سرپرستی سے محروم

ہفتہ وارٹائم (23 مارچ 1987) نے امریکا کے بارے میں  ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کا عنوان ہے بچوں کی خودکشی(Teen Suicide) اس رپورٹ میں  دکھایا گیا ہے کہ امریکا میں  10 سال اور 20 سال کے درمیان کی عمر کے نوجوانوں میں  خودکشی کے واقعات تیز ی سے بڑھ رہے ہیں۔1950 کے مقابلہ میں  یہ تعداد اب تین گنا زیادہ ہوگئی ہے۔ 1985 میں  ایک لاکھ آبادی پرساٹھ نوجوانوں (اور اتنے ہی بڑوں) نے خود کشی کی۔ یہاں ہم تین خواتین کے تاثرات درج کرتے ہیںجو امریکی بچوں کی خود کشی کے سلسلے میں مذکورہ رپورٹ میں  نقل کیے گئے ہیں:

Says Barbara Wheeler, a suicide prevention specialist in Omaha. ‘‘I don't think they think about being dead. They think it's a way of ending pain and solving a problem.”

‘‘Everybody is in such a rusk that we don’t take the time to listen to our youngsters,’’ says Elaine Leader, co-founder of a teen crisis hotline at Cedars-Sinai Medical Centre in Los Angeles. "When something like this happens, I think a lot about my kids,” says Barbara O'Leary, a hostess at a local diner. “I have to hope I raised them right. These are the dangerous years. You don’t always know what’s going on inside their heads.’’ (Time, 23 March, 1987, pp. 18-19)

باربرا وہیلرنے کہاکہ میرا یہ خیال نہیں کہ خود کشی کے وقت یہ بچے سمجھتے ہوں کہ وہ مرنے جارہے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دردکو دور کرنے اورمسئلہ کو حل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ الین لیڈرنے کہا کہ ہر شخص اس طرح دوڑبھاگ میں  ہے کہ ہمارے پاس وقت نہیں کہ ہم اپنے بچوںکو سن سکیں۔باربرا اولیری نے کہا کہ جب اس قسم کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تومیں  اپنے بچوں کے بارے میں  بہت زیادہ سوچنے لگتی ہوں۔ میری خواہش ہوتی ہے کہ میں  ان کو درست طور پر پرورش کر سکوں۔ یہ ان کی زندگی کے خطرناک سال ہیں۔ آپ ہمیشہ یہ جان نہیں سکتے کہ ان کے دماغ میں  کس طرح کے خیالات گھوم رہے ہیں۔

ٹائم (23 مارچ 1987) کی مذکورہ رپورٹ پڑھنے کے بعدکچھ امریکی باشندوں نے مذکورہ ہفت روزہ کے نام خطوط لکھے ہیں جوٹائم (13 اپریل 1987) میں  چھپے ہیں۔ایک مکتوب نگار لکھتے ہیں کہ میرا دل ان خاندانوں کے لیے خون بہاتا ہے جن کے بچوں نے خودکشی کی ہے۔ میں  خوب جانتا ہوں۔ میرے 16 سال کے پوتے نے اپنے گلے میں  پھندا ڈال کر خودکشی کر لی۔ ہماراخاندان زندگی بھر حیران رہے گا کہ ایسا کیوں ہوا۔ اور ہم کبھی اس کو جان نہ سکیں گے:

‘‘My heart bleeds for the families of the teen suicides. I know. My 16-year old grandson committed suicide by hanging. Our family will spend the rest of our lives wondering why, and we will never know’’ (Eloise Gradin, Pensacola Beach Florida).

ترقی یافتہ ملکوں کے نوجوانوں میں  خودکشی کا رحجان کیوں ہے۔ اس کی واحد وجہ ان کی اپنے سرپرستوں سے محرومی ہے۔ ان ملکوں میں  خاندانی انتشار کا مسئلہ بہت بڑے پیمانہ پر پیدا ہو گیا ہے اور یہی چیز ہے جس نے نوجوانوں کے اندر خودکشی کا رحجان پیدا کر دیا ہے۔ وہ خاندان کی شفقت سے محروم ہو کر پرورش پاتے ہیں، اور بڑے ہو کر طرح طرح کی نفسیاتی پیچیدگیوں میں  مبتلا رہتے ہیں۔ یہ چیز بعض اوقات انھیں خودکشی تک پہنچا دیتی ہے۔

ان ملکوں میں  خاندانی انتشار پیدا ہونے کے دو بڑے اسباب ہیں۔ ایک یہ کہ انھوں نے ازدواجی زندگی کی بنیاد ذمہ داری کے بجائے لذت پر قائم کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ازدواجی تعلق میں  مستقل تقدس کی قدر باقی نہ رہی۔ لوگ لذّت کی خاطر ایک دوسرے سے ملنے اور لذّت ختم ہونے پر ایک دوسرے سے الگ ہونے لگے۔ اس نظریہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ طلاق عام ہو گئی۔ طلاق کے بعد عورت ایک طرف چلی گئی اور مرد دوسری طرف۔ انھوں نے ا س دوران میں  جو بچہ پیدا کیا تھا ، اس کا کوئی سرپرست نہ رہا۔ وہ والدین کی موجودگی میں  یتیم بن کر رہ گیا۔

اس کی دوسری وجہ ان ملکوں میں  مشترک ز ندگی کا خاتمہ ہے۔ انھوں نے زندگی کا جو طرز اختیار کیا اس کے نتیجہ میں  یہ ہوا کہ بوڑھے ماں باپ دارالضعفاء  (old age home)میں  بھیجے جانے لگے۔ مشترک خاندان میں  دادا اور دادی ، نانا اور نانی بچوں کو سنبھالنے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ مگر مغرب کی معاشرت میں  ان لوگوں کا مقام گھر نہیں بلکہ وہ ضعیف خانے (old age home) ہیں جو خاص طور پر اسی مقصد کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ یہی معاملہ ایک اور صورت میں  والدین کے ساتھ ہوا ہے۔ وہاں کے نظام کے مطابق مرد اگر کام کرتا ہے تو عورت بھی کرتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دونوں بیشتر اوقات گھر سے باہر رہتے ہیں۔ اپنے بچوں سے ان کی ملاقات بمشکل صرف ’’اتوار‘‘ کے دن ہوتی ہے۔ گویا مغرب کا بچہ اپنے دادا اور دادی یا نانا اور نانی سے اس لیے محروم ہے کہ وہ دارالضعفاء  (old age home) میں  منتقل ہو گئے ہیں۔ اور اپنے ماں باپ سے اس لیے محروم ہے کہ وہ دونوں کام کرنے کے لیے آفس چلے گئے ہیں۔ ایسے بچوں کا وہی انجام ہو سکتا ہے جو اوپر کی مثال میں  نظر آتا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion