مقام نزاع سے ہٹ جانا
پیغمبر اسلام ﷺ نبوت کے بعد تقریباً 13سال تک مکہ میں رہے۔ کچھ لوگوں نے آپ کا ساتھ دیا مگر مکہ کی اکثریت آپ کی شدید مخالف بنی رہی۔ جب انھوں نے دیکھا کہ صرف مخالفت آپ کے مشن کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں تو وہ پیغمبر اسلام ﷺ کے قتل کے درپے ہو گئے۔ انھوں نے طے کیا کہ مکہ کے تمام سردار بیک وقت حملہ کر کے آپ کو قتل کر دیں۔ تاکہ آپ کی تحریک توحید کا خاتمہ ہو جائے۔
یہ ایک نازک موقع تھا۔ بظاہر ایک صورت یہ تھی کہ آپ اپنے ساتھیوں کو لیکر ان سے مقابلہ کریں۔ مگر آپ نے اس معاملہ کو نتیجے کے اعتبار سے دیکھا چونکہ اس وقت کے حالات میں مسلح مقابلہ غیر مفید ہو تا اس لیے آپ نے اعراض کے اصول پر عمل فرمایا اورمکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے۔
پیغمبر اسلام ﷺ کی سنت نزاع سے ٹکرانا نہیں ہے بلکہ نزاع کے مقام سے ہٹ جاناہے۔ اس طرح آدمی کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ اپنی قوتوں کو بچا کر انھیں زیادہ مفید طور پراستعمال کر سکے۔
