تفسیر بالرائے
قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کرنا ایک گناہ کا فعل ہے۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر قرآن کی کسی آیت کا غلط مفہوم بیان کرے تو یہ تحریف ہے(2:75)۔اور قرآن میں اس قسم کی تحریف بلا شبہ ایک ناقابل معافی جرم ہے۔
یہ معاملہ اتنا زیادہ نازک ہے کہ محض اپنی رائے کے تحت کی ہوئی تفسیراگر بالفرض درست ہو تب بھی یہ اندیشہ ہے کہ وہ آدمی کے لیے گناہ کا سبب نہ بن جائے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَنْ قَالَ فِي كِتَابِ اللهِ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأَ (سنن ابو داؤد،حدیث نمبر3652)۔ یعنی، جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اپنی رائے سے کہا اور اس نے صحیح کہا تب بھی اس نے غلطی کی۔
ضروری تفسیری تقاضوں کو پورا کیے بغیر محض اپنی رائے سے قرآن کا مفہوم بیان کرنا ایک غیر محتاط روش ہے۔ اس لیے ایسے کسی آدمی کی تفسیر اگر اتفاقاً درست ہو تب بھی ایسا شخص اپنی غیر محتاط روش کی بنا پر غلط کار ٹھہر ے گا۔ ایسے آدمی کو صحیح تفسیر کر نے کا انعام نہیں مل سکتا۔
تفسیر قرآن کے سلسلے میں کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ حدیث اور آثار میں جو تفسیر یں منقول ہیں یا قدماء نے قرآنی آیات کی جو تفسیریں بیان کی ہیں، تفسیر قرآن کا کام بس اسی دائرے کے اندر ہونا چاہیے۔ گویا بعد کی مسلم نسلوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ ابتدائی دور کے علما اور مفسرین کے اقوال کو دہراتے رہیں۔ مگر مذکورہ حدیث کا یہ مطلب درست نہیں۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قرآن ایک با برکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر تدبر کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں (38:29)۔ قرآن جب ایک ایسی کتاب ہے،جس پر ہر قاری تدبر اور غور و فکر کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ صرف پچھلی بیان کردہ باتوں کو پڑھا جائے، اور بس انہیں کو دہرایا جا تا رہے۔ تدبر کا لفظ اپنے آپ میں اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن کے قاری سے یہ مطلوب ہے کہ وہ گہرے غور و فکر سے اس میں نئے نئے معانی دریافت کرے اور ان سے اپنے ایمانی شعور میں اضافہ کر تا رہے۔ قرآن میں اگر یہ صفت نہ ہو تو وہ لوگوں کے لیے نصیحت اور اضافہ ٴایمان کی کتاب نہ بن سکے گا۔ گہری نصیحت نئے نئے معانی کی دریافت کے ذریعہ ہوتی ہے نہ کہ کچھ معلوم اور محدود باتوں کی تکرار سے۔
یہ کوئی قیاسی بات نہیں۔ حدیث سے صراحتاًبھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن میں نئے معانی کی دریافت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ چنانچہ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ نے فرمایا:وَلا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2906)۔ یعنی، قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہونگے۔ ایک اور روایت میں ’’لا تفنی‘‘ کا لفظ ہے (سنن الدارمی، حدیث نمبر 3375)۔ یعنی قرآن کے عجائب کبھی فنا نہ ہوں گے۔ اس حدیث میں عجائب سے مراد معنوی عجائب ہیں۔ یعنی قرآن کے معانی اتنے زیادہ ہیں کہ ہر دور کے علما اس سے نئے نئے معانی دریافت کرتے رہیں گے۔ اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہےگا۔
تاریخ کے ہر دور میں قرآن کی آیتوں میں نئے نئے معانی کی دریافتوں کا سلسلہ جاری رہا ہے جس کو استنباط کہا جاتا ہے۔ اس کی مثالیں تفسیر کی ہر کتاب میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ موجودہ زمانے میں بھی یہ سلسلہ برابر جاری ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں اعداد قوت کے حکم کے تحت جنگی گھوڑوں کی فراہمی کا حکم دیا گیا ہے (8:60)۔ موجودہ زمانے میں جنگی گھوڑوں کی جگہ جنگی مشینوں نے لے لی ہے۔ چنانچہ تمام علما اب اس آیت کی تفسیر کے تحت کہتے ہیں کہ حالات کی تبدیلی کی بنا پر اس آیت میں جنگی گھوڑوں کے بجائے جنگی مشینوں کی فراہمی مراد لی جائے گی۔ کیونکہ اب جنگی گھوڑوں کے ذریعہ ارہاب کا فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ جس کو مذکورہ آیت میں اعداد قوت کا مقصود بتایا گیا ہے۔ اب ارہاب کا یہ فائدہ مشینی طاقت کے ساتھ وابستہ ہو گیا ہے۔
قرآن ہر دور میں مسلمانوں کے لیے ذہنی اور علمی ارتقاء کا ذریعہ رہا ہے۔ قرآن کی سب سے اہم صفت یہ ہے کہ وہ ذہنِ انسانی کو مہمیز کرتا ہے اور اس کو بار بار غور و فکر کے اوپر ابھارتا ہے۔ قرآن اپنے لا محدود معانی کی بنا پر اہل اسلام کے لیے فکری ارتقاء کا ضامن ہے۔ ایسی کتاب میں نئی علمی دریافتوں کا دروازہ بند کر نا خود اس کتاب کے مقصد کی نفی کے ہم معنی ہے۔ ایسا کرنے کی صورت میں اہل اسلام ذہنی جمود کا شکار ہو جائیں گے۔ وہ نہ خود علمی ترقی کریں گے اور نہ انسانی قافلوں کی علمی و فکری قیادت کا مطلوب کام انجام دے سکیں گے۔
اصل یہ ہے کہ قرآن کی تفسیر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ تفسیر جو تدبر کے ساتھ کی جائے اور دوسری تفسیر وہ ہے جو تدبر کے بغیر کی جائے۔ اس دوسری تفسیر کا نام تفسیر بالرائے ہے۔ تدبر کے ساتھ تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ قاری عربی زبان نیز احادیث و آثار سے بخوبی واقفیت حاصل کرے۔ وہ قرآن کی صرف ایک آیت کو لے کر اس کی تفسیر نہ کرنے لگے ، بلکہ وہ مجموعی طور پر پورے قرآن کے منشاومقصود کو سامنے رکھے۔ وہ قرآن سے متعلق دوسرے علوم سے گہری واقفیت حاصل کرے۔اسی طرح وہ یہ کرے کہ دورِ اوّل سے لے کر بعد کے زمانے تک مسلّمہ دینی شخصیتوں نے جو تفسیریں کی ہیں ان سے وہ بھرپور واقفیت حاصل کرے۔ اس کے ساتھ وہ تقویٰ کی صفت اپنے اندر پیدا کرے جس کو قرآن میں علم کا سر چشمہ بتایا گیا ہے (2:282)۔ یہ قرآن کی تفسیر کا صحیح طریقہ ہے۔
اس کے برعکس، تفسیر بالرائے یہ ہے کہ آدمی صرف اپنی رائے پر اعتماد کرے۔ آیت کے حوالے سے اس کے ذہن میں جو بھی خیال آجائے وہ اس کو قرآن کی تفسیر سمجھ کر اسے بیان کرنے لگے۔ خواہ آیت کے سیاق و سباق سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ خواہ قرآن کے مجموعی احکام سے وہ مطابقت نہ رکھتا ہو۔ یہاں تفسیر بالرائے کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔
1۔ تفسیر بالرائے کی ایک صورت وہ ہے جو اتنی قبیح ہے کہ اس کو سننے اور پڑھنے کے بعد فوراً ہی سنجیدہ آدمی کا ذہن اس کو رد کر دے۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے ’’وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ‘‘ (74:3)۔ اس آیت کا ترجمہ کچھ لوگوں نے یہ کیا کہ اور تم اپنے رب کو بڑا کرو۔ اس ترجمہ کو لے کر آیت کی تفسیر انہوں نے یہ کی کہ خدا کی (سیاسی بڑائی) دنیا میں قائم کرو، خدا کی حکومت کا جھنڈادنیا میں بلند کرو۔
یہ ترجمہ اور تفسیر دونوں تفسیر بالرائے کی ایک بد ترین صورتیں ہے، عقل سلیم ہی اس کو غلط سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ اللہ اپنے آپ میں بڑا ہے۔ وہ اس کا محتاج نہیں کہ اس کی کوئی مخلوق کسی پہلو سے اس کو بڑا کرے۔ آیت کے مطابق، انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اللہ کی عظمت کو اپنے دل اور دماغ میں اتارے۔اللہ کی عظمت کا احساس اس کی روح کے اندر تیرنے لگے۔اپنے چھوٹا ہونے اور اللہ کے بڑا ہونے کا عرفان اس کو انسان اصلی (man cut to size) بنادے۔ یہی تکبیرِ رب کا مطلب ہے۔
مذکورہ آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ— اور اپنے رب کی بڑائی کرو، یا اپنے رب کی بڑائی بول، یا اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ اس ترجمہ کے مطابق، آیت میں جس تکبیرِ رب کا ذکر ہے اس کا تعلق کسی خارجی سیاست سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق آدمی کی اپنی داخلی کیفیت سے ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کا دماغ اللہ کی عظمت کو شعوری طور پر دریافت کرے۔ اس کا دل اللہ کی عظمت کے احساس سے تڑپ اٹھے۔ اللہ کی عظمت کا اعتراف اس کی زبان پر جاری ہو جائے۔ یہی وہ تکبیر ِرب ہے جس کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے۔
