فرقہ واریت کا مسئلہ
فرقہ وارانہ مسئلہ کا حل اتنا ہی آسان ہے جتنا خاندانی مسئلہ کا حل آسان ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر خاندان یک جہتی کے ساتھ زندگی گزاررہا ہے۔ اسی طرح مختلف فرقے بھی یک جہتی کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ خاندان کے مختلف افراد جس اصول کے تحت باہم مل کر رہتے ہیں۔ اسی طرح ملک کے مختلف فرقے بھی باہم مل کر رہنا سیکھ جائیں ۔ جو اصول آج بھی خاندان کی اجتماعی زندگی میں عملا رائج ہے اسی اصول کو خاندان سے باہر کی اجتماعی زندگی میں بھی رانج کر دیا جائے ۔ یہی کامیابی کا واحد راستہ ہے ، خاندان کے اندر بھی اور خاندان کے باہر بھی ۔
فرقہ وارانہ مسئلہ بڑے پیمانہ پر عین اسی چیز کا نام ہے جس کو چھوٹے پیمانہ پر خاندانی مسئلہ کہا جاتا ہے ۔ خاندانی مسائل مختلف رشتہ داروں کے درمیان پیدا ہوتے ہیں اور فرقہ وارانہ مسائل مختلف فرقوں کے درمیان۔ گھر ایک چھوٹا خاندان ہے اور ملک اس کے مقابلہ میں بڑا خاندان ۔ ایک اور دوسرے میں جو فرق ہے وہ صرف ڈگری کا فرق ہے ورنہ نوعیت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ۔
ہر آدمی جانتا ہے کہ خاندان کے اندر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایک رشتہ دار اور دوسرے رشتہ دار کے درمیان ناخوش گواریاں ظہور میں آتی ہیں۔ ایک کو دوسرے سے قولی یا عملی تکلیف پہونچتی ہے۔ اس کے باوجود کوئی چیز ہے جو خاندان کے مختلف افراد کو باہم جوڑے رکھتی ہے اور ان کو منتشر ہونے سے بچاتی ہے۔ خاندانی اتحاد اور یک جہتی کا جو راز ہے وہی قومی اتحاد اور یک جہتی کا راز بھی ہے ۔ ہر شخص کو اپنے خاندان کی سطح پر جو تجربہ پیش آرہا ہے اسی تجربہ کے بہترین سبق کو وہ ملکی افراد کے معاملہ میں استعمال کرے اور پھر کبھی فساد نہیں ہوگا۔
ہر عقل مند آدمی جانتا ہے کہ خاندانی مسائل کا سادہ حل یہ ہے کہ خاندان کے اندر ایک دوسرے کا لحاظ کرنے کی فضا پائی جائے۔ جب کوئی مسئلہ پیش آئے تو آدمی مشتعل نہ ہو بلکہ اس پر ٹھنڈے طریقہ سے غور کرے ۔ وہ مسئلہ کو الجھانے کے بجائے سلجھانا چاہے ۔ وہ مسئلہ کو تعلقات کا خاتمہ نہ سمجھے بلکہ درمیانی مدت کا ایک وقتی واقعہ سمجھ کر اس سے گزر جائے ۔
یہ ذہن خاندان کے افراد کے اندر برداشت کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ اور برداشت تمام اختلافات کا واحد یقینی حل ہے۔ ایک دانش مند باپ جو ایک خاندان کا سر براہ ہو ، وہ اپنے گھر والوں کو ہمیشہ یہ سبق دیتا ہے کہ تم لوگ ایک دوسرے کا احترام کرو ۔ تم ایک دوسرے کے کام آنے کی کوشش کرو۔ ایک آدمی صرف اپنے حقوق کو یاد نہ رکھے بلکہ وہ اپنے فرائض کو بھی پوری طرح ادا کرنے کی کوشش کرے ۔ خاندان کے کسی فرد سے اگر کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو دوسرے لوگ اسے سنبھالیں اور اس سے درگزر کریں۔
یہی خاندانی یک جہتی کا راز ہے اور یہی قومی یک جہتی کا راز بھی۔ تمام فرقہ وارانہ جھگڑے صرف اس لیے پیدا ہوتے ہیں کہ لوگوں نے اپنے خاندان کی سطح پر زندگی کا جور از سیکھا تھا اس کو انہوں نے فرقہ وارانہ معاملہ میں استعمال نہیں کیا ۔
فرقہ وارانہ جھگڑوں کی واحد وجہ یہ ہے کہ لوگ گھر کے معاملات میں جتنے سنجیدہ ہیں ، وہ گھر کے باہر کے معاملات میں اتنے سنجیدہ نہیں ۔ گھر کے اندر ہر روز ناموافق باتیں پیش آتی ہیں اور ہر آدمی ان کو برداشت کرتا ہے ، صرف اس لیے کہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کا گھر اجڑ جائے گا۔ مگر اس قسم کا ایک ناخوش گوار معاملہ گھر کے باہر پیش آجائے تو لوگ فورا بگڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں، فرقہ وارانہ مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ لوگوں کے اندر سے اس دو عملی کو ختم کر دیا جائے ۔
مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں ایک صاحب تھے۔ وہ اپنے رشتہ داروں کو ہمیشہ ایک شعر سنایا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ بس یہ ایک شعر پکڑ لو اور اس کے بعد تمہارے تمام گھریلو مسائل اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ وہ شعر یہ تھا:
کبھی بھول کر کسی سے نہ کرو سلوک ایسا کہ جو تم سے کوئی کرتا تمہیں ناگوار ہوتا
اس شعر میں ایک حدیث کے مفہوم کو منظوم انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔ اور بلاشبہ یہ کامیاب اجتماعی زندگی کا سب سے بڑا اصول ہے ۔ اگر لوگ اس ایک ہدایت کو پکڑ لیں تو ان کے تمام مسائل حل ہو جائیں ، خواہ وہ گھر کے اندر کے مسائل ہوں یا گھر کے باہر کے مسائل۔
مسٹرالف اور مسٹرب دونوں ایک محلہ میں رہتے تھے ۔ مسٹر الف کے لڑکے نے مسٹرب کے لڑکے کے ساتھ ایک نازیبا حرکت کی اور اس کو غصہ دلادیا۔ اس کے جواب میں مسٹرب کے لڑکے نے مسٹرالف کے لڑکے کو مارا۔ اب مسٹرالف باہر آئے اور مسٹرب کے گھر والوں کو انسانیت کے ساتھ رہنے کی تلقین شروع کر دی ۔ انھوں نے اپنے لڑکے کو کچھ نہیں کہا۔ پوری ذمہ داری مسٹرب کے لڑکے پر ڈالتے ہوئے یک طرفہ طور پر مسٹرب کو انسانیت کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتے رہے ۔
مسٹر الف کے وعظ کو اگر پس منظر سے الگ کر کے دیکھا جائے تو وہ ایک درست بات معلوم ہوگی۔ لیکن اگر اس کو پس منظر میں رکھ کر دیکھا جائے تو وہ سراسر ایک غلط بات ہے۔ ایسی صورتِ حال میں اپنے لڑکے کو کچھ نہ کہنا اس کی نازیبا حرکتوں پر اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہ دوسرے کے لڑکے کے لیے اگر پیام انسانیت ہے تو اپنے لڑکے کے لیے پیام شرارت ۔
یہ واقعہ بتا تا ہے کہ اکثر لوگ معاملات کو اپنے اور غیر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اپنے آدمی کی غلطی ہو تو اس کو گھٹاتے ہیں ، اور اپنے سے باہر کا آدمی غلطی کر دے تو اس کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں۔ بس یہی دو عملی سارے فساد کی جڑ ہے ۔ اگر لوگوں کے اندر یہ مزاج آجائے کہ وہ معاملات کو انصاف کی نظر سے دیکھیں۔ وہ اپنوں کے معاملہ میں نرمی کا جو طریقہ اختیار کرتے ہیں، وہی نرم طریقہ غیروں کے معاملہ میں بھی اختیار کریں تو کبھی کوئی جھگڑا نہ ہو۔ اس کے بعد تمام شر و فساد اپنےآپ ختم ہو جائے ۔
حال میں میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی جو تیس سال سے تجارت کرتے ہیں۔ اور آج کل جدہ میں ہیں۔ وہ اپنی تجارت میں نہایت کامیاب ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے زندگی کا بہت تجربہ اٹھایا ہے اور بہت سے ملکوں کا سفر کیا ہے ۔ یہ بتائیے کہ لوگوں کے درمیان کامیاب زندگی گزارنے کا راز کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس کا راز وہی ہے جس کو قرآن میں اعراض کہا گیا ہے۔ یعنی ناموافق باتوں سے ٹکرانے کے بجائے ان کو نظر انداز کرنا۔ انھوں نے کہا کہ میں ہمیشہ ٹکراؤ کے موقع پر یک طرفہ طور پر پیچھے ہٹنے کے لیے تیار رہتا ہوں ۔ اس لیے میرا راستہ کبھی کھوٹا نہیں ہوتا۔ میرے لیے کوئی رکاوٹ رکاوٹ ثابت نہیں ہوتی۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اپنے بہت سے واقعات بتائے۔
مثلاً انھوں نے کہا کہ ایک شخص کسی بات پر مجھ سے بگڑ گیا۔ اگلے دن وہ میرے پاس آیا اور مجھ کو بری طرح گالیاں دینے لگا۔ اس نے مجھے زبر دست دھمکیاں دیں۔ میں خاموش سنتا رہا۔ اس کے بعد میں نے کہا تم کو جو کرنا ہو کر و۔ مگر جان لو کہ میرے پاس بھی ایک حربہ ہے ۔ اس نے غصہ کے ساتھ پوچھا کہ وہ کیا حربہ ہے۔ میں نے کہا کہ تم جتنا زیادہ مجھے گالیاں دوگے میں اتنا ہی زیادہ تم کو دعائیں دوں گا۔ تم جتنا زیادہ مجھ کو دباؤ گے میں اتنا ہی زیادہ جھکتا چلاؤں گا۔ میری یہ بات سن کر اس کا سارا جوش ختم ہو گیا۔ وہ چپ چاپ واپس چلا گیا اور پھر کبھی میرے خلاف کوئی بات نہیں کی۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس پالیسی کا نتیجہ صرف یہی نہیں ہے کہ میں غیر ضروری نقصانات سے بچ جاتا ہوں۔ اس کا مزید فائدہ یہ ہے کہ میرے اندر بے پناہ جرأت آگئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دوسروں سے نفرت آدمی کو بزدل بناتی ہے ۔ اور دوسروں سے محبت آدمی کو بہا در بنا دیتی ہے۔اور بلاشبہ یہ نہایت سچی بات ہے ۔
ہندستان کے حالات میں فرقہ وارانہ مسئلہ کی سب سے بڑی نفسیاتی وجہ شک و شبہہ ہے۔ مختلف تاریخی اسباب سے یہاں ایک دوسرے کے خلاف غیر ضروری قسم کے شبہات کی فضا پیدا ہو گئی ہے ۔ ان شبہات کو پچھاڑ کر باہر آجائیے اور پھر تمام فرقہ وارانہ مسائل آپ کو فضا میں تحلیل ہوتے ہوئے نظر آئیں گے ۔
ایک مرتبہ میں ہوائی جہاز سے یورپ کے ایک مقام کا سفر کر رہا تھا۔ ہوائی اڈہ پر پہنچا تو اس قدر کہر چھایا ہو ا تھا کہ سورج دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس کہر کی حالت میں ہمارا جہاز او پر بلند ہوا۔ کچھ دیر تک تو چاروں طرف اندھیرے کی وہی کیفیت رہی جو ہوائی اڈہ پر نظر آرہی تھی ۔ مگر جب جہاز اپنی پوری بلندی پر پہونچ گیا تو میں نے جہاز کی کھڑکی سے دیکھا کہ سورج کی روشنی پورے آب و تاب کے ساتھ چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے ۔ ایسا ہی کچھ معاملہ شبہات کا ہے۔ ہم اکثر شبہات کے کُہر میں گھر کر سوچتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ شبہات کا دائرہ ایک مصنوعی اور محدود دائرہ ہے ۔ اگر ہم تھوڑی سی کوشش کر کے اس دائرہ کے باہر آجائیں تو ہر طرف ہم کو یقین اور اطمینان کا سورج چمکتا ہو انظر آنے لگےگا۔
مجھے ایک شہر کا حال معلوم ہے ۔ وہاں ہر سال ایک فرقہ کا جلوس نکلتا ہے جو دوسرے فرقہ کی عبادت گاہ سے گزرتا ہے ۔ عبادت گاہ کے پاس پہونچ کر جلوس چھ گھنٹہ اور آٹھ گھنٹہ تک رکا رہتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عبادت گاہ کے لوگ روک ٹوک کرتے اور یہ کہتے کہ جلوس کو دوسرے راستے سے لے جاؤ۔ اس طرح بات بڑھتی اور ضد کی فضا پیدا ہو جاتی، یہاں تک کہ فساد ہو جاتا ۔ پچھلے سال عبادت گاہ کے لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ جلوس کے خلاف کوئی روک ٹوک نہ کریں گے۔ چنانچہ جلوس حسب سابق آیا تو وہاں دوسرے فرقہ کا کوئی آدمی اسے روکنے کے لیے موجود نہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جلوس صرف آدھ گھنٹہ میں گزر گیا اور کسی قسم کا کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ ضد کے جواب میں ہمیشہ ضد پیدا ہوتی ہے ۔ اگر آپ ضد نہ کریں تو دوسرے کی ضد اپنے آپ ختم ہو جائےگی۔
اسی طرح میں ایک شہر کے بارے میں جانتا ہوں جہاں دو مسجدیں ہیں ۔ اور دونوں بہت پہلے سے آثار قدیمہ کے قبضہ میں تھیں۔ ان میں سے ایک مسجد بہت چھوٹی مسجد ہے اور دوسری مسجد اس کے مقابلہ میں دس گنا زیادہ بڑی ہے ۔ بڑی مسجد پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا جب کہ چھوٹی مسجد پر ابھی تک جھگڑا چل رہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چھوٹی مسجد کو کچھ موقع پرست لیڈروں نے جلسہ جلوس کا مسئلہ بنا دیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ دونوں فرقوں کے لیے ساکھ کا مسئلہ بن گیا اور اس کی بازیابی کی راہ میں سیاسی نزاکتیں پیدا ہو گئیں۔
اس کے برعکس، بڑی مسجد کا معاملہ لیڈروں تک نہیں پہونچا۔ وہ مقامی طور پر غیر معروف مسلمانوں کے ہاتھ میں رہا جنھوں نے اس کی بازیابی کے لیے انفرادی سطح پر کوششیں کیں۔ یہ کوشش چونکہ غیر سیاسی انداز میں تھی ، اس میں انھیں دوسرے فرقہ کا تعاون بھی حاصل ہوا۔ یہاں تک کہ مسجد اور اس سے ملحق وسیع زمین مسلمانوں کے قبضہ میں آگئی ۔ میں نے خود جاکر اس مسجد اور اس کے علاقہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ وہاں اب مسجد اور مدرسہ قائم ہے ۔ بجلی اور ٹیلی فون بھی لگ گیے ہیں۔ لوگ سکون کے ساتھ دینی اور تعلیمی کام میں مشغول ہیں ۔
اختلافی معاملہ کو جلسہ جلوس کا مسئلہ بنا نا اس کی نزاکت کو بڑھاتا ہے ۔ اس کے برعکس، اگر خاموشی کے ساتھ اس کے حل کی تدبیریں کی جائیں تو مسئلہ کے حل کی راہیں نکل آتی ہیں ۔
اسی طرح مجھے ایک قصبہ کے بارے میں معلوم ہے ۔ وہاں مسلمان ایک مسجد اور مدرسہ بنا رہے تھے۔ بنیاد کھودی جانے لگی تو دوسرے فرقہ کے کچھ لوگ آئے اور انھوں نے کہا کہ ہم یہاں سے دیوار نہیں اٹھنے دیں گے۔ آپ دو گز پیچھے لے جا کر اپنی دیوار اٹھائیے، مدرسہ کے ذمہ دار فوراً راضی ہو گیے اور کام کو روک دیا۔ اگلے دن اس فرقہ کے بڑے لوگ ان کے پاس آئے ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے بعض نادانوں نے آپ کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالی تھی۔ ہم نے انھیں سمجھا دیا ہے۔ آپ پہلے جہاں دیوار اٹھا رہے تھے دوبارے وہیں سے اپنی دیوار اٹھائیے ، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر مسئلہ نادانی سے پیدا ہوتا ہے اور اس کو دانش مندی کے ذریعہ ختم کیا جا سکتا ہے۔ یہی معاملہ فرقہ وارانہ مسئلہ کا بھی ہے ۔ فرقہ وارانہ جھگڑوں کے پیچھے ہمیشہ کچھ نادانوں کی نادانیاں شامل رہتی ہیں۔ اگر دوسرے لوگ آگے بڑھ کر دانش مندی کا طریقہ اختیار کریں تو یقینی طور پر ہر جھگڑا اپنے آغاز ہی میں ختم ہو جائے گا۔
______________________________________________
نوٹ:یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو ، بمبئی، سے 12اپریل 1987 کو نشر کی گئی ۔
