اختلاف کی حد
پیغمبراسلامﷺنےایک طرف یہ فرمایاکہ:أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ، أَوْ أَمِيرٍ جَائِرٍ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر4344)۔ یعنی، ظالم حکمراں کے سامنےحق وعدل کی بات کہناافضل جہادہے۔
دوسری طرف حدیث میں آیاہےکہ پیغمبر اسلام نے فرمایا:مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1849)۔یعنی، جو شخص اپنے حاکم میں ایسی چیز دیکھے جو اس کو پسند نہ ہو تو وہ اس پر صبر کرے۔ اسی طرح آپ نےفرمایا:تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ(صحیح مسلم، حدیث نمبر 1847)۔ یعنی، تم اپنے حاکم کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، خواہ وہ تمہاری پیٹھ پر کوڑا مارے اور تمہارا مال چھین لے۔
ان حدیثوں میں بظاہردوقسم کےاحکام ہیں۔ایک طرف یہ حکم ہےکہ تم اپنےحاکم میں کوئی غلط بات دیکھوتوکھلےطورپر اس کااعلان کرو۔دوسری طرف حدیث یہ بتاتی ہے کہ امیرکےاندرتمہیں کوئی غلط بات دکھائی دےتواس پرصبرکرو، اگروہ تمہارےاوپر ظلم کرے تب بھی تم اس کو برداشت کرو۔
یہ ایک بےحد اہم ہدایت ہے جس سے دو چیزوں کا فرق معلوم ہوتاہے۔ اور وہ ہے، اعلان اوراقدام کافرق۔یہ ایک مطلوب بات ہےکہ آدمی حکمراں کےاندرکوئی غلط بات دیکھے تو وہ نصیحت اورخیرخواہی کےاندازمیں اس کااعلان کرے۔مگرجہاں تک عملی اقدام کا تعلق ہے تو آدمی کواس سےمکمل طورپربازرہناچاہیے۔آدمی کوچاہیےکہ وہ نصیحت اور ٹکراؤ کی سیاست میں فرق کرے۔ نصیحت کےجائزحق کواستعمال کرتےہوئےوہ سیاسی ٹکراؤ سے مکمل طورپربچے۔
فرق کااصول بےحداہم ہے۔سماج میں جب بھی تشدّدکاماحول بنتا ہے، وہ اس وقت بنتاہےجب کہ لوگ حکمراں کے خلاف عملی ٹکراؤکی مہم شروع کردیں۔وہ اصلاح سیاست کےنام پرحکمراں کواقتدارسےبےدخل کرنےکامنصوبہ بنائیں۔ لیکن اگر اس قسم کی نزاعی سیاست سےبچتےہوئےصرف قولی نصیحت پراکتفاکیاجائےتوہمیشہ ایسا ہوگا کہ سماج میں امن قائم رہےگا،سماج کبھی بھی تشدّدکاجنگل نہیں بنےگا۔