2۔ قرآن کے آغاز میں یہ آیت آئی ہے ’’ ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ ‘‘ (2:2)۔ یعنی، یہ کتاب (الٰہی) ہے، اس میں کوئی شک نہیں،یا یہ کہ یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ اس آیت کی نحوی ترکیب میں کچھ اختلاف ہے۔ تاہم ہر مفسر نے یہاں کتاب کو کتاب ہی کے معنی میں لیا ہے۔ اس کے بارے میں ایک صاحب نے لکھا ہے کہ وہ تمام تر جمے غلط ہیں جن میں ’’ذَٰلِكَ الْكِتَابُ‘‘ کا ترجمہ کتاب سے کیا جا تا ہے۔ ان کے نزدیک قرآن تمام علوم کا خزانہ ہے۔اس لیے ذلك الكتاب کا سب سے قریبی ترجمہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک انسائیکلو پیڈیا ہے۔
یہ ترجمہ یقینی طور پر رائے کی بنیاد پر کیا گیا ہے نہ کہ حقیقی علم کی بنیاد پر اس لیے کہ انسائیکلو پیڈیا ایسی کتاب کا نام ہوتا ہے جس میں ہرقسم کی معلومات یکجا کی گئی ہوں۔ مگر قرآن انسائیکلو پیڈیائی مفہوم میں معلومات کا مجموعہ نہیں۔ اس کے بجائے وہ علم اور معرفت کا مجموعہ ہے۔ وہ خزانہ حکمت ضرور ہے مگر وہ معروف معنی میں، خزانہ معلومات نہیں۔
مثال کے طور پر اسلام کا کلمہ لا اله الا الله محمد رسول اللہ ہے، مگر قرآن میں یکجائی طور پر کہیں یہ کلمہ موجود نہیں۔ اسلام میں نماز پانچ وقتوں کے لیے فرض کی گئی ہے۔ مگر پانچ کے عددی تعین کے ساتھ قرآن میں نماز کا حکم موجود نہیں۔ انسائیکلو پیڈیا میں جن اشخاص کا ذکر آتا ہے، اس میں سال پیدائش اور سال وفات کے ساتھ ان کا ذکر آتا ہے۔ مگر قرآن میں پیغمبر اسلام نیز دوسرے پیغمبروں میں سے کسی بھی پیغمبر کی سال پیدائش یا سال وفات قرآن میں مذکور نہیں۔ اس طرح کی ہزاروں معلوماتی باتیں ہیں جن سے قرآن کے صفحات خالی ہیں۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں کتاب کا ترجمہ انسائیکلو پیڈیا کے لفظ سے کرنا ایک ذاتی اپج ہے ، اس کے حق میں کوئی علمی بنیاد موجود نہیں۔
3۔ قرآن میں ایک حکم وہ ہے جو’’ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ ‘‘ ( 42:13) کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اس آیت کا سادہ ترجمہ یہ ہے کہ تم الدین کو قائم کرو۔ کچھ لوگوں نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس آیت میں الدین سے مراد قرآن و حدیث میں وارد شدہ تمام شرعی اور دینی احکام ہیں۔ اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام شرعی اور دینی احکام کو ایک مکمل نظام کے طور پر دنیا میں نافذ کرو۔
آیت کی تفسیر بلا شبہ تفسیر بالرائے کے حکم میں آتی ہے کیوں کہ وہ قرآن فہمی کے واضح اصولوں کے خلاف ہے۔ مثال کے طور پر، اس آیت میں صراحۃً اس حصہ دین کی اقامت کا حکم دیا گیا ہے۔جو حضرت نوح کو اور حضرت ابراہیم کو اور حضرت موسیٰ کو اور حضرت عیسیٰ کو اور حضرت محمد کو مشترک طور پر دیا گیا۔ اس مخصوص انداز بیان کی بنا پر تمام مفسرین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ یہاں الدین سے مراد صرف دین کی اساسی تعلیمات ہیں کیوں کہ مختلف پیغمبر وں کا مشترک دین یہی اساسی تعلیمات تھیں۔ جہاںتک تفصیلی شرائع کا تعلق ہے وہ نص قرآنی (5:48) کے مطابق مختلف پیغمبروں کے یہاں مختلف تھیں۔
اس آیت میں جو حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ الدین کو قائم کرو اور اس میں متفرق نہ ہو (42:13)۔ چونکہ دین کی مشترک پیروی صرف اساسی دینی تعلیمات ہی میں ہو سکتی ہے اس لئے یہاں صرف اساسی دینی تعلیمات کو اقامت کے تحت سمجھا جائے گا۔ تمام شرائع کو اس کے تحت لینے کی صورت میں تفرق لازم آئے گا ، یعنی وہی چیز جس سے آیت میں منع کیا گیا ہے۔
