ناقص استدلال

موجودہ زمانے میں جن لوگوں نے دین کی سیاسی تعبیر کی ہے، ان میں سے ایک مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی ہیں۔ ان کی تنظیم جماعت اسلامی، اور مصر کی الاخوان المسلمون، دونوں اپنے اپنے علاقے میں اپنے حکمرانوں کے خلاف سیاسی جہاد میں مشغول ہیں۔ یہ عین وہی عمل ہے جس کو قدیم اصطلاح میں خروج کہا جاتا تھا، یعنی سیاسی بگاڑ کو درست کرنے کے نام پر حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چلانا۔

مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اس فکر کے ممتاز وکیل سمجھے جاتے ہیں۔ وہ کس طرح اس سیاسی انحراف کی توجیہ کرتے ہیں، اس سلسلے میں یہاں ان کی تحریروں کے دو اقتباس نقل کیے جاتے ہیں۔

تفہیم القرآن میں سورہ الحجرات (آیت 9) کے تحت انہوں نے یہ بحث چھیڑی ہے کہ ان لوگوں کی شرعی حیثیت کیا ہے جو ایک ایسی حکومت کے خلاف خروج کریں جو ان کی نظر میں ظالم حکومت ہو ’’جس کی امارت (ان کے خیال کے مطابق) جبراً قائم ہوئی ہو۔ اور جس کے امراء فاسق ہوں۔ اور خروج کرنے والے (اپنے اعلان کے مطابق) عدل اور حدود اللہ کی اقامت کے لیے اٹھے ہوں۔ اور ان کا ظاہر حال یہ بتا رہا ہو کہ وہ صالح لوگ ہیں۔ اس صورت میں ان کو باغی ، یعنی زیادتی کرنے والا گروہ قرار دینے اور اس کے خلاف جنگ کو واجب قرار دینے میں فقہاء کے درمیان سخت اختلاف واقع ہو گیا ہے۔‘‘

اس کے بعد لکھتے ہیں کہ جمہور فقہاء اور اہل الحدیث کی رائے یہ ہے کہ جس امیر کی امارت ایک دفعہ قائم ہو چکی ہو، اور مملکت کا امن و امان اور نظم و نسق اس کے انتظام میں چل رہا ہو، وہ خواہ عادل ہو یا ظالم، اور اس کی امارت خواہ کسی طور پر قائم ہوئی ہو، اس کے خلاف خروج کرنا حرام ہے، الاّیہ کہ وہ کفرِ صریح کا ارتکاب کرے۔ امام سرخسی لکھتے ہیں کہ جب مسلمان ایک فرماں روا پر مجتمع ہوں اور اس کی بدولت ان کو امن حاصل ہو اور راستے محفوظ ہوں۔ ایسی حالت میں اگر مسلمانوں کا کوئی گروہ اس کے خلاف خروج کرے تو جو شخص بھی جنگ کی طاقت رکھتا ہو اس پر واجب ہے کہ مسلمانوں کے اس فرماں روا کے ساتھ مل کر خروج کرنے والوں کے خلاف جنگ کرے۔ امام نووی شرح مسلم میں کہتے ہیں کہ ائمہ، یعنی مسلمان فرماں رواؤں کے خلاف خروج اور قتال حرام ہے، خواہ وہ فاسق اور ظالم ہی کیوں نہ ہوں ، اس پر امام نووی اجتماع کا دعویٰ کرتے ہیں ۔( تفہیم القرآن، جلد 5، صفحہ80-79)

مذکورہ اقتباس اپنی تردید آپ ہے۔ اس میں صاحب مضمون ایک طرف یہ اقرار کر رہے ہیں کہ ’’جمہور فقہاء اور اہل الحدیث‘‘ کی رائے یہ ہے کہ قائم شدہ مسلم حکومت کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔ دوسری طرف اسی عبارت میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس بارے میں ’’فقہا ءکے درمیان سخت اختلاف واقع ہو گیا ہے۔‘‘

یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ کیوں کہ جس فعل کو ’’جمہور فقہاء‘‘ حرام قرار دے رہے ہوں، اسی کے بارے میں فقہاء کے درمیان ’’سخت اختلاف‘‘کیسے واقع ہو جائے گا۔ ایک ہی عبارت میں اس قسم کا متضاد بیان ظاہر کرتا ہے کہ مصنف اس معاملے میں اپنے آپ کو بے دلیل محسوس کر رہے ہیں۔ اس لیے بوکھلاہٹ میں وہ ایسی باتیں کہہ رہے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں ۔ جو خود ہی ایک دوسرے کی تردید ہیں۔

