوں کے لیے اس سے بڑا اور کوئی درجہ نہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion