یہود کے نقش قدم پر

حضرت سلیمان بن داؤد (930-990 ق م) کا زمانہ یہود کی تاریخ میں سب سے زیادہ باعظمت زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں فلسطین اور اطراف کے علاقوں میں ان کی مضبوط اور شاندار سلطنت قائم تھی۔ حضرت سلیمان کے بعد یہودیوں میں دینی اور اخلاقی زوال شروع ہوا۔ وہ خدا سے بے خوف ہو کر سطحی اعمال میں مبتلا ہو گئے اور آپس میں ایک دوسرے سے لڑنے لگے۔

اس زمانہ میں یہود کے مصلحین اور انبیاء نے ان کو زبردست تنبیہات کیں، جو آج بھی کثرت سے بائبل میں موجود ہیں۔ یہاں مثال کے طور پر ایک جزء نقل کیا جاتا ہے:

رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ میں ان پرتلوار اور کال اور وبا بھیجوں گا اور ان کو خراب انجیروں کی مانند بناؤں گا جو ایسے خراب ہیں کہ کھانے کے قابل نہیں۔ اور میں تلوار اور کال اور وبا سے ان کا پیچھا کروں گا اور میں ان کو زمین کی سب سلطنتوں کے حوالے کروں گا کہ دھکے کھاتے پھریں اور ستائے جائیں اور سب قوموں کے درمیان جن میں میں نے ان کو ہانک دیا ہے لعنت اور حیرت اور سسکار اور ملامت کا باعث ہوں۔ اس لیے کہ انہوں نے میری باتیں نہیں سنیں۔ خدا وند فرماتا ہے کہ جب میں نے اپنے خدمت گزار نبیوں کو ان کے پاس بھیجا، ہاں ان کو بروقت بھیجا، پر تم نے نہ سنا (یرمیاہ 29:18)۔

اس بگاڑ اور اختلاف کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی سلطنت ٹوٹ کر دو حصوں میں بٹ گئی۔ ایک، یہود یہ جو جنوبی فلسطین اور ادوم کے علاقہ میں تھی ، اس کا پایہ تخت یروشلم تھا۔ دوسرے ، اسرائیل جو شمالی فلسطین اور شرق اردن کے علاقہ میں قائم ہوئی ، اس کا پایہ تخت سامریہ قرار پایا۔ حضرت داؤد ا ور حضرت سلیمان کی قائم کی ہوئی عظیم ریاست ٹکڑے ٹکڑے ہو کر صرف دو کمزور حکومتوں کی صورت میں باقی رہ گئی۔

یہودیوں کے اخلاقی زوال اور باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھا کر ا طراف کی سلطنتوں نے ان پر حملے شروع کر دیے۔ 721 میں اشور (Assyrian) کے حکمراں سارگون نے سامریہ کو فتح کر کے اسرائیل کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ اس کے بعد 598 میں بابل کے بادشاہ نبوکدنضر (Nebuchadnezzar) نے یروشلم کو مسخر کر کے سلطنت یہودیہ پر قبضہ کر لیا۔

خدا کے خاص لوگوں کے اوپر غیر قوم کا قبضہ یہود کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ ان کے اندر شدت سے مخالفانہ جذبات جاگ اٹھے۔ ان کے درمیان وہ قومی رہنما ابھرے جن کو بائبل میں ’’جھوٹے نبی‘‘ یا ’’جھوٹی نبوت کرنے والے لوگ‘‘ کہا گیا ہے۔ یہ لوگ اگرچہ دینی الفاظ بولتے تھے۔ مگر حقیقتاً جو چیز ان کی رہنما تھی وہ صرف ان کے اپنے رومانی تخیلات تھے جو اسرائیل کی عظمت رفتہ کو جلد از جلد واپس لانے کے لیے وقت کے حالات کے ا ثر سے ان کے اندر پیدا ہو گئے تھے۔ وہ نبوت کی زبان میں کلام کرتے تھے مگر حقیقتاً وہ جھوٹے نبی تھے۔ بائبل کے الفاظ میں وہ خدا کے نام پر اپنی بات کہتے تھے۔ وہ لوگوں کو جھوٹی امیدیں دلاتے تھے (یرمیاہ 15:28، 31:29)۔ ان رہنماؤں کی جذباتی باتوں کے زیر اثر یہودیوں میں آزادی اور احیاء نو کی تحریکیں شروع ہوئیں۔ وہ بابل کی حکومت کے خلاف بغاوت کر کے دوبارہ اپنی گزری ہوئی عظمت کو واپس لانے کا خواب دیکھنے لگے۔

