تاریخی تفصیلات
طارق بن زیاد رمضان91ھ میں اسپین کے ساحل پر اترے تو ان کے ساتھ سات ہزار کا لشکر تھا۔ ساحل افریقہ اور اسپین کے درمیان دس میل کی آبنائے کو، ان کے لشکر نے چار کشتیوں کے ذریعہ پار کیا تھا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ زمانہ کے ایک ’’مورخ اسلام‘‘ لکھتے ہیں:
’’اس سے اس زمانہ کے جہازوں کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ کتنے بڑے تھے‘‘۔
موصوف نے قیاس کیا کہ پور الشکر ایک ہی بار چار کشتیوں پر لد کر دوسری طرف پہنچ گیا ہوگا۔ حالانکہ یہ صحیح نہیں۔ اس زمانہ میں ایسی کشتی وجود میں نہیں آئی تھی جس پر دو ہزار فوجی اپنے تمام سازوسامان کے ساتھ بیک وقت بیٹھ سکیں۔ اصل یہ ہے کہ ان شکریوں نے کئی پھیروں میں آبنائے طارق کو پار کیا تھا۔
ساتویں صدی عیسوی کے آخر تک مسلمانوں نے افریقہ کو بحرروم کے آخری ساحل تک فتح کر لیا تھا۔ بازنطینی سلطنت ایشیا اور افریقہ سے ختم ہو چکی تھی۔ تاہم مراکش کے ساحل پر سبطہ اور اس کے مضافات کے علاقے اب بھی اسپینی گورنر یلیان(کاؤنٹ جولین) کے قبضہ میں تھے۔ یہاں رومیوں نے زبردست قلعہ بنایا تھا۔ موسیٰ بن نصیر نے اس کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ مگر ان کی طاقت دیکھ کر بالآخر انہوں نے مصلحت یہ سمجھی کہ جولین سے صلح کر لیں اور اس ساحلی قلعہ کو اس کے قبضہ میں چھوڑ دیں۔ افریقہ سے بازنطینی سلطنت کے خاتمہ کے بعد جولین نے اپنے سیاسی تعلقات اسپین کی عیسائی حکومت سے قائم کر لیے۔ سبطہ اس وقت اندلس کا ایک سمندر پار صوبہ سمجھا جاتا تھا۔ اندلس سے برابر کشتیوں کے ذریعہ اس کو مدد پہنچتی رہتی تھی۔
یہاں یہ سوال ہے کہ جو مسلمان اسپین کے ایک ماتحت گورنر سے خود اپنے مفتوحہ براعظم میں صلح کرنے پر مجبور ہوئے تھے، انہوں نے سمندر پار کر کے خود اسپین پر حملہ کرنے کی جرأت کس طرح کی۔ اس کا جواب زیر بحث مسئلہ کے تاریخی مطالعہ سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
415ء میں قوط (Visigoths) قبائل اسپین میں گھس آئے اور پانچ سو سالہ رومی سلطنت کو ختم کر کے وہاں اپنی حکومت قائم کرلی۔ بعد کو ان لوگوں نے ٹھیک اسی طرح مسیحی مذہب کو اختیار کر یا جس طرح ترکوں کے ایک گروہ بنو سلجوق نے مسلم دنیا پر قابض ہونے کے بعد اسلام اقبول کر لیا تھا۔ گاتھ کا مقصد اس تبدیلی مذہب سے یہ تھا کہ مقامی عیسائیوں کو مطمئن کر کے اسپین میں اپنے سیاسی اقتدار کو مستحکم کریں۔ جس زمانہ میں مسلمانوں نے بازنطینی اقتدار کو شام، مصر، فلسطین سے ختم کیا، طلیطلہ (ٹالیڈو) پرگاتھ کا آخری بادشاہ وئیکا (فیطشہ) حکمراں تھا۔ وئیکا کی بعض کمزوریوں سے اس کے اس فوجی افسررذریق (Radrick) کو موقع ملا کہ وہ اس کی حکومت کا تختہ الٹ دے اور خود اسپین کا حکمراں بن جائے۔
سبطہ کا گورنر جولین اگرچہ وئیکا کا رشتہ دار تھا۔ تاہم اس نے مصلحت کے تحت اپنی وفاداریاں رذریق سے وابستہ کر دیں۔ مگر بعد کو ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے اس کو بے حد مشتعل کر دیا۔ اور اس کو اپنے بادشاہ کا مخالف کر کے مسلمانوں کے قریب کر دیا جو افریقی براعظم میں اس کے جغرافی پڑوسی تھے۔
اس زمانہ میں اسپین کا حکمران طبقہ بدترین قسم کی عیاشیوں کا شکار تھا۔ رواج کے مطابق امراء کی لڑکیاں عرصہ تک شاہی محل میں رکھی جاتی تھیں تاکہ شاہی آداب و قواعد کو سیکھ سکیں اور بادشاہ کی خدمت کریں۔ رذریق کے عہد میں جولین کی لڑکی فلورنڈا بھی اسی رواج کے مطابق شاہی محل میں داخل ہوئی۔ لڑکی جوان ہوئی تو رذریق اس پر فریفۃ ہوگیا اور جبری طور پر اس کی عصمت دری کی۔ لڑکی نے کسی طرح اس واقعہ کی اطلاع اپنے باپ کو دے دی۔
