صرف مسائل پیدا ہوئے

امریکا سے ایک ناول چھپا ہے جس کا نام ہے—’’اکیلی خاتون‘‘:

Harold Robbins, The Lonely Lady, London, New English Library, 1976.

اس ناول میں  امریکا کےترقی یافتہ معاشرہ کی ایک کمزوری کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ عورت کی غیر شادی شدہ زندگی بالآخر ایک نا قابل برداشت تنہائی پر ختم ہوتی ہے۔ کہانی کے مطابق، ایک خوبصورت اور نوجوان امریکی خاتون فلمی دنیا کی چمک دمک (glamour) سے متاثر ہوتی ہے۔ وہ شادی شدہ زندگی کو چھوڑکر فلم ایکٹرس بن جاتی ہے۔ اس کی باکما ل نسوانیت اس کی مدد کرتی ہے۔ وہ بہت جلد ترقی کی سیڑھیاں طے کرنے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ ترقی کے آسمان پر پہنچ جاتی ہے۔ دولت ، شہرت ، عزت اور چاہنے والوںکی بھیڑ ، ہر چیز با فراط اس کے گرد جمع ہو جاتی ہے۔ مگر ترقی کی آخری انتہاپر پہنچنا اس کو سکون نہیں دیتا۔ اب وہ ایک تلخ حقیقت (bitter truth)کو دریافت کرتی ہے:

that "fame has a way of fading, and friends a way of disappearing when they are most needed."

یہ کہ شہرت با لآخر ختم ہوجاتی ہے۔ اور دوست بالآخر ساتھ چھوڑدیتے ہیں جب کہ ایک عورت کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ یہ امریکی خاتون نہایت حسرت بھرے انداز میں  کہتی ہے:

Only a woman knows what loneliness is.

حقیقت یہ ہے کہ ایک عورت ہی اس بات کو جانتی ہے کہ اکیلاپن کیا ہے۔ ناول کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت اکیلی نہیں رہ سکتی۔ فلمی دنیا کے ذریعہ بڑی بڑی کمائی کرنا اور اپنے لیے ایک خود مختار زندگی حاصل کرنا بظاہر بڑا پُر کشش معلوم ہوتا ہے۔ مگر جب عورت کی عمر زیادہ ہوتی ہے۔ جب اس کے ساتھیوں میں  اس کے لیے کشش باقی نہیں رہتی تو وہ ایک ناقابل برداشت حادثہ سے دوچار ہوتی ہے۔

اس کے پاس دولت اور مادی سازوسامان کا انبار ہوتا ہے۔مگر وہی چیز نہیں ہوتی جس کی ایک عورت کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یعنی زندگی کا چین۔ اس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے مگر وہ انسان نہیں ہوتا جو اس کے صبح و شام میں  اس کا ساتھی بن سکے۔ وہ ایک ایسے آباد گھر کی مالک نہیں ہوتی جس کو وہ اپنا گھر سمجھے:

”Here is a loneliness born of independence, of honest individualism in a society where only dishonesty brings profit. “

یہ ایک تنہائی ہے جو خود مختار زندگی سے برآمدہوتی ہے، ایک دیانت دارانہ فر دیت ، ایک ایسے سماج میں  جہاں بددیانتی ہی سب سے بڑانفع بخش سرمایہ ہے۔

 حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی کا نظام بے حد نازک تر کیب کے ساتھ بنا یا گیا ہے۔ اس میں  ادنیٰ تبدیلی بھی صرف بربادی پر ختم ہوتی ہے۔ جمادات اور نباتات کی دنیا کے لیے ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ کامیابی کا راز یہ ہے کہ فطرت کے بنائے ہوئے نظام سے انحراف نہ کیا جائے۔ یہاں مطلوب نتیجہ تک پہنچنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ فطرت کے مقررہ ڈھانچہ کو قبول کیا جائے۔ مگر وہی انسان جو جمادات اور نبا تات کے معاملہ میں  اس حقیقت کی مکمل پابندی کرتا ہے وہ خود اپنی زندگی کے معاملہ میں  اس ابدی حقیقت کو بھول جاتا ہے۔

عورت اور مرد کے لیے فطرت کا بنا یا ہوا نظام یہ ہے کہ وہ شادی شدہ زندگی گزاریں۔ ان کی جسمانی ساخت ان کے نفسیاتی اور خاندانی مسائل ، ان کے اجتماعی رشتے سب اپنی درستگی کے لیے شادی شدہ زندگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ عورت کا آزاد اور خود مختا ر ہونا، الفاظ کے اعتبار سے بظاہر بڑاخوبصورت معلوم ہوتا ہے مگر ا س کا عملی تجربہ اتنا ہی زیادہ بھیانک ہے۔

عورت اپنی جوانی کی عمر میں  بڑی آسانی سے اس قسم کے خوش کن اور دل فریب نظریات کا شکار ہوجاتی ہے۔ مگر جب اس کی عمر زیادہ ہوتی ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا راستہ غلط تھا۔ مگر یہ علم اس کو صرف اس وقت ہوتا ہے جب کہ تلافی کا وقت نہیں ہوتا۔ اب اس کے لیے موجودہ دنیا میں  جو چیز رہ جاتی ہے وہ صرف یہ کہ کتّوں اور خرگوشوں کو پال کر مصنوعی طور پر ان سے دل بہلائے اور بالآخر حسرت اور مایوسی کے قبر ستا ن میں  جاکر سور ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion