روزہ کے بارے میں

آل انڈیار یڈیو (نئی دہلی) نے 19 اگست 1978 کی شام کو ساڑھے نو بجے ایک پروگرام رکھا۔ اس کا عنوان تھا ’’ روزہ کیا ہے ‘‘۔ یہ آدھ گھنٹہ کی ایک ریڈیائی بات چیت تھی جس میں تین مذاہب کے نمائندوں کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ اپنے اپنے مذہب کے مطابق روزہ کے تصورات بیان کریں۔

 راقم الحروف نے اسلام کی نمائندگی کی ۔ بقیہ دوصاحبان حسب ذیل تھے :

پنڈت سچیدانند شاستری (هند ودھرم)

آرک بشپ ناصر (عیسائیت)

راقم الحروف کو اس ریڈیائی بات چیت کا کو آرڈینیٹر بنایا گیا تھا۔ ہر ایک نے اپنے اپنے مذہب کی روشنی میں بتایا کہ اس کے نزدیک روزہ کیا ہے اور وہ اس کے مذہب میں کس لیے اور کس شکل میں فرض کیا گیا ہے۔

روزہ ، جس کو عربی میں صوم ، ہندی میں برت اور انگریزی میں فاسٹنگ کہتے ہیں ، ہر مذہب میں کسی نہ کسی طور پر پایا گیا ہے ۔ اگرچہ اس کی مدت اور اس کی شکل میں ایک مذہب اور دوسرے مذہب کے درمیان اختلاف ہے مگر وہ ایک یا دوسری صورت میں ہر جگہ موجودہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ نفس کو کنٹرول میں لانے کی تربیت ہے اور نفس پر کنٹرول یا (نفس کشی) کو ہر مذہب میں خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے ۔ مذہب جس قسم کے انسان بنانا چاہتا ہے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کا نفس اس کی عقل کے قبضہ میں ہو اور روزہ آدمی کواسی کے لیے تیار کرتا ہے ۔

  آدمی دو چیزوں کا مجموعہ ہے ۔ جسم اور روح ۔ جسم مادی اور کثیف ہے ۔ روح غیر مادی اور لطیف ۔ اگر ہم جسم کی ہر خواہش کو بے روک ٹوک پورا کرتے رہیں تو جسم زور آور بن جائے گا اور وہ روح کے اوپر غالب آجائے گا ۔ روزہ اسی آزادی پر پابندی لگانے کا دوسرا نام ہے ۔ روزہ آدمی کے جسم کو ایک حد کے اندر رکھ کر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ اس کی روح اس کے جسم کےاوپر حکمرانی کرے ۔ اس کا لطیف وجود اس کے کثیف وجود کو اپنے قبضہ میں رکھے۔

دونوں صاحبان نے اسی بات کو اپنے اپنے انداز اور اپنے اپنے لفظوں میں بیان کیا ۔ راقم الحروف نے جو بات کہی وہ یہ تھی کہ روزہ محض اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہے ۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ آدمی صبح سے شام تک کھانا پینا بند رکھے تو روزہ کا مقصد پورا ہو جائے گا۔ ظاہری صورت دراصل ایک علامت ہے اور اس کے ذریعہ ایک خاص روحانی اور اخلاقی تربیت دینا مقصود ہے۔

وہ سبق یہ ہے کہ دنیا میں آدمی کو چاہیے کہ وہ صحیح اور غلط اور جائز اور ناجائز میں فرق کرے۔ وہ صحیح اور جائز کو لے لے اور غلط اور نا جائز سے اپنے آپ کو بچائے یہی وہ چیز ہے جو اس کی آخرت میں آنے والی مستقل زندگی کو کامیاب بناتی ہے ۔

یہ روزہ در اصل زندگی کا ایک گہرا اصول ہے ۔ دنیا میں ایک تاجر اپنے کو فضول خرچی سے بچاتا ہے ۔ ایک طالب علم اپنے اوقات کو بیکار ضائع کرنے سے بچاتا ہے ۔ ایک مزدور اپنے آپ کو کاہلی اور بددیانتی سے بچاتا ہے ۔ اس طرح بیچ بچاؤ کی زندگی گزارنے ہی کا نام موجودہ دنیا کی کامیابی ہے ۔ کاہلی، فضول خرچی ، عیاشی، ضیاع وقت سے آدمی اپنے آپ کو نہ بچائے تو وہ کسی طرح امتحان کی اس دنیا میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔

ایسا ہی کچھ معاملہ آخرت کا بھی ہے ۔ اسلام کے نزدیک آخرت کی کامیابی کار از ’’روزه دار زندگی‘‘ ہے ۔ آدمی کو اپنی اگلی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے یہ کرنا ہے کہ وہ موت سے پہلے والی زندگی میں متقیانہ روش اختیار کرے ۔ وہ کچھ چیزوں سے اپنے آپ کو بچا کر رکھے۔

آخرت کو برباد کرنے والی چیزوں سے بچنا اوران کو چھوڑ کر لال دائرہ میں زندگی گزارنا، یہی وہ سبق ہے جس کو دینے کے لیے روزہ فرض کیا گیا ہے ۔

پھر اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو شخص دن بھر روزہ رکھتا ہے ، اس کو شام کے وقت کھانے کی لذت ملتی ہے ۔ اسی طرح جو شخص دنیا میں خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے گا وہی آخرت میں زندگی کی حقیقی لذتوں کو پائے گا— دن کا روزہ اگر موجودہ دنیا کی مشقتوں کی علامت ہے تو شام کا کھانا آخرت کی راحتوں کی علامت ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion