عصری اسلوب کی اہمیت
دکتور عبد العظیم محمود الدیب (پیدائش1929) کی ایک کتاب ڈاک سے ملی۔ اس کا نام ہے:الْمَنْهَجُ فِي كِتَابَاتِ الْغَرْبِيِّينَ عَنِ التَّارِيخِ الْإِسْلَامِيِّ۔ وہ 130 صفحات پر مشتمل ہے۔ اور ربیع الثانی1411 میں قطر سے چھپی ہے۔
مصنف کہتے ہیں کہ انیسویں صدی کے آغاز سے لے کر بیسویں صدی عیسوی کے وسط تک مستشرق علما نے ساٹھ ہزار کتابیں اسلام کے بارے میں شائع کی ہیں ۔ ان کتابوں کا مقصد کیا ہے۔ ان کا ایک خاص مقصد یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کو اسلام سے منحرف کر دیا جائے۔ اپنے اس مقصد میں وہ کافی کامیاب ہوئے ہیں حتیٰ کہ محمدمحمد حسین مرحوم کے الفاظ میں ہمارے قلعوں کے لیے آج خود ہمارے اندر سے خطرات پیدا ہو گئے ہیں:حُصُونُنَا مُهَدَّدَةٌ مِنْ دَاخِلِهَا (صفحہ 35)۔
یہ صحیح ہے کہ ہماری نئی نسل اسلام کے بارے میں شک وشبہ میں مبتلا ہوئی ہے۔ مگر اس کی اصل وجہ مستشرقین کی کتا بیں نہیں ۔ اس کی زیادہ بڑی وجہ یہ ہے کہ خودمسلم علما دینِ اسلام کو وقت کے فکری مستوی پر پیش نہ کر سکے۔ بیرونی خطرات ہمیشہ موجود تھے اور ہمیشہ موجو د رہیں گے۔ لیکن اگر ہم طاقت ور اسلوب میں اسلامی لٹریچر پیش کر سکیں تو اسلام کے خلاف ہرخطرہ اور ہرسازش ان شاء اللہ غیرموثر ہو کر رہ جائے گی۔ (ڈائری، 15 اکتوبر 1990)
