معاہدۂ مدینہ

مدینہ میں دو عرب قبیلے اوس اور خزرج آباد تھے۔اس کے ساتھ وہاں یہودیوں کے بھی کچھ قبیلے تھے جو اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ لوگ عربوں کے مقابلہ میں علم میں آگے تھے۔ اسی کے ساتھ وہ لوگ تجارت کرتے تھے، اس بنا پر دولت کے اعتبار سے بھی وہ بڑھے ہوئے تھے۔

 یہودیوں میں سے تھوڑے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو پہچان کر آپ پر ایمان لائے۔ مگر ان کی اکثریت آپ کی اور آپ کے دین کی دشمن بن گئی۔ یہود کا خیال تھاکہ پیغمبر صرب بنی اسرائیل کی نسل میں پیدا ہوتے ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل کی نسل سے تھے،اس لیے آپ کے پیغمبر ہونے پر وہ یقین نہ دلا سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اگر وہ ایمان نہ لائیں تو کم ازکم ایسا ہو کہ ان کے شر سے مسلمان محفوظ رہیں۔ اس مقصد کے تحت آپ نے ان سے ایک معاہدہ کیا جس کو صحیفۂ مدینہ کہا جاتا ہے۔ مدینہ کے یہود سے یہ معاہدہ ہجرت کے پانچ مہینہ بعد کیا گیا۔ یہ معاہدہ دین اور مال اور باہمی مسائل وغیرہ سے متعلق تھا۔ اس کا خلاصہ یہاں نقل کیا جاتاہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ تحریری عہد ہے محمد نبی امی کی طرف سے مسلمانان قریش و یثرب اور یہود کے درمیان جو مسلمان کے تابع ہوں اور ان کے ساتھ الحاق چاہیں۔ ہر فریق اپنے اپنے مذہب پر قائم رہ کر ان امور کا پابند ہوگا:

1 ۔                        قصاص اور خون بہا کے جو طریقے قدیم زمانہ سے چلے آ رہے ہیں وہ عدل اور انصاف کے ساتھ بدستور قائم رہیں گے۔

2۔     ہر گروہ کو عدل اور انصاف کے ساتھ اپنی جماعت کا فدیہ دینا ہوگا۔ یعنی جس قبیلہ کا جو قیدی ہوگا اس قیدی کے چھڑانے کے لیے زرفدیہ کا دینا اسی قبیلہ کے ذمہ ہوگا۔

3۔      ظلم اور اثم اور سرکشی کے مقابلہ میں سب متفق رہیںگے۔اس بارے میں کسی کی رعایت نہ کی جائے گی۔ اگرچہ وہ کسی کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔

4۔      کوئی مسلمان کسی مسلمان کو کسی کافر کے مقابلہ میں قتل کرنے کا مجاز نہ ہوگا اور نہ کسی مسلمان کے مقابلہ میں کسی کافر کی کسی قسم کی مدد کی اجازت ہوگی۔

5۔     جو یہود مسلمانوں کے تابع ہو کر رہیں گے ان کی حفاظت مسلمانوں کے ذمہ ہوگی۔ ان پر نہ کسی قسم کا ظلم ہوگا اور نہ ان کے مقابلہ میں ان کے دشمن کی کوئی مدد کی جائے گی۔

6۔      کسی کافر اور مشرک کو یہ حق نہ ہوگا کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں قریش کے کسی شخص کو پناہ دے یا قریش اور مسلمانوں کے درمیان حائل ہو۔

7۔      جنگ کے وقت یہود کو جان و مال سے مسلمانوں کا ساتھ دینا ہوگا۔ مسلمانوں کے خلاف مدد کی اجازت نہ ہوگی۔

8۔      رسول اللہ کا کوئی دشمن اگر مدینہ پر حملہ کرے تو یہود پر رسول اللہ کی مدد لازم ہوگی۔

9۔      جو قبیلے اس عہد اور حلف میں شریک ہیں اگر ان میں سے کوئی قبیلہ اس حلف اور عہد سے علیحدگی اختیار کرنا چاہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر وہ علیحدگی اختیار کرنے کا مجاز نہ ہوگا۔

10۔    کسی فتنہ پرداز کی مدد یا اس کو ٹھکانا دینے کی اجازت نہ ہوگی اور جو شخص کسی نئی بات نکالنے والے شخص کی مدد کرے گا یااس کو اپنے پاس ٹھکانا دے گا تواس پر اللہ کی لعنت اور غضب ہے، قیامت تک اس کا کوئی عمل قبول نہ ہوگا۔

11۔   مسلمان اگر کسی سے صلح کرنا چاہیں گے تو یہود کو بھی اس صلح میں شریک ہونا ضروری ہوگا۔

12۔   جو کسی مسلمان کو قتل کرے اور شہادت موجود ہو تو اس کا قصاص لیا جائے گا الاّ یہ کہ مقتول کا ولی دیت پر راضی ہو جائے۔

13۔    جب بھی کسی معاملہ میں اختلاف پیش آئے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کیا جائے گا:وَإِنَّكُمْ مهما اختلفتم فِيهِ من شئ فَإِن مرده إِلَى الله عزوجل وَإِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ(السیرۃ النبویۃ لابن کثیر، جلد2، صفحہ 322)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن قبیلوں سے یہ معاہدہ کیا ، ان میں یہود کے تین بڑے قبیلے شامل تھے۔ یہ قبیلے مدینہ میں یا مدینہ کے اطراف میں بسے ہوئے تھے۔ ان کے نام یہ ہیں__ بنو قینقاع ، بنو نضیر، بنو قریظہ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion