تخریبی سیاست کا انجام

عباسی خلیفہ مستنصرباللہ641ھ میں فوت ہوا۔ یہ بہت نازک زمانہ تھا۔ چنگیز خاں کی قیادت میں تاتاریوں نے ماورالنہر سے لے کر بحرروم اور سجرا سود تک کے تمام ملکوں کو تاراج کر ڈالا تھا۔ تاہم عراق پر اب بھی عباسی خلیفہ کا قبضہ تھا اور تاتاریوں کے اوپر خلیفہ بغداد کا رعب اتنا زیادہ تھا کہ وہ عراق کی طرف رخ کرنے کی ہمت نہیں کرتے تھے۔ حتٰی کہ تاتاریوں کے مفتوحہ ممالک میں بدستور خلیفہ بغداد کا خطبہ مسجدوں میں پڑھا جاتا تھا۔

مستنصر باللہ کا ایک بھائی خفاجی نامی تھا جو بہت بہادر اور اولوالعزم تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ اگر مجھ کو خلیفہ بنایا جائے تو میں دریائے جیحوں کے پار تک ان تاتاریوں کا نام و نشان مٹا دوں۔ مگر سلطنت کے درباری اتنے طاقت ور خلیفہ کو اپنے لیے مسئلہ سمجھتے تھے، ان کا خیال تھا کہ اگر خفا جی کو تخت پر بٹھایا گیا تو وہ ہماری بات چلنے نہ دے گا۔ چنانچہ641ھ میں مستنصر باللہ کا انتقال ہوا تو ارکان سلطنت نے خفاجی کو تخت پر بیٹھنے نہ دیا۔ انہوں نے مستنصرباللہ کے لڑ کے ابو احمد عبداللہ کو خلافت کے لیے پسند کیا۔ کیوں کہ وہ بہت نرم اور سادہ لوح قسم کا آدمی تھا۔ اس کو نہایت آسانی سے اپنے موافق بنایا جا سکتا تھا۔ مستنصرباللہ کے بعد اس کا یہی بیٹا تخت پر بیٹھا اور اس کو مستعصم باللہ کے نام سے پکارا گیا۔

 اسی خلیفہ کے زمانہ میں تاتاریوں کی تباہی اپنی تکمیل تک پہنچی۔ وہ ذاتی طور پر اگرچہ دیندار اور متبع سنت تھا مگر وہ انسانوں کو پہچاننے کی صلاحیت نہ رکھتا تھا۔ اس نے پہلی بنیادی غلطی یہ کی کہ مویدالدین علقمی کو اپنا وزیر بنا دیا۔ علقمی ایک غالی شیعہ آدمی تھا۔ اس کے سینہ میں یہ آگ بھڑک رہی تھی کہ علویوں کے حق خلافت کو غصب کرنے والے عباسیوں کا خاتمہ کر دے۔ اور ان کی جگہ پر دوبارہ علوی خلافت قائم کرے۔ عباسیوں سے اس کا نفرت اور بغض اس کو اس انتہا تک لے گیا کہ وہ درپردہ تاتاریوں کا دوست بن گیا۔ عباسی سلطنت کو ختم کرنے کا کام وہ خود اپنی طاقت سے نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے منصوبہ بنایا کہ تاتاریوں کو سہارا لے کر پہلے اپنے ’’دشمن‘‘ کو ختم کرے اور اس کے بعد اپنی منشا کے مطابق علوی خاندان کے کسی فرد کو بغداد کے تخت پر بٹھائے۔

علقمی نے وزارت پانے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ شیعوں کو آگے بڑھانا شروع کیا۔ حکومت کے تمام شعبوں میں شیعوں کو کلیدی مقامات پر بٹھا دیا۔ یہاں تک کہ حکومت پوری طرح علقمی کے ہاتھ میں آگئی۔ اب اس نے سوچی سمجھی اسکیم کے تحت یہ کوشش شروع کر دی کہ عباسیوں کا نام و نشان مٹا دے اور بغداد میں علویوں کی حکومت قائم کر دے۔ خلیفہ محل کی مصنوعی دنیا میں رہتا تھا۔ نیز علقمی خلیفہ کے سامنے حددرجہ نیازمند اور وفادار بن کر آتا تھا۔ اس لیے خلیفہ اس کی اندرونی سازشوں سے واقف نہ ہو سکا۔ تاہم شہر کے بعض لوگ اس کے منصوبوں سے پوری طرح آگاہ تھے۔ انہوں نے خلیفہ سے مل کر اس کو مطلع کیا۔ مگر خلیفہ علقمی کی ظاہری وفاداریوں کی وجہ سے اس کے بارے میں اتنا خوش فہم تھا کہ اس نے ان لوگوں کی باتوں کو خود علقمی سے بیان کر دیا۔ اب علقمی نے اور بھی زیادہ اپنی وفاداری اور فرماں برداری ظاہر کر کے خلیفہ کو یقین دلا دیا کہ جن لوگوں نے خلیفہ سے اس قسم کی باتیں کہی ہیں وہ فتنہ پرور اور غدار ہیں۔ چنانچہ ان لوگوں کی داروگیر شروع ہوگئی اور ان کے انجام کو دیکھ کر بقیہ لوگوں نے بھی اپنی زبانیں بند کر لیں۔

اب علقمی نے چنگیز خاں کے پوتے ہلاکو خاں سے خفیہ خط و کتابت شروع کی جس کی سلطنت خراسان تک پہنچ چکی تھی، علقمی کے ذہن میں نشہ یہ تھا کہ ہلاکو خاں کے ساتھ     ’متحدہ محاذ‘ بنا کر عباسی خلافت کا خاتمہ کر دے اور اس کے بعد علوی خلافت کے قیام کے بارے میں اپنے منصوبہ کی تکمیل کرے۔ تاہم تاتاری حکمراں پر عباسی خلیفہ کا اتنا دبدبہ تھا کہ وہ بغداد پر فوج کشی کرنے کے لیے راضی نہ ہوا۔ علقمی نے اصرار کیا تو اس نے کہا کہ جب تک میرے پاس کافی ضمانت نہ ہوگی میں بغداد پر اقدام نہیں کر سکتا۔ علقمی کے تخریبی ذہن نے ضمانت کی ایک تدبیر سوچ لی۔ اس نے خلیفہ کو یقین دلایا کہ ہمارے پاس فوج ضرورت سے زیادہ ہے۔ ملکی محاصل کا بڑا حصہ اس کے اوپر خرچ ہو جاتا ہے۔ اس لیے خرچ کو کم کرنے کی صورت یہ ہے کہ فوج کی تعداد گھٹا دی جائے۔ خلیفہ کی رضا مندی لے کر علقمی نے فوج کے ایک بڑے حصہ کی چھٹی کر دی۔ کچھ فوجیوں کو بغداد سے دور دوسرے مقامات پر بھیج دیا اور خلیفہ سے یہ کہہ دیا کہ ان کو تاتاریوں کی روک تھام کے لیے سرحد پر بھیجا گیا ہے۔

 علقمی کا ایک ساتھی خود ہلاکو خاں کے دربار میں موجود تھا۔ یہ نصیر الدین طوسی تھا۔ طوسی بھی علقمی کی طرح غالی شیعہ تھا اور علقمی کے منصوبہ میں پوری طرح شریک تھا۔ طوسی کی معرفت علقمی نے ہلاکو خاں کو پیغام بھیجا کہ بغداد کو میں نے فوجوں سے خالی کر دیا ہے۔ حربی سامان کا بھی بڑا حصہ باہر بھیج دیا ہے۔ یہ واقعہ ہلاکو خاں کی ضمانت طلبی کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ ادھر طوسی نے ہلاکو خاں کو یقین دلایا کہ علم نجوم سے معلوم ہوتا ہے کہ بغداد کے اوپر آپ کا قبضہ بہت جلد ہونے والا ہے۔ ان یقین دہانیوں کے بعد ہلاکو خاں نے بغداد کا رخ کیا۔ پچاس روز تک بغداد کا محاصرہ جاری رہا۔ اس دوران دونوں طرف کی فوجوں میں کئی بار لڑائیاں ہوئیں۔ مگر علقمی شہر کی تمام خبریں خفیہ طور پر ہلاکو خاں کو پہنچا دیتا تھا۔ اور اس طرح بغداد والوں کی ہر اس دفاعی کوشش کو ناکام بنا دیتا تھا جو وہ تاتاریوں کے خلاف کرنا چاہتے تھے۔

جب محاصرہ بڑھا تو علقمی نے ایک فرضی کارروائی کر کے خلیفہ سے کہا کہ ہلاکو خاں آپ کو امان دینے پر راضی ہوگیا ہے بشرطیکہ آپ اس سے ملیں اور آئندہ کے لیے کوئی باعزت سمجھوتہ کر لیں۔ خلیفہ علقمی کے کہنے میں آگیا اور علقمی کے ساتھ اپنے محل سے نکل کر ہلاکو خاں کے یہاں پہنچا۔ وہاں پہنچتے ہی ہلاکو خاں نے اس کو گرفتار کر کے بند کر دیا اور بغداد کو قتل عام کا حکم دے دیا۔ بغداد کی مکمل تباہی کے بعد9صفر656ھ کو ہلاکو خاں خلیفہ معتصم کو لے کر بغداد میں داخل ہوا۔ خلیفہ سے پوچھ پوچھ کر محل کے تمام خفیہ خزانے نکلوا لیے۔ اس کے بعد حکم دیا کہ خلیفہ کو قتل کر دیا جائے۔ علقمی نے ہلاکو خاں سے کہا مسلمانوں کے خلیفہ کے خون سے اپنی تلوار کو آلودہ نہ کرو۔ بلکہ اس کو کچلوا کر مارو۔ چنانچہ طوسی اور علقمی نے خلیفہ کو نمدے میں لپیٹ کر اس کو ایک ستون میں باندھ دیا۔ اس کے بعد اس پر اتنی لاتیں لگوائیں کہ خلیفہ کادم نکل گیا۔

عباسی خلیفہ کو ختم کرنے کے بعد علقمی نے حسب قرارداد ہلاکو سے کہا کہ بغداد میں کسی علوی کو حاکم مقرر کر دے اور اس کو خلیفہ کا خطاب دے دے۔ ہلاکو خاں نے ابتداء ًاس قسم کے مبہم وعدے کر لیے تھے جس کی وجہ سے علقمی کو یقین تھا کہ ہلاکو خاں کسی علوی کو خلیفہ بنا کر مجھ کو اس کا نائب سلطنت بنا دے گا۔ مگر ہلاکو خاں نے علقمی کو ڈانٹ دیا۔ اور بغداد پر اپنی قوم کا ایک حاکم مقرر کیا۔ علقمی اس ذلت اور ناکامی کو برداشت نہ کر سکا اور اس کے بہت جلد بعد گھٹ گھٹ کر مر گیا۔

یہ وہی سیاست ہے جس کا خوبصورت نام موجودہ زمانہ میں متحدہ محاذ رکھا گیا ہے۔ اس قسم کی تخریبی سیاست ہر زمانہ میں رائج رہی ہے— کچھ سیاسی حوصلہ مندوں نے بنوامیہ کے ساتھ مل کر ہاشمی خلافت کو ختم کیا۔ اس کے بعد کچھ دوسرے سیاست داں اٹھے اور انہوں نے بنو عباس کے محاذ میں شامل ہو کر بنوامیہ کو ختم کیا۔ پھر ایک اور سیاسی گروہ اٹھا اور اس نے تاتاریوں کا ساتھ دے کر بنو عباس کا خاتمہ کیا۔ ان میں سے ہر ایک کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے مفروضہ سیاسی حریف کو مشترکہ قوت سے ہٹا دے اور اس کے بعد اپنے آپ کو اوپر لائے۔ مگر ایک کا ایک ہی انجام ہوا۔ وہ وقت کے قابض گروہ کو ہٹانے میں تو ضرور کامیاب ہوگیا مگر اپنے آپ کو اوپر لانے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔

تاریخ کا یہ تجربہ کافی تھا کہ موجودہ زمانہ میں اس کو نہ دہرایا جائے۔ مگر عجیب بات ہے کہ ہمارے موجودہ زمانہ کے قائدین آج بھی مسلسل اس کو دہرا رہے ہیں۔ نہ تاریخ کی مثالیں ان کو سبق دینے کے لیے کافی ثابت ہوئیں اور نہ خود اپنا ناکام تجربہ۔ سیاسی تقلید کی یہ انوکھی مثال اُس امت کے رہنما دہرا رہے ہیں جس کے رسولؐ نے فرمایا تھا کہ اللہ پر ایمان لانے والا آدمی کبھی ایک بل سے دوبار نہیں ڈسا جاتا: لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ(صحیح بخاری،حدیث نمبر 6137)۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion