اصلاح میں تدریج
ایک روایت کے مطابق، حضرت عائشہ نے فرمایا کہ قرآن میں سب سے پہلے وہ آیتیں اور سورتیں نازل ہوئیں جن میں جنت کا اور جہنم کا ذکر تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہو گئے تو اس کے بعد حلال و حرام کے احکام اترے۔ اور اگر ایسا ہوتا کہ شروع ہی میں یہ حکم اتر تا کہ تم لوگ شراب نہ پیو تو یقینا ًلوگ کہتے کہ ہم شراب کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ اسی طرح اگر شروع ہی میں یہ حکم اتر تاکہ زنا نہ کرو تو لوگ کہتے کہ ہم کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے (صحيح البخارى، حدیث نمبر 4993)۔
اس روایت سے ایک عظیم حکمت نبوی معلوم ہوتی ہے۔ یہ وہی عملی حکمت ہے جس کو تدریج (gradual approach) کہا جاتا ہے۔ انسان کی اصلاح ایک مشکل اور پیچیدہ کام ہے۔ انسان عام طور پر کچھ خیالات اور عادات سے مانوس ہو جاتے ہیں۔ وہ اسی کو درست سمجھنے لگتے ہیں۔ اس بنا پر وہ کسی نئی چیز کو فوری طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ایسی حالت میں انسانوں کی اصلاح کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس کام کو حکمت اور تدریج کے ساتھ کیا جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں پہلے لوگوں کی سوچ کو بدلا۔ لوگوں کے اندرقبولیت کا مزاج پیدا کیا۔ یہاں تک کہ جب ان کے اندر اصلاح کو قبول کرنے کی استعداد پیدا ہو گئی تو اس کے بعد آپ نے شرعی احکام کا نفاذ فرمایا۔ اگر آپ فکری تطہیر اور مزاج سازی کے بغیرشریعت کے قوانین نافذ کرتے تو یہ انسانی فطرت کے خلاف ہوتا ، اور وہ انقلابی نتیجہ برآمد نہ ہوتاجو عرب کے سماج میں برآمد ہوا۔