اس موقع پر ان کے نبی حضرت یرمیاہ اٹھے اور یہودیوں سے کہا کہ تم کو دوسروں کے خلاف مہم چلانے سے پہلے خود اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ غیر قوم کا غلبہ تمہارےاوپر خدا کے حکم سے ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ تم خدا کے راستہ سے ہٹ گئے ہو۔ اب اپنے آپ کو خدا کی طرف واپس لا کر ہی تم اس مغلوبیت سے نجات پا سکتے ہو، نہ کہ محض دنیوی قسم کی کارروائیاں کر کے ۔ اسرائیلی پیغمبر کی زبان سے خدا کی یہ تنبیہات بائبل کی کتاب یرمیاہ (باب 27-30) میں موجود ہیں۔ چند فقرے یہ ہیں:

تم اپنے (جھوٹے) نبیوں اور غیب دانوں اور خواب بینوں اور شگونیوں اور جادو گروں کی نہ سنو جو تم سے کہتے ہیں کہ تم شاہ بابل کی خدمت گزاری نہ کرو گے۔ کیوں کہ وہ تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں تاکہ تم کو تمہارےملک سے آوارہ کریں اور میں تم کو خارج کر دوں اور تم ہلاک ہو جاؤ (27:9-10)۔ تم اپنی گردن شاہ بابل کے جوئے تلے رکھ کر اس کی اور اس کی قوم کی خدمت کرو اور زندہ رہو (27:12)۔ اور ان نبیوں کی باتیں نہ سنو جو تم سے کہتے ہیں کہ تم شاہ بابل کی خدمت نہ کرو گے کیوں کہ وہ تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں۔ کیوں کہ خدا وند فرماتا ہے میں نے ان کو نہیں بھیجا۔ پر وہ میرا نام لے کر جھوٹی نبوت کرتے ہیں۔ تاکہ میں تم کو خارج کر دوں اور تم ان نبیوں کے ساتھ جو تم سے نبوت کرتے ہیں ہلاک ہو جاؤ۔ خداوند یوں فرماتا ہے کہ اپنے نبیوں کی باتیں نہ سنو جو تم سے نبوت کرتے اور کہتے ہیں کہ دیکھو خدا وند کے گھر کے ظروف اب تھوڑی ہی دیر میں بابل سے واپس آ جائیں گے۔ کیوں کہ وہ تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں۔ ان کی نہ سنو، شاہ بابل کی خدمت گزاری کرو اور زندہ رہو۔ پر اگر وہ نبی ہیں اور خداوند کا کلام ان کی امانت میں ہے تو وہ رب الافواج سے شفاعت کریں تاکہ وہ ظروف جو خدا وند کے گھر میں اور شاہ یہوداہ کے گھر میں اور یروشلم میں باقی ہیں بابل کو نہ جائیں (27:14-18)۔ رب الافواج اسرائیل کا خدا ان سب اسیروں سے جن کو میں نے یروشلم سے اسیر کروا کر بابل بھیجا ہے یوں فرماتا ہے، تم گھر بناؤ اور ان میں بسو اور باغ لگاؤ اور ان کا پھل کھاؤ۔ بیویاں کرو تاکہ تم سے بیٹے بیٹیاں پیدا ہوں، اور اپنے بیٹوں کے لیے بیویاں لو اور اپنی بیٹیاں شوہروں کو دو تاکہ ان سے بیٹے بیٹیاں پیدا ہوں اور تم وہاں پھلو پھولو اور کم نہ ہو۔ اور اس شہر کی خیر مناؤ جس میں مَیں نے تم کو اسیر کروا کر بھیجا ہے اور اس کے لیے خداوند سے دعا کرو۔ کیوں کہ اس کی سلامتی میں تمہاری سلامتی ہو گی۔ کیوں کہ رب الافواج اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ وہ نبی جو تمہارے درمیان ہیں اور تمہارےغیب داں تم کو گمراہ نہ کریں اور اپنے خواب بینوں کو جو تمہارے ہی کہنے سے خواب دیکھتے ہیں نہ مانو۔ کیوں کہ وہ میرا نام لے کر تم سے جھوٹی نبوت کرتے ہیں۔ میں نے ان کو نہیں بھیجا (29:5-9

حضرت یرمیاہ کی ان باتوں کا مطلب یہ نہیں تھاکہ یہود غیر قوموں کی غلامی پر ہمیشہ کے لیے راضی ہو جائیں۔ ان کامطلب صرف یہ تھا کہ تم اپنی موجودہ کمزوریوں کے ساتھ حکومت کے خلاف تحریکیں چلا کر کامیاب نہیں ہو سکتے۔ تمھاری جن کمزوریوں نے غیر قوم کو تمہارے اوپر غلبہ دیا ہے ان کو ختم کیے بغیر کس طرح یہ ممکن ہے کہ تم دوبارہ اپنی سابقہ پوزیشن حاصل کر لو۔ اس لیے ان کا کہنا تھاکہ تم بغاوت کی مہم چلانے سے پہلے اصلاح کی مہم چلاؤ۔ چنانچہ انہوں نے ’’شاہ بابل کا جوا‘‘ قبول کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے یہود کو یہ بشارت بھی دی کہ اگر تم خدا کے بتائے ہوئے طریقہ پر چلو تو رب الافواج فرماتا ہے کہ میں اس کا جوا تیری گردن پرسے توڑوں گا اور تیرے بندھنوں کو کھول ڈالوں گا اور بیگانے پھر تجھ سے خدمت نہ کرائیں گے۔ اس لیے اے اسرائیل گھبرا نہ جا کیوں کہ دیکھ میں تیری اولاد کو اسیری کی سرزمین سے چھڑاؤں گا اور یعقوب واپس آئے گا اور کوئی اسے نہ ڈرائے گا (30:8-9

مگر یہود نے اپنے نبی کا مشورہ نہیں مانا۔ وہ ان جھوٹے رہنماؤں کی باتیں سنتے رہے جو ان کو الفاظ کی جذباتی شراب پلا رہے تھے۔ جو ان کو معمولی عمل سے بڑے بڑے نتائج کی فرضی امیدیں دلاتے تھے۔ جو نفرت اور ٹکراؤ جیسی فتنہ انگیز باتیں کرتے تھے (یرمیاہ 28:16)۔ اس حماقت (23:29) کا نتیجہ یہ ہوا کہ شاہ بابل نبوکدنضران کے اوپر غضب ناک ہوا اور 587 ق م میں دوبارہ ان کے اوپر شدید بدتر حملہ کیا۔ اس کے بعد اس نے یہودیہ کی تمام آبادیوں کو ویران کر کے رکھ دیا۔ بے شمار یہودیوں کو قتل کیا۔ یروشلم اور ہیکل سلیمانیکو اس طرح برباد کیا کہ بائبل کے الفاظ میں اس کی ایک اینٹ بھی دوسری اینٹ کے اوپر باقی نہ رہی۔

سابق حاملین کتاب (یہود) کی یہ تاریخ موجودہ حاملین کتاب (مسلمان) پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ مسلمان پچھلے ہزار برس تک دنیا کی سب سے بڑی طاقت بنے ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ کمزوریوں کا شکار ہوئے۔ ان کے افراد میں اعلیٰ کردار باقی نہ رہا۔ وہ محنت کے بجائے عیش کے عادی ہو گئے۔ باہمی اختلافات نے ان کو بے شمار گروہوں میں بانٹ دیا۔ علم اور تہذیب کی ترقی میں وہ دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے۔ اس قسم کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر غیر مسلم قو میں ان کے اوپر غالب آ گئیں۔ مسلمانوں کی عظمت ہر جگہ پامال کر کے رکھ دی گئی۔

یہ واقعہ انیسویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ بیسویں صدی عیسوی اس صورت حال کے خلاف جدوجہد کی صدی ہے۔ مگر یہاں بھی عملاً وہی ہوا جو ڈھائی ہزار سال پہلے یہود کے ساتھ پیش آیا تھا۔ اب کچھ اللہ کے بندے اٹھے جنہوں نے مسلمانوں سے یہ کہا کہ پہلے اپنے آپ کو مستحکم بناؤ۔ غالب قوتوں سے تصادم کے بغیر اصلاحی میدان میں اپنی کوششیں صرف کرو جو اب بھی تمہارےلیے کھلا ہوا ہے۔ مگر مسلمانوں نے ایسے مصلحین کی بات بالکل نہیں سنی۔ ان کو انہوں نے بزدل، سامراج کا ایجنٹ اور انقلاب اسلام کا دشمن قرار دیا۔

دوسری طرف بہت بڑی تعداد میں ایسے لوگ اٹھے جو جہاد اور انقلاب کی باتیں کرتے تھے۔ انہوں نے جذباتی تقریریں کیں۔ رومانی اشعار سنائے۔ خوبصورت نظرئے پیش کیے۔ مبالغہ آمیز قسم کی امیدیں دلائیں۔ مسلمان ایسے لوگوں کے پیچھے دوڑ پڑے۔ وہ ہر جگہ دوسری قوموں کے خلاف سیاسی ٹکراؤ اور انقلابی جہاد میں مشغول ہو گئے۔

 بائبل کے الفاظ میں اس ’’جھوٹی نبوت‘‘   کا نتیجہ وہی ہوا جو یہودیوں کے ساتھ پیش آیا تھا۔ مسلمانوں نے اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہر محاذ پر شکست کھائی۔ ان کی بڑی بڑی تحریکیں اس طرح فنا ہو گئیں جیسے وہ ایک تنکا تھا جو ہواؤں کے طوفان میں اڑ گیا۔ ان کے مفکروں اور رہنماؤں کے بولے ہوئے شان دار الفاظ کاغذ کی کشتی ثابت ہوئے جو دریا کی موجوں میں ایک منٹ بھی کسی مسافر کے کام نہیں آتی۔

 ان مسلم رہنماؤں کی مقبولیت کا راز یہ تھا کہ وہ لوگوں کو جھوٹی امیدیں دلاتے تھے۔ وہ حق کے ترجمان نہ تھے بلکہ عوامی جذبات کے ترجمان تھے۔ اور جو لوگ اس قسم کی بےحقیقت چیزوں کے اوپر کھڑے ہوں ان کا انجام حقیقت کی اس دنیا میں وہی ہے جو ان رہنماؤں کا ہوا۔

 اوپر جس حقیقت کا ذکر کیا گیا، وہ کوئی انوکھی یا غیر معلوم بات نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تاریخ اور دینی تعلیمات میں بالکل واضح ہے۔ اس کے باوجود ہمارے رہنما اور مفکرین کیوں اس کو سمجھ نہیں پاتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ردعمل کی نفسیات نے لوگوں کا ذہنی شاکلہ بگاڑ دیا ہے، اور آدمی کسی بات کو اپنے ذہنی شاکلہ ہی کے مطابق سمجھ پاتا ہے۔ اگر آدمی کا ذہنی شاکلہ مختلف ہو تو وہ کسی طرح اصل بات کو سمجھ نہیں سکتا۔ یہاں ہم اس کی ایک مثال پیش کریں گے۔

ایک مشہور مفکر اسلام نے سورہ بنی اسرائیل (17:5) کی تفسیر کے تحت ایک لمبا نوٹ لکھا ہے۔ اس نوٹ میں وہ یہود کے بگاڑ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’حضرت یسعیاہ اور حضرت یرمیاہ کی مسلسل کوششوں کے باوجود یہودیہ کے لوگ بت پرستی اور بداخلاقیوں سے باز نہ آئے تو 598 قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے یروشلم سمیت پوری دولت یہودیہ کو مسخر کر لیا اور یہودیہ کا بادشاہ اس کے پاس قیدی بن کر رہا۔ یہودیوں کی بداعمالیوں کا سلسلہ اس پر بھی ختم نہ ہوا اور حضرت یرمیاہ کے سمجھانے کے باوجود وہ اپنے اعمال درست کرنے کے بجائے بابل کے خلاف بغاوت کر کے اپنی قسمت بدلنے کی کوشش کرنے لگے۔‘‘

اوپر کے اقتباس کے آخری جملہ پر غور کیجیے۔ موصوف کے الفاظ کے مطابق یہ بداعمالی کی ایک قسم ہے کہ غالب حکومت کے خلاف سیاسی جہاد کر کے اپنی قسمت بدلنے کی کوشش کی جائے۔ گویا انہوں نے ہماری مذکورہ بات کی صداقت کو مزید شدید تر الفاظ میں تسلیم کر لیا ہے۔ مگر یہی وہ مصنف اور مفکر ہیں جنھوں نے موجودہ زمانہ میں اس نظریہ کی پرزور وکالت کی کہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے نیا دور لانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ حکمرانوں سے تصادم کر کے ان کو تخت سے بے دخل کیا جائے اور خود اپنی طویل عمر کے تمام بہترین سال انہوں نے اسی قسم کے سیاسی جہاد میں گزار دیے۔

حقیقت کے اس قدر قریب پہنچ کر بھی حقیقت سے اس قدر بے خبر رہنے کی وجہ صرف شاکلہ کا فرق ہے۔ آدمی ایک آیت کے مطالعہ کے ذیل میں تاریخ انبیاء کے مذکورہ واقعہ کو پڑھتا ہے۔ وہ اس کے علم میں آتی ہے۔ مگر چونکہ اس کا ذہنی شاکلہ مختلف ہے اس لیے یہ حقیقت اس کے ذہن کا جزء نہیں بنتی ، وہ اس کی فکر کی تشکیل میں مؤثر ثابت نہیں ہوتی— ہدایت کے راستہ کو پانے کی اہم ترین شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے مصنوعی شاکلہ کو توڑے اور فطرت کے حقیقی شاکلہ کے مطابق چیزوں کو دیکھے۔ اس کے بغیر کوئی شخص ہدایت کے ابدی راستہ کو نہیں پا سکتا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion