موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی تاریخ
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تاریخ کا مشترک عنوان قائم کرنا ہو تو وہ صرف ایک ہوگا— بے فائدہ سیاست
صلاحیتیں جو سیاست کی نذر ہوگئیں
مولانا شبلی نعمانی کی کوششوں سے دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ کی پہلی عمارت بنی تو مولانا شبلی نے 1912 میں ایک بڑا جلسہ کیا اور اس کی صدارت کے لیے سید رشید رضا مصری کو بلایا۔ رشید رضا نے اس موقع پر ایک مفصل تقریر کی جو ڈھائی گھنٹہ تک جاری رہی۔ تقریر کے ترجمہ کے لیے پہلے سے کسی کو تیار نہیں کیا گیا تھا۔ آخر میں مولانا شبلی نے کھڑے ہو کر کہ’’کون اس تقریر کا اردو ترجمہ کرے گا‘‘ مولانا ابو الکلام آزاد اس وقت ڈائس پر موجود تھے۔ انہوں نے ہاتھ اٹھایا۔ مولانا شبلی نے یہ خدمت ان کے سپرد کی۔ مولانا آزاد نے ڈھائی گھنٹہ کی اس عربی تقریر کا ترجمہ ڈھائی گھنٹہ میں کیا۔ ان کے حافظہ نے ٹیپ ریکارڈ کی طرح پوری تقریر کو محفوظ کر لیا تھا اور انہوں نے مسلسل اس کو اپنی زبان میں بیان کر دیا۔
آخرت کے بجائے سیاست
مولانا عبید اللہ سندھی (1944-1872ء) ضلع سیالکوٹ کے ایک سکھ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ایک اردو مڈل اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے کہ ان کو ایک اردو کتاب پڑھنے کو ملی۔ یہ مولانا محمد لکھنوی کی احوال الآخرت تھی۔ اس کتاب نے ان کے ذہن پر ایسا اثر ڈالا کہ انہوں نے بار بار اس کا مطالعہ کیا اور بالآخر 1887ء میں اسلام قبول کر لیا۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ وہ شخص جس کو آخرت کے احوال نے اسلام کی طرف کھینچا تھا، وہ اپنی تمام عمر لوگوں کو سیاست کے احوال بتانے میں مشغول رہا۔ یہاں تک بہتر سال کی عمر میں اس دنیا سے چلا گیا۔
غیر پختہ نوجوان ان کی تحریک کا سرمایہ تھے
انیسویں صدی کے ترکی میں خلافت عثمانیہ کے خلاف جن لوگوں نے سیکولر قومی تحریک چلائی، وہ بعد کو انجمن اتحاد و ترقی کی صورت میں منظم ہوگئے۔ کمال اتاترک (1938-1881ء) اس کے لیڈر تھے۔ خالدہ ادیب خانم اس انجمن کے ارکان پر تبصرہ کرتی ہوئی لکھتی ہیں:
’’اتحاد و ترقی کے نوجوان ترک چھوٹے درجہ کے سرکاری ملازم یا فوجی افسر تھے۔ ابتدا میں ان میں ایک شخص بھی نہ تھا جو اعلیٰ قابلیت رکھتا ہو اور تحلیل و تنقید سے کام لے کر پرانے اور نئے زمانہ کے فرق کو سمجھ سکے۔ مگر یہ لوگ جمہور سے زیادہ قریب تھے اور خالص دیسی پیداوار تھے۔ ان میں زیادہ تعداد مقدونیہ کے باشندوں کی تھی جو واقعیت پسندی اور بے رحمی میں مشہور ہیں اور اپنے مقصد کے حاصل کرنے کے لیے سب کچھ کر گزرتے ہیں‘‘۔ (ترکی میں مشرق ومغرب کی کشمکش)۔
خالدہ ادیب خانم نے جو بات ترکی کے بارے میں لکھی ہے، وہی موجودہ زمانہ کی اکثر مسلم تحریکوں پر صادق آتی ہے۔