جولین کو اس واقعہ کا انتہائی صدمہ ہوا۔ اس نے قسم کھائی کہ جب تک رذریق کی سلطنت کو دفن نہ کر لے، چین سے نہ بیٹھے گا۔ اولاً وہ طلیطلہ گیا اور لڑکی کی ماں کی بیماری کا بہانہ کر کے اس کو سبطہ واپس لایا۔ اس کے بعد وہ موسیٰ بن نصیر سے ملا اور اس کو اکسا کر تسخیر اندلس پر آمادہ کیا۔ اس نے موسیٰ کو اندلس کی اندرونی کمزوریاں بتائیں اور وعدہ کیا کہ وہ اور خود اندلس کے بہت سے لوگ اس مہم میں اسلامی فوج کا ساتھ دیں گے۔ یہ واقعہ90ھ کا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جولین نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنا نام مسلم رکھا تھا۔
اس کے بعد موسیٰ بن نصیر نے خلیفہ ولید بن عبدالملک سے خط و کتابت کی۔ کئی خطوط کے بعد ولید نے لکھا:’’مسلمانوں کو خوفناک سمندر میں نہ ڈالو۔ اگر تم پرامید ہو جب بھی ابتداء ً تھوڑی سی فوج بھیج کر صحیح اندازہ کرو‘‘۔
موسیٰ نے رمضان91ھ میں ایک شخص طریف کو، جس کی کنیت ابوزرعہ تھی، پہلی مہم کے طور پر پانچ سو آدمیوں کے ساتھ اسپین روانہ کیا۔ جولین بھی ان کے ساتھ تھا۔ شمالی افریقہ کے ساحلی ملک مراکش اور اسپین کے درمیان صرف دس میل کا آبی فاصلہ ہے۔ ان لوگوں نے چار کشتیوں کے ذریعہ اس کو عبور کیا اور دوسری طرف ساحل پر اتر گئے۔ یہ لوگ ساحلی علاقوں میں رہے اور وہاں کے حالات کا اندازہ کر کے دوبارہ واپس آگئے۔
اس کے بعد اگلے سال رمضان92ھ میں طارق بن زیاد کی سرکردگی میں سات ہزار کا لشکر تیار کیا گیا۔ دس میل کی آبنائے کو پار کر کے جب وہ لوگ اسپین کے ساحل پر اترے تو کہا جاتا ہے کہ طارق نے اپنی تمام کشتیاں جلا دیں۔ مگر کشتیاں جلانے کا واقعہ بعد کا اضافہ شدہ افسانہ معلوم ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں ، اور آج بھی، فاتح کی داستانوں میں اس قسم کے اضافے عام رہے ہیں۔ ہمارے اس خیال کے لیے ایک قرینہ یہ ہے کہ تاریخ اندلس کی قدیم کتابوں میں یہ واقعہ سرے سے مذکورنہیں۔
بتایا گیا ہے کہ سمندر کو پارکر کے جب طارق بن زیاد اسپین کے ساحل پر اترے تو انہوں نے اپنے فوجیوں کو للکارا:
يَا أَ يُّهَا ٱلنَّاسُ! ٱلْعَدُوُّ أَمَامَكُمْ، وَٱلْبَحْرُ وَرَاءَكُمْ، وَلَيْسَ لَكُمْ وَٱللهِ إِلَّا ٱلْجَلَدُ وَٱلصَّبْرُ (بدائع السلک فی طبائع الملک، جلد 1، صفحہ 162)۔ یعنی، اے لوگو دشمن تمہارے سامنے ہے اور سمندر تمہارے پیچھے ہے۔ تمہارے لیے خدا کی قسم اس کے سوا کوئی راہ نہیں کہ صبر کرو اور جم کر مقابلہ کرو۔
سپہ سالار کے یہ جوشیلے الفاظ سن کر لشکری چیخ اٹھے:
أَنَا وَرَاءَكَ يَا طَارِقُ طارق ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔
تمام تاریخوں کے متفقہ بیان کے مطابق مخالف فوجوں سے مقابلہ ساحل پر اترتے ہی فوراً پیش نہیں آیا تھا۔ قیاس یہ ہے کہ یہ تقریر بعد کو اس وقت کی گئی ہے جب کہ عملاً مقابلہ پیش آیا ہے۔ اور فتح اندلس کے بعد جب تقریر کے الفاظ’’سمندر تمہارے پیچھے ہے‘‘ لوگوں میں عام ہوئے تو قصہ گویوں نے اس میں اپنی طرف سے یہ اضافہ کر دیا کہ یہ تقریر کشتیوں کو جلانے کے بعد کی گئی تھی۔ شاید ان کے نزدیک سمندر کے پیچھے ہونے کے لیے ضروری تھا کہ سمندر اور فوجوں کے درمیان سے کشتیوں کو ہٹایا جا چکا ہو!
