میڈیا کلچر

موجودہ زمانہ میں لوگوں کی سوچ میں بگاڑآیاہےاس کاغالباًسب سےبڑاسبب وہ جدید ظاہرہ ہےجس کومیڈیا کلچر کہاجاسکتا ہے۔جدیدمیڈیا،خواہ وہ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا،سب کاطریقہ یک طرفہ رپورٹنگ (one sided reporting) کا ہے۔ چونکہ عام لوگ خبروں کو میڈیا کے ذریعہ لیتےہیں اس لیے لوگوں کی رائے ہر معاملہ میں ناقص ہوگئی ہے۔ وہ یک طرفہ سوچ کےتحت رائےقائم کرتےہیں۔اس یک طرفہ رپورٹنگ کا اصول یہ ہےکہ بری خبروں کولواوراچھی خبروں کوچھوڑدو۔میڈیاکی حیثیت ایک انڈسٹری کی ہے۔ اور انڈسٹری ہونے کے اعتبار سے اس کے لیے یہی مفید طریقہ ہے کہ وہ کسی ملک یاسماج کی بری خبروں کونمایاں کرے۔اوراچھی خبروں کوقابل تذکرہ نہ سمجھے۔ میڈیا کی اس روش نے عالمی سطح پرانسانی سوچ کومنفی بنادیاہے۔

اس معاملہ کی ایک دلچسپ مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔میں اکثربی بی سی لندن کی نشریات کوسنتاہوں۔ایک دن میں بی بی سی لندن کاہندی پروگرام سن رہاتھا۔اپنےطریقہ کےمطابق،انہوں نےآخرمیں کچھ خطوط پڑھ کرسنائے۔ایک خط ماریشش میں مقیم ایک ہندو کا تھا۔ اس نےاپنےخط میں یہ شکایت کی تھی کہ آپ ہندی بولنےوالےعلاقے کی خبریں نشر کرتے ہیں، ماریشش میں بھی بہت سےلوگ ہندی بولتےہیں مگرآپ کبھی ماریشش کی کوئی خبرنہیں دیتے۔بی بی سی لندن کےاناؤنسرنےہنستےہوئےاس خط کا جواب دیا۔اس نےکہاکہ میڈیاتوبری خبروں کی رپورٹنگ کانام ہے۔آپ کےملک میں سب سے اچھی خبریں ہوتی ہیں،اوراچھی خبرمیڈیاکےنزدیک کوئی خبرنہیں۔

Good news is no news.

یہ فطرت کے نظام کےخلاف ہےکہ دنیامیں صرف برائی ہی برائی ہو۔حقیقت یہ ہے کہ خود نظام فطرت کے تحت دنیا میں اگرایک فیصدبرائی ہوتی ہےتوعین اسی وقت ننانوے فیصد اچھائی موجودرہتی ہے،خواہ براہ راست طورپریابالواسطہ طور پر۔مگرمیڈیاکبھی لوگوں کو اس واقعہ کی خبرنہیں دیتاکہ ہم جن برائیوں کی رپورٹ کررہےہیں وہ پورےسماج کا ایک فیصد حصہ ہے،نہ کہ کل حصہ۔ 1947ء سے پہلے برصغیر ہند کے اخبارات انگریزوں کے بارے میں صرف ان کے ’’ظلم‘‘کی خبریں دیتےتھے،انگریزی نظام کےمثبت پہلو اخباروں میں جگہ نہیں پاتےتھے۔چنانچہ تمام ہندوستانیوں کوانگریزوں سےنفرت ہوگئی۔

1947سے پہلےمسلم لیگ سے متاثر اخبارات یہاں کے ہندوؤں کے مثبت پہلوؤں کو نظر انداز کرتے تھےاور ان کےباتے میں صرف منفی باتیں چھاپتےتھے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ برصغیر ہند کے مسلمانوں کی اکثریت یہاں کے ہندوؤں کےبارےمیں بدظن ہوگئی۔ اسی طرح آج کل تمام دنیاکامسلم میڈیاامریکہ کےمثبت پہلوؤں کاکوئی تذکرہ نہیں کرتا،وہ اس کے بارے میں صرف بری باتوں کومسلمانوں تک پہنچاتاہے۔اس کانتیجہ یہ ہےکہ ساری دنیا کے مسلمان امریکہ سےمتنفرہوگئےہیں اوریہ سمجھنےلگےہیں کہ امریکہ اسلام کادشمن نمبر ایک ہے۔

میڈیاکی حیثیت ایک انڈسٹری کی ہے۔میڈیاکےاپنےتجارتی مصالح کی بناپریہ ممکن نہیں کہ وہ یک طرفہ رپورٹنگ کا طریقہ ختم کرےاوردوطرفہ رپورٹنگ کاطریقہ اپنے یہاں رائج کرے۔ اس مسئلہ کاعملی حل میڈیاکی شکایت کرنانہیں ہے بلکہ خوداپنےذہن کی اصلاح کرنا ہے۔ ہمیں چاہیےکہ ہم لوگوں کےاندرشعوری بیداری پیداکریں۔ہم یہ کوشش کریں کہ لوگوں کےاندرتفکیروتدبرکی صحیح صلاحیت پیداہوتاکہ وہ میڈیاکی ناقص رپورٹنگ سے متاثرنہ ہوں،بلکہ خود تجزیہ کرکےمعاملات کےبارےمیں درست رائے قائم کریں۔

اس تجزیہ کاطریقہ یہ ہےکہ مثلاًجب آپ مسلم اخباروں میں یامسلم رہنماؤں کی تقریروں میں یہ سنیں کہ امریکہ اسلام کا دشمن ہےتوآپ اس کاتجزیہ کریں۔آپ یہ سوچیں کہ امریکہ جب ایک دشمن ملک ہےتوچھ ملین سےزیادہ مسلمان وہاں جاکر کیسے آرام کےساتھ رہ رہےہیں،حتیٰ کہ اخبارکےایڈیٹریااسٹیج کے مقرر کے خود اپنے رشتہ داربھی۔اسی طرح یہ کہ اگرامریکہ اسلام دشمن ہےتووہاں ہزاروں کی تعدادمیں اسلامی ادارےکیوں قائم ہیں اور آزادی کےساتھ چل رہے ہیں۔کیوں ایساہےکہ امریکہ میں ایسےشانداراجتماعات ہوتے ہیں جومسلم ملکوں میں بھی نہیں ہوتے۔اسی طرح یہ کہ اگر امریکہ اپنی اسلام دشمنی کی بناپر فلسطین میں یہودیوں کی مددکرتاہےتووہی امریکہ اسلامی ملک پاکستان کی مسلسل طورپر کیوں مددکررہاہے،وغیرہ۔

جب آپ مسلم اخباروں اورمسلم رہنماؤں کی باتوں کااس طرح تجزیہ کریں گے تو آپ یقینی طورپرجان لیں گےکہ اصل حقیقت کیاہے۔دوسرےلفظوں میں یہ کہ میڈیاکی فراہم کردہ ایک فیصدخبروں پرانحصارنہ کیجیےبلکہ اس کےساتھ بقیہ ننانوےفیصدخبروں کوبھی شامل کرکےدیکھیےاورپھرآپ کبھی رائےقائم کرنےکی غلطی میں مبتلانہیں ہوں گے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion