اپنی پہچان

ہر انسان خدا کی ایک منصوبہ بندی ہے۔ ہر انسان کی پیدائش انسان اور اس کے خدا کے درمیان ایک خاموش عہد ہے۔ اسی عہد میں انسان کی ساری قیمت چھپی ہوئی ہے۔

ہر انسان کو خدا نے کچھ خاص صلاحیتیں دی ہیں اور ہر آدمی نے خاموش زبان میں یہ اقرار کیا ہے کہ وہ دنیا میں اس خاص کام کو انجام دے گا جس کے لیے اس کے خدا نے اس کو پیدا کیا تھا۔ اور جس کے مطابق اسے خصوصی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ جو انسان ایسا کرے اس نے گویا خدا کے نقشہ تخلیق میں اپنی جگہ حاصل کی۔ جو شخص ایسا نہ کرے وہ خدا کے نقشہ تخلیق میں اپنی جگہ حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

اس بات کو یہاں اصحاب رسول کی مثال سے واضح کیا جاتا ہے۔

صحابہ کرام میں ایک حضرت ابوہریرہ تھے اور دوسرے خالد بن الولید۔ حضرت ابو ہریرہ کی روایات کی تعداد 5374 تک شمار کی گئی ہے۔ جب کہ حضرت خالد کی روایات کی تعداد ایک سو سے بھی کم ہے۔ یہ فرق بظاہر عجیب معلوم ہوتا ہے۔ مگر اس فرق کی وجہ خدمت اسلام کے میدان کا فرق تھا ، نہ کہ خود اسلام کا۔

حضرت ابوہریرہ بھی ایک مخلص مسلمان تھے اور حضرت خالد بھی ایک مخلص مسلمان۔ مگر فطری صلاحیت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان فرق تھا۔ انہوں نے کامل شعور کے ساتھ اس فرق کو پہچانا اور اس پر عمل کیا۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ نے اپنی صلاحیت کے لحاظ سے اپنے لیے خدمت اسلام کا ایک میدان منتخب کر لیا اور حضرت خالد نے اپنی صلاحیت کے لحاظ سے دوسرا میدان۔

حضرت خالد کہتے ہیں کہ میں جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کسی مہم میں نکلتا تو ہمیشہ یہ احساس لے کر واپس آتا کہ میں اپنے آپ کو وہاں لگائے ہوئے ہوں جہاں مجھ کو نہیں لگانا چاہیے:أَنّي ‌مُوضَعٌ ‌فِي ‌غَيْرِ ‌شَيْءٍ (البداية والنهاية ، جلد6، صفحہ 405)۔

یہ احساس انہیں ستاتا رہا یہاں تک کہ وہ فتح مکہ سے کچھ پہلے مدینہ آئے اور اسلام قبول کر لیا۔

حضرت خالد فطری طور پر انتہائی بہادر آدمی تھے۔ انہوں نے اپنی اس خصوصیت کو جانا اور اس کے موقع استعمال کا ادراک کیا۔ انہوں نے شعوری طور پر اس کو دریافت کیا کہ اسلامی خدمت کے وسیع میدان میں وہ کیا خاص حصہ ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی خداداد بہادرانہ صلاحیت کو شریک کے استیصال اور توحید کے قیام کے محاذ پر لگا دیں۔ چنانچہ وہ اسلامی فوج میں شامل ہو گئے۔

وہ ساری عمر اسی راہ میں سرگرم عمل رہے۔ وہ خدا سے اپنے لیے قوت اور استقامت کی دعا کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی درخواست کرتے کہ وہ آپ کے لیے اس کی دعا فرمائیں۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی اسلامی جہاد میں صرف کر دی۔ حتٰی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایاکہ خالد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جس کو خدا نے مشرکین کے خلاف نکالا ہے:سَيْفٌ ‌مِنْ ‌سُيُوفِ ‌اللهِ، ‌سَلَّهُ ‌اللهُ ‌عَلَى ‌الْمُشْرِكِينَ (معرفة الصحابة لأبي نعيم، حدیث نمبر2388)۔

دوسری مثال حضرت ابو ہریرہ کی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ کے اندر حضرت خالد والی صلاحیتیں نہیں تھیں۔ البتہ انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے اندر حافظہ کی قوت عام لوگوں سے زیادہ ہے۔ انہوں نے اپنی اس صلاحیت کو دین کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے لیے دعا فرمائیے کہ خدا مجھے وہ علم دے جس کو میں فراموش نہ کر سکوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر آمین کہا اور حضرت ابو ہریرہ کے حق میں یادداشت کی دعا فرمائی۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کی غیر معمولی قوت حافظہ اسی پیغمبرانہ دعاکا نتیجہ ہے۔ مگر نفسیاتی اعتبار سے دیکھیے تو یہ دراصل خود حضرت ابو ہریرہ کی اپنی تڑپ کا اظہار تھا۔ یہ دوطرفہ واقعہ تھا ، نہ کہ محض یک طرفہ۔

حضرت ابوہریرہ نے اپنی خداداد امتیازی صلاحیت کو پہچانا۔ اس کی حفاظت اور ترقی کی دعائیں کیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس کے لیے دعا کرائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کرانا دراصل خود اپنی دعا کا ایک تسلسل تھا۔ اس طرح دعاؤں کے سائے میں وہ اپنی استعداد کے مطابق اپنے ممکن میدان میں ہمہ تن لگ گئے۔ وہ برابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتے۔ آپ کی باتوں کو پوری توجہ کے ساتھ سنتے۔ اس کو ذہن میں محفوظ رکھتے نیز حسب ضرورت اسے لکھ لیتے۔ اسی معرفت خویش کا یہ نتیجہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ اسلامی تاریخ میں وہ شخص قرار پائے جن کے ذریعے اگلی نسلوں کو پیغمبر اسلام کی حدیثیں سب سے زیادہ تعداد میں پہنچی ہیں۔

ہر آدمی کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو پہچانے۔ اپنے آپ کو جان کر وہ اپنے لیے بھی زیادہ مفید بن سکتا ہے اور دین کے لیے بھی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion