سیکنڈری پوزیشن
مسجد کی نماز باجماعت میں ہر روز ایک سبق دیا جاتا ہے۔ وہ سبق یہ ہے کہ دس ہزار نمازیوں میں سے نوہزار نوسو ننانوے نمازی جب مقتدی بن کے اپنے لیے ثانوی حیثیت (secondary position) کو قبول کرتے ہیں، اس وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک شخص کی امامت میں نماز باجماعت ادا کی جاسکے۔ یہی فارمولا مسجد کے باہر کی زندگی کے لیے بھی مطلوب ہے۔ جس سماج یاگروہ کے اندریہ مزاج نہ ہووہاں نہ اتحادقائم ہوگا اور نہ کوئی ترقی ہوسکے گی۔ زندگی میں ثانوی حیثیت کوقبول کرناکسی بھی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
ملی یااجتماعی زندگی کےلیے یہ مزاج انتہائی طورپرضروری ہے۔مگریہ مزاج اپنےآپ پیدانہیں ہوتا۔اس کےلیے شعوری تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔کسی قوم میں سب سے زیادہ اہمیت ایسی تحریک کی ہےجولوگوں میں اس قسم کامزاج پیدا کرے۔شعورکی بیداری اصل کام کی حیثیت رکھتی ہے۔کسی بھی تعمیری تحریک کا نقطۂ آغازشعورکی تربیت ہے،نہ کہ پر جوش مظاہرہ یاعملی اقدام۔
