سبق آموز

فتح پور سیکری شہنشاہ اکبر (1605-1543ء)کا دارالسلطنت تھا۔ یہ آگرہ سے 45 کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہاں دوسری بہت سی عمارتوں کے ساتھ ایک شاہی ’’عبادت خانہ‘‘ بھی تھا۔ یہ عبادت خانہ اکبر کے بعد زمین کے نیچے دب گیا اور اس کے اوپر گھاس اور درخت اگ آئے۔ حال میں حکومت ہند کے محکمہ آثار قدیمہ اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے مشترک منصوبہ کے تحت اس کی کھدائی کی گئی ہے اور اس کو باہر نکالا گیا ہے(ٹائمس آف انڈیا8جون1984)۔

اس عبادت خانہ میں شہنشاہ اکبر علما کی صحبت میں بیٹھا کرتا تھا۔ اور ان سے مذہب کے موضوعات پر گفتگو کرتا تھا۔ یہیں اس نے اپنا مشہور’’دین الٰہی‘‘ وضع کیا۔ اس کا خیال تھا کہ ہندستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والے بستے ہیں۔ اس لیے کسی ایک مذہب کی بنیاد پر یہاں سیاسی استحکام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

 اس نے یہ رائے قائم کی کہ اس ملک میں مغل سلطنت کی بنیاد اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتی جب تک یہاں کے لوگوں کا مذہب ایک نہ ہو جائے۔ تبلیغ کے ذریعہ مذہب کو بدلنا اس کو مشکل نظر آیا۔ چنانچہ اس نے ایک نیا مذہب(دین الٰہی) ایجاد کیا۔ جس میں بزعم خود اس نے تمام مذاہب کی خصوصیات جمع کرنے کی کوشش کی۔ اس کا خیال تھا کہ یہ نیا مذہب اپنی مشترک خصوصیات کی بنا پر ملک کے تمام باشندوں کے لیے قابل قبول ہو جائے گا۔

دین الٰہی کی تصنیف کے دوران اس کو عیسائی مذہب کے بارے میں جاننے کی ضرورت پیش آئی۔ اس نے پرتگال کے عیسائی بادشاہ کو خط لکھا کہ اس کو انجیل کے فارسی ترجمے کی ضرورت ہے۔ شاہ پرتگال نے یہ فارسی ترجمہ بھیج دیا۔ تاہم اس کا مطالعہ اکبر کے لیے کافی نہ ہو سکا۔ اس کے بعد اکبر نے یورپ(روم) کو لکھا کہ مسیحیت کی تعلیم کے لیے اس کے پاس معلم بھیجے جائیں۔ پوپ نے فوراً دو تربیت یافتہ افراد ہندستان روانہ کر دیے۔

ایک فادر اکواویوا (Fr. Acquaviva) اور دوسرا فادر مانسریٹ (Fr. Monserrate) یہ دونوں صاحبان28 فروری1590ء کو فتح پور سیکری پہنچے۔    ’’اکبر نامہ‘‘ کی ایک پینٹنگ میں اکبر ان عیسائی معلمین سے محو گفتگو نظر آتا ہے۔

اکبر نے ان دونوں عیسائی معلمین کو شاہی عبادت خانہ کے پاس ’’خوشبو خانہ‘‘ میں ٹھہرایا۔ مگر یہ دونوں مسیحی صرف’’معلم‘‘ نہ تھے۔ بلکہ وہ اپنے مذہب کے تربیت یافتہ مبلغ تھے۔ چنانچہ انہوں نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ خوشبو خانہ کو گرجا گھر میں تبدیل کر دیا۔ یہ شمالی ہند کا پہلا گرجا گھر تھا جو اکبر کے زمانہ میں قائم ہوا۔

 تاریخ بتاتی ہے کہ فادر اکواویوانے پوپ کو جو رپورٹ بھیج تھی اس میں اس نے لکھا کہ میرا احساس یہ ہے کہ اکبر ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہو رہا ہے کہ وہ مسیحیت کو قبول کرلے۔ مگر اس سے اکبر کا اصل مقصد(سلطنت کا استحکام) حاصل نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے اکبر ایسے اقدام سے باز رہا۔

 اس واقعہ میں دو بڑے سبق ہیں۔ ایک سبق یہ کہ دولت اور اقتدار کا حصول اکثر عقل سے محرومی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ کسی آدمی کو جب دولت اور اقتدار مل جاتا ہے تو اکثر اس کو وہ ایسے کاموں میں ضائع کرتا ہے جس کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ شہنشاہ اکبر نے سیاسی خوش خیالی کے تحت’’دین الٰہی‘‘ وضع کیا تھا۔ اس پر اس نے سلطنت کے بے پناہ وسائل خرچ کیے۔ حالانکہ اس کا انجام بالآخر یہ ہونا تھا کہ وہ تاریخ کے ملبہ کے نیچے دب کر رہ جائے اور آثار قدیمہ کے طالب علموں کے سوا کسی اور کو اس سے دلچسپی نہ رہے۔

 دوسرا سبق دعوتی ہے۔ اکبر نے پوپ سے مسیحی معلم مانگے اور اس نے فوراً دو تیار شدہ افراد اس کے پاس بھیج دیے۔ جب کہ مسلمانوں سے جدید دور میں بار بار یہی تقاضا کیا گیا ہے مگر وہ اس تقاضے کو کبھی پورا نہ کر سکے ۔ مسیحی ادارے اپنی مشنری اسپرٹ کی وجہ سے سیکڑوں سال سے اس پوزیشن میں ہیں کہ مشرق و مغرب میں اپنے تربیت یافتہ افراد بھیج سکیں۔ جب کہ مشنری اسپرٹ سے محروم ہو کر مسلمانوں کا یہ حال ہو رہا ہے کہ ان کے پاس نہ مشرقی ضرورت کے مطابق خدا کے دین کے مبلغ موجود ہیں اور نہ مغربی ضرورت کے مطابق۔

 دور جدید میں مسلمانوں کی بربادی کا واحد سب سے بڑا سبب یہی ہے۔ مسلمانوں کی حیثیت خدا کے گواہ کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی عملی سرگرمیوں کا اصل نشانہ صرف ایک ہے اور وہ دعوت ہے۔ جن لوگوں کی نظریں اس نشانہ پر جمی ہوئی ہوں وہ اپنے لیے عمل کا صحیح میدان پا لیں گے اور جب نظریں اس نشانہ سے ہٹ جائیں تو تمام قوتیں منتشر ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اس کے بعد وہ ایک قوم بن جاتے ہیں جس کا کوئی مقصد نہ ہو۔ وہ ایسا گروہ بن جاتے ہیں جس کا کوئی اقدام نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion