صلحائے امت

صلحائے امت کے بارے میں جو حالات کتابوں میں ملتے ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا کے بارے میں وہ آخری حد تک بے رغبت ہوگئے تھے۔ دوسری طرف ان میں یہ صفت بھی تھی کہ وہ اپنے آپ کو دین کی اعلیٰ خدمت کے قابل نہیں سمجھتے تھے۔ گویا کہ ان کے اندر بیک وقت دو متضاد صفتیں پائی جاتی تھیں ایک طرف یہ کہ دنیا ان کے لیے ایک غیر مرغوب چیز بن گئی، اور دوسری طرف یہ کہ دین کی کسی اعلیٰ خدمت کے لیے اپنے آپ کو نااہل سمجھنا۔ امت میں اعلیٰ معیار کے جو صلحا پیدا ہوئے، ان میں یہ دونوں صفتیں اعلیٰ درجے میں موجود تھیں۔

اس مزاج کا خلاصہ ایک لفظ میں تواضع (modesty) ہے۔ تواضع کو کچھ لوگ انسان کی انفعالی صفت بتاتے ہیں۔ حتیٰ کہ کچھ لوگ تو پست ہمتی کا درجہ دیتے ہیں۔ لیکن یہ ایک محمود صفت کو ایک نامحمود نام دینا ہے۔ تواضع آدمی کے اندر عقلی غور و فکر کی صفت پیدا کرتی ہے۔ تواضع آدمی کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ (as it is thinking) پیدا کرتی ہے، اور بلاشبہ اس قسم کی سوچ آدمی کے لیے سب سے بڑا فکری سرمایہ ہے۔ ایسے ہی انسان کو مین کٹ ٹو سائز (man cut to size)کہا جاتا ہے۔ چنانچہ متواضع آدمی ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے، اور مغرور آدمی ہمیشہ ناکام رہتا ہے۔

انسان کی کامیابی کا ایک راز یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو فخر اور غرور کی نفسیات سے بچائے، وہ اپنے آپ کو ویسے ہی سمجھے جیسا کہ وہ باعتبارِ حقیقت ہے،ایسا آدمی ہمیشہ اپنے آپ کو حد کے اندر رکھتا ہے، وہ کبھی حد سے باہر نہیں جاتا۔تواضع انسان کو ایک بہادر انسان بناتی ہے۔ تواضع آدمی کو اس سے بچاتی ہے کہ وہ بلاسوچے سمجھے اقدام کرڈالے، اور پھر آخر میں ساری زندگی اس پر پچھتاتا رہے۔ تواضع ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے، حیوان تواضع کو نہیں جانتا۔ یہ صرف انسان ہے، جو تواضع کی حقیقت کو جانتا ہے، اور پھر اس کو شعوری طور پر اختیار کرتا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion