حجۃ الوداع
9ھ میں خانۂ کعبہ مراسم جاہلیت سے پاک ہو چکا تھا۔ اب وقت آگیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فریضۂ حج کو خود عملی طور پر ادا کریں تاکہ لوگ آپ کو دیکھ کر حج کے مناسک اور احکام جان لیں۔
ذی قعدہ9ھ میں آپ نے سفر حج کا ارادہ کیا۔ اطراف واکناف میں منادی کرا دی گئی کہ رسول اللہ اس سال حج کرنے والے ہیں۔ چنانچہ25ذی قعدہ کو مدینہ سے روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ صحابہ کی کثیر جماعت تھی جوایک لاکھ سے زیادہ افراد پر مشتمل تھی۔4 ذوالحجہ کو آپ مکہ میں داخل ہوئے اور مناسکِ حج ادا فرمایا۔ بعدازاں میدان عران عرفات میں ایک طویل خطبہ دیا۔ حمد و ثنا کے بعد فرمایا
اے لوگو، جو میں کہتا ہوں اس کو سنو۔ شاید اگلے سال تم سے ملنا نہ ہو۔ اے لوگو، تمہاری جانیں اور آبرو اوراموال آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں۔ جیسا کہ یہ دن یہ مہینہ اور یہ شہر حرام ہے۔ جاہلیت کے تمام امور میرے قدموں کے نیچے ہیں۔ اور جاہلیت کے تمام خون میں معاف کرتا ہوں۔ سب سے پہلے ربیعہ بن حارث کا خون جو بنی ہذیل پر ہے اس کو میں معاف کرتا ہوں۔ جاہلیت کے تمام سود ساقط ہیں۔ تمہارے لیے صرف رأس المال ہے۔ سب سے پہلے اس سلسلہ میں میں عباس بن عبدالمطلب کا ربا ساقط کرتا ہوں۔ اس کے بعد آپ نے زوجین کے باہمی تعلقات اور حقوق سے متعلق ہدایات دیں۔ پھر فرمایا کہ میں تمہارے درمیان ایسی محکم چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم اس کو مضبوطی سے تھامے رہو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ یہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت ہے‘‘۔
آگے صحابہ کو مخاطب کرکے فرمایا’’قیامت کے دن تم سے میرے متعلق سوال ہوگا۔ تم کیا جواب دو گے‘‘۔ صحابہ نے جواب دیا کہ ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے ہم تک اللہ کا پیغام پہنچا دیا۔ خدا کی امانت ادا کر دی اورامت کی خیر خواہی کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار انگشت شہادت سے آسمان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:اللَّهُمَّ اشْهَدْ (اے اللہ تو گواہ رہ)مسند احمد، حدیث نمبر1309۔
آپ خطبہ سے فارغ ہوئے تو حضرت بلال نے ظہر کی اذان دی۔ ظہر اورعصر دونوں نمازیں ایک ہی وقت میں ادا کی گئیں۔ بعدازاں آپ خدائے تعالیٰ کی حمد و ثنا اور شکر و استغفار میں مشغول ہوگئے۔ اسی اثناء میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ (5:3)یعنی،آج میں نے تمہارے لیے دین مکمل کر دیا۔ اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی۔ اور دین اسلام کو تمہارے لیے پسند کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں بھی اسی قسم کا خطبہ دیا۔ چونکہ رسول اللہ نے اس حج کے خطبے میں فرمایا تھا کہ شاید تم سے آئندہ ملاقات نہ ہو‘‘۔ اس لیے اس کو حجۃ الوداع کہتے ہیں۔ آخر ذی الحجہ میں مدینہ کے لیے واپسی ہوئی۔