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے مذکورہ عبارت کے بعد بعض فقہاء اور علماء کی رائیں پیش کر کے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کے نزدیک بگڑے ہوئے مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنا جائز بلکہ ضروری ہے۔ مگر تقریباً چار صفحہ کی یہ پوری بحث سراسر ناقص اور غیر علمی ہے۔

مثلاً اس میں سیاسی تنقید کے جواز کو سیاسی بغاوت کے جواز کے ہم معنی سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ دونوں کی نوعیت بالکل جداگانہ ہے۔ لفظی تنقید، حسن نیت کی شرط کے ساتھ، کسی بھی شخص کے بارے میں کی جا سکتی ہے۔ مگر کسی کے خلاف عملی اقدام کی اس طرح آزادانہ اجازت نہیں۔

امام ابو حنیفہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ظالم امراء کے خلاف قتال کو نہ صرف جائز سمجھتے تھے ، بلکہ اس قسم کے قتال کو اہل کفر کے خلاف جہاد سے بھی زیادہ افضل قرار دیتے تھے۔ یہ بلاشبہ ایک لغو بات ہے۔ خود مولانا مودودی کے بیان کے مطابق ، امام ابو حنیفہ کے زمانہ میں مسلم سلاطین میں ظلم و جبر آ چکا تھا۔ مگر امام ابو حنیفہ نے ان کے خلاف کبھی قتال نہیں کیا۔ ان کے ممتاز شاگرد امام ابو یوسف نے انہیں حکمرانوں کے تحت قضا کا سرکاری عہدہ قبول کر لیا۔ پھر کیا امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف بزدل اور مصلحت پرست تھے۔ کیا ان کا قول کچھ تھا اور ان کا عمل کچھ۔

اسی طرح اس بحث میں غیر متعلق باتوں کو اپنے نظریہ کی دلیل بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ مثلاً کہا گیا ہے کہ حضرت علی نے ’’جنگ جمل میں فتح یاب ہونے کے بعد اعلان کیا کہ بھاگنے والے کا تعاقب نہ کرو، زخمی پر حملہ نہ کرو، گرفتار ہو جانے والوں کو قتل نہ کرو، جو ہتھیار ڈال دے اس کو امان دو، لوگوں کے گھروں میں نہ گھسو، اور عورتوں پر دست درازی نہ کرو، خواہ وہ تمہیں گالیاں ہی کیوں نہ دے رہی ہوں۔ آپ کی فوج کے بعض لوگوں نے مطالبہ کیا کہ مخالفین کو اوران کے بال بچوں کو غلام بنا کر تقسیم کر دیا جائے۔ اس پر غضب ناک ہو کر آپ نے فرمایا ، تم میں سے کون ام المؤمنین عائشہ کو اپنے حصے میں لینا چاہتا ہے؟‘‘۔  (صفحہ82-81)

اس طرح کے اقوال اور احکام کو مولانا مودودی نے بظاہر مسلک بغاوت کا جواز ثابت کرنے کے لیے نقل کیا ہے۔ حالانکہ ان اقوال اور احکام کا اس قسم کے مسلک سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تمام حوالے ’’حکمراں کیا کرے‘‘ کے مسئلہ سے تعلق رکھتے ہیں ، نہ کہ ’’باغی کیا کریں‘‘ کے مسئلے سے۔

یہ اقوال و احکام حکمراں کے خلاف مسلمانوں کی بغاوت کو جائز قرار نہیں دیتے۔ وہ صرف یہ بتاتے ہیں کہ جب کچھ مسلمان اپنی نادانی یا سرکشی سے مسلم حکمراں کے خلاف بغاوت کا اقدام کر بیٹھیں تو حکمراں کو چاہیے کہ وہ ان کے ساتھ اسلامی شرافت والا معاملہ کرے۔ وہ ان کے ساتھ عام دشمنوں جیسا سلوک نہ کرے ، جیسا کہ ام المؤمنین عائشہ کے بارے میں حضرت علی کے قول سے واضح ہو رہا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion