اسلام کی طاقت
صوفیاء بطور خود تو پیغام محبت لے کر اٹھے تھے۔ مگر ان کا پیغام محبت بالواسطہ طور پر پیغام دعوت بن گیا۔ انہوں نے اپنی طرف سے محبت اور امن کی فضا بنائی۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ لوگ ضد اور تعصب کے بغیر اسلام کو دیکھنے لگے۔ وہ اس قابل ہو گئے کہ جب وہ اسلام کا مطالعہ کریں یا مسلمانوں سے تعلقات کے دوران جب اسلام کی کوئی بات سامنے آئے تو معتدل ذہن کے ساتھ اس پر سوچ سکیں۔ صوفیاء کے پیدا کردہ ماحول نے لوگوں کے درمیان اور اسلام کے درمیان ہر قسم کی نفسیاتی رکاوٹ کو ختم کر دیا۔ جب ایسا ہوا تو لوگ کثرت سے اسلام کی طرف مائل ہونے لگے۔ انہوں نے جوق درجوق اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔
آج بھی یہی تاریخ دہرائی جا سکتی ہے ، بشرطیکہ مسلمان صوفیاء کی تاریخ کو دہرانے کے لیے تیار ہوں۔ وہ داعی اورمدعو کے درمیان یکطرفہ طور پر نفرت اور کشیدگی کی فضا کو ختم کر کے دوبارہ وہ معتدل ماحول بنائیں جب کہ لوگ کسی توحش کے بغیر اسلام کو دیکھیں اور اس کو اپنے دل کی آواز پا کر اسے اختیار کر لیں۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی مدعو قوموں سے اسلام کے نام پر بےشمار جھگڑے چھیڑے ہوئے ہیں۔ ان جھگڑوں نے مدعوقوموں کے اندر اسلام کے خلاف نفرت اور بیزاری کی فضا پیدا کررکھی ہے۔ یہی فضا اسلام کی اشاعت میں اصل رکاوٹ ہے۔ مسلمان اگر یہ تمام جھگڑے یکطرفہ طور پر ختم کر دیں تو فوراً دونوں کے درمیان معتدل فضا قائم ہو جائے گی۔ لوگ جوق در جوق اسلام کی طرف راغب ہونے لگیں گے۔
غیر مسلم اقوام میں اسلام کی اشاعت کے لیے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ تلخی اور بیزاری کی موجودہ فضا کو ختم کر دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اگر صرف اتنا کریں کہ وہ کچھ نہ کریں تب بھی وہ بہت بڑا کام کریں گے ، وہ اسلام کی اشاعت کا سیلاب جاری کر دیں گے جو آج ان کی کارروائیوں ہی کی وجہ سے رک گیا ہے اور جو داعی اور مدعو کے درمیان کشیدگی کو بڑھا کر معتدل فضا کو ختم کیے ہوئے ہے۔
