پاؤں ٹوٹنے کے بعد بھی
’’ جو آدمی ارادہ کر سکتا ہے اس کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں‘‘۔ ایمر سن کا یہ قول زندگی کی ایک بہت بڑی حقیقت کو بتا تا ہے وہ یہ کہ موجودہ دنیا میں انسان کے لیے امکانات اتنے زیادہ ہیں کہ وہ کبھی ختم نہیں ہوتے۔ اگر آدمی کے اندر سچے ارادہ کی طاقت ہو تو وہ ہر مشکل کو آسان کرلے گا۔ راستے کی ہر رکاوٹ اس کے لیے اپنی منزل تک پہنچنے کا زینہ بن جائے گی۔
امکان کبھی ختم نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی مثالیں پوری انسانی تاریخ میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہاں ہم ایک تازہ اور جیتی جاگتی مثال پیش کریں گے ۔
سودھا چندرن (پیدائش 1965) جنوبی ہند کی ایک رقاصہ ہے۔ وہ سولہ سال کی تھی کہ 2مئی 1981کو ایک حادثہ میں اس کا دایاں پاؤں ٹوٹ گیا۔ وہ فوری طور پر ایک مقامی اسپتال میں داخل کر دی گئی۔ وہاں ڈاکٹروں سے یہ غلطی ہوئی کہ اینٹی ٹٹنس انجکشن اور دوسری ضروری احتیاطوں کے بغیر اس کے پاؤں پر پلاسٹر باندھ دیا گیا۔ چند دن بعد تکلیف بڑھی تو اس کے والدین اس کو مدراس لے گئے اور ایک بڑے اسپتال میں داخل کیا وہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کوٹٹنس کا اثر ہو چکا ہے۔ کافی کوشش کے باوجودا فاقہ نہیں ہوا ۔ یہاں تک کہ اس کا پاؤں پنڈلی کے نیچے سے کاٹ دیا گیا۔
کسی کا قول ہے ’’ محبت ہر رکاوٹ کو دور کر دیتی ہے‘‘ یہ قول سودھا چندرن کے معاملہ میں لفظ بلفظ صحیح ثابت ہوا۔ اس کو رقص سے بے پناہ محبت تھی۔ پاؤں کٹنے کے بعد اس کا یہ حال ہوا کہ وہ روتی تھی اور کہتی تھی کہ میں تو رقص کر نا چاہتی ہوں ، کیا میں دوبارے رقص کر سکوں گی:
I want to dance. Will I dance again?
اس کے بعد اسپتال میں اس کے ساتھ وہی کیا گیا جو ہر ایسے مریض کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ اس کا پاؤں پنڈلی کے پاس سے کاٹ دیا گیا اور اس کی جگہ جدید طرز کا مصنوعی پاؤں (جے پور فوٹ) لگا دیا گیا۔ ڈاکٹر پی کے سیٹھی (جنھوں نے جے پور فوٹ ایجاد کیا ہے) کی ملاقات سودھا چندرن کے استاد سے ہوئی۔ انھوں نے ڈاکٹر سیٹھی سے اپنے شاگرد کے شوق کا حال بتایا۔ انھوں نے جواب دیا کہ سودھا کے اندر اگر واقعتاً خواہش ہے تو وہ ایک عام آدمی کی طرح رقص کرنے کے قابل ہو جائے گی۔ اس کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ کچھ زیادہ محنت کرے اور ابتدائی تکلیف کو برداشت کرلے:
Sudha would be able to dance like any one with normal limbs. Only one had to be tough to put in the extra effort and bear initial pain.
یہاں دوبارے سودھا چندرن کے لیے کسی مفکر کا یہ قول صحیح ثابت ہوا— ’’تکلیف ہماری خوشیوں کی قیمت ہے۔ جو شخص تکلیف کو برداشت کرلے وہ خوشی کو بھی ضرور پا کر رہے گا‘‘۔
سودھا چندرن کو ڈاکٹر سیٹھی کی بات بتائی گئی تو وہ فوراً اس کے لیے تیار ہوگئی کہ وہ ابتدائی تکلیف کو بر داشت کرے گی ۔ اس نے کوشش شروع کر دی۔ وہ اپنے مصنوعی پاؤں پر مشق کرتی رہی یہاں تک کہ وہ دوبارے کامل رقاصہ بن گئی ۔
سودھا چندرن نے یکم اپریل 1984کو بمبئی میں اپنے رقص کا مظاہرہ کیا۔ وہاں رقص کے ماہرین موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ سودھا چندرن نے اتنا کامیاب رقص کیا کہ ان کے لیے یہ اندازہ کر نامشکل تھا کہ اس کے دونوں پیروں میں سے کون سا پیر فطری ہے اور کون سا مصنوعی ( ناردرن انڈیا پتریکا 22 اپریل 1984)— رقص جیسے حقیر مقصد کے لیے ایک عورت نے اتنی غیر معمولی جد وجہد کی۔ پھرجو لوگ حق و صداقت جیسی برتر چیز کو اپنا مقصد بنائیں اس کے لیے ان کی جدوجہد تو اس سے بھی زیادہ ہونی چاہیے ۔
’’زیادہ دشواری کو حل کرنے کا سب سے زیادہ یقینی ذریعہ زیادہ محنت ہے‘‘ کسی کا یہ قول محض قول نہیں، بلکہ زندگی کی ایک سادہ حقیقت ہے ۔
جو شخص زندگی میں کسی رکاوٹ سے دو چار ہوجائے وہ بھی اسی طرح کامیاب زندگی حاصل کر سکتا ہے، جیسے بے رکاوٹ والے لوگ حاصل کرتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ عام حالات سے کچھ زیادہ محنت کے لیے تیار ہو جائے اور ابتدائی مشقتوں کو برداشت کرلے۔
