پیغمبرانہ رہنمائی
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اتنی زیادہ ہے کہ غیر مسلم مؤرخین و محققین بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ مثلاً سرٹامس کارلائل نے آپ کو پیغمبروں کا ہیرو (Hero as prophet) قرار دیا ہے۔ پروفیسر ای ای کلیٹ(E.E.Kellett) نے آپ کی بابت لکھا ہے کہ انہوں نے مصائب کا مقابلہ اس عزم کے ساتھ کیا کہ ناکامی سے کامیابی کو نچھوڑیں:
‘‘He faced adversity with the determination to wring success out of failure.’’ (A Short History of Religions by E.E. Kellet, pp. 331-32, Middlesex)
ڈاکٹر مائیکل ہارٹ(Michael Hart) نے اپنی کتاب سو بڑے(The 100) میں آپ کو عالمی بڑوں کی فہرست میں نمبر ایک پر رکھا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ وہ تاریخ کے واحد شخص ہیں جو مذہبی اور دنیاوی دونوں لحاظ سے سب سے زیادہ کامیاب رہے
‘‘He was the man in history who was supremely successful on both the religious and secular levels.’’
یہ پیغمبر ِاسلام کی تصویر ہے۔ لیکن امّتِ اسلام کو دیکھیے تو اس کی تصویر اس سے بالکل مختلف نظر آئے گی۔ ہیرو پیغمبر کی امت آج زیرو امت بنی ہوئی ہے۔ پیغمبر ِکامیاب کی امت موجودہ زمانے میں امتِ ناکامیاب کا بدترین نمونہ ہے۔ وہ ہستی جس کا حال یہ تھا کہ اس نے ناکامی تک سے کامیابی کو نچوڑ لیا۔ اس کے ماننے والے آج ساری دنیا میں صرف اپنی عبرت ناک محرومی کے خلاف فریاد خوانی اور ماتم سرائی میں مشغول ہیں۔
ایسا کیوں ہے۔ اس کا جواب معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں۔ آپ مسلمانوں کے سیرۃ النبیؐ کے جلسوں میں شرکت کیجیے ۔ آپ مسلم اخبارات و جرائد کے سیرت نمبر کو دیکھیے ۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے سیرت رسولؐ کے موضوع پر جو بے شمار کتابیں لکھی ہیں، ان کا مطالعہ کیجیے ۔ ان کا خلاصہ، تقریباً بلااستثناء صرف ایک نکلے گا، اور وہ فخر ہے۔ مسلمانوں نے اپنے رسولؐ کو اپنے لیے ایک قسم کا قومی فخر بنا لیا ہے، اور مختلف طریقوں سے اس کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔
پیغمبر اسلام ہمارے لیے بطور فخر نہیں بھیجے گئے، بلکہ آپ بطور نمونہ بھیجے گئے۔ قرآن میں کہا گیا ہے :
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَة۔ (33:21) سارے قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ:لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ مَفخَرَةٌ حَسَنَة۔ (اللہ کے رسول میں تمہارے لیے بہترین فخر ہے) مسلمانوں کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ قرآن کی کسی آیت کو بدل دیں۔ چنانچہ قرآنی مصحف میں تو اب بھی یہی لفظ درج ہے کہ اللہ کے رسولؐ میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ مگر مسلمانوں کی اپنے عمل کی جو کتاب ہے اس میں انہوں نے بطور خود یہ لکھ دیا ہے کہ اللہ کے رسولؐ میں تمہارے لیے بہترین فخر ہے۔
یہی اصل سبب ہے جس نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو ناکام بنا رکھا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ رسول اللہؐ کا اتنا زیادہ تذکرہ کرتے ہیں، مگر عملی طور پر اس کا کوئی فیض ان کے حصے میں نہیں آتا۔ اگر آپ کے پاس نہایت زرخیز قسم کی ایک ہزار ایکڑ زمین ہو، مگر آپ اس پر کاشت نہ کریں۔ البتہ صبح و شام اس پر فخر کرتے رہیں تو وہ زمین آپ کو کچھ بھی فائدہ دینے والی نہیں۔ زمین کا فائدہ آپ کو اس وقت حاصل ہوگا جب کہ آپ اس کو استعمال کریں۔ اسی طرح رسولؐ پر فخر کرنا مسلمانوں کے کچھ کام آنے والا نہیں۔ البتہ اگر وہ رسول کو نمونہ ٴعمل سمجھیں، اور آپ کے طریقے کو اپنی زندگی میں عملاً اختیار کریں تو یقیناً وہ ان عظیم فائدوں اور برکتوں کو حاصل کر سکتے ہیں جو اس نمونےکے اندر رکھے گئے ہیں۔