وائرلیس کے دور سے ایک ہزار سال پہلے سمندر پار کے ملک میں اترنے والا ایک کمانڈر اس حقیقت سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا کہ اسپین کے ساحل پر اترنے کے بعد یہی کشتیاں وہ واحد ذریعہ ہیں جن سے وہ اپنے مرکز سے مربوط رہ سکتا ہے۔ طارق او موسیٰ بن نصیر(گورنر افریقہ) کے درمیان پیغام رسانی کا دوسرا کوئی ذریعہ اس زمانہ میں ممکن نہ تھا۔ یہ قیاس نہیں ہے بلکہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ، ساحل اسپین پر اترنے اور مقابلہ پیش کرنے کے درمیان تقریباً دو ماہ تک یہی کشتیاں تھیں جو دونوں کے درمیان باہمی ربط اور پیغام رسانی کا ذریعہ بنی رہیں۔
طارق جس مقام پر اترے اس کا نام قلۃ الاسد(Lion`s rock) تھا۔ بعد کو وہ جبل الطارق (جبرالٹر) کے نام سے مشہور ہوا۔ طارق اسپین کے جس ساحل پر اترے وہ اس وقت ایک غیر آباد علاقہ تھا۔ وہاں ایک دشوار گزار پہاڑی کو جائے پناہ قرار دے کر وہ لوگ اکٹھا ہوگئے، تاکہ حالات کو سمجھ کر آئندہ کا نقشہ بنا سکیں۔ اسپین کا بادشاہ رذریق ان دنوں بنبلونہ (Pamplona) کی ایک جنگ میں مشغول تھا، جہاں اس کے خلاف بغاوت ہوگئی تھی۔ اس کو جب طارق کے اسپین میں داخلہ کی خبر ملی تو اس نے حکم دیا کہ ایک لاکھ فوج جمع کی جائے تاکہ مداخلت کاروں کو باہر نکالا جا سکے ۔ طارق کا جاسوسی نظام بھی کام کر رہا تھا۔ انہیں جب رذریق کی تیاریوں کی خبر ملی تو انہوں نے فوراً اپنا ایک مقاصد موسیٰ بن نصیر (گورنر افریقہ) کے یہاں روانہ کیا اور مزید کمک کی درخواست کی۔ ادھر موسیٰ بھی خاموش نہ تھے۔ بلکہ مسلسل تیاریوں میں مشغول تھے۔ چنانچہ انہوں نے کشتیوں کے ذریعہ پانچ ہزار مزید سپاہی بھیج دیے۔ اس طرح طارق کے لشکر کی تعداد بارہ ہزار ہوگئی۔
طارق نے پیغام رسانی کا یہ تمام کام کشتیوں کے ذریعہ کیا۔ کوئی دوسرا ذریعہ اس زمانہ میں ممکن نہ تھا۔ اور پھر یہ کشتیاں ہی تھیں جنہوں نے پانچ ہزار فوجیوں کی دوسری قسط کو اسپین کے ساحل پر اتارا، جس کے بعد طارق اس قابل ہوگئے کہ وہ اسپین پر حملہ کر سکیں۔ طارق اگر اسپین کے ساحل پر اترتے ہی اپنی کشتیوں کو جلا دیتے تو یہ پیغام رسانی ممکن نہ ہوتی، اور نہ مقابلہ کے وقت مزید کمک پہنچ سکتی۔
اس معرکہ میں جولین بھی پوری طرح طارق کے ساتھ تھا۔ اس نے شاہ رذریق کے خلاف مقامی باشندوں کی ناراضگی سے فائدہ اٹھایا، اور اپنے تعلقات کی بنیاد پر اسپینی شہریوں کی ایک جماعت طارق کی خدمت میں حاضر کر دی۔ ان لوگوں نے دشمن کی خبریں فراہم کرنے کا کام اپنے ذمہ لیا، اور فوجی اعتبار سے کمزور مقامات کی اطلاع مسلمانوں کو دی اور مسلمانوں کی رہبری کرتے رہے۔ یہ واقعہ بھی مسلمانوں کے لیے ایک نعمت ثابت ہوا کہ تین سال (90-88ھ)تک اندلس میں سخت قحط پڑا تھا، اس کی وجہ سے اتنے لوگ مرے کہ کہا جاتا ہے کہ اندلس کی آبادی آدھی رہ گئی۔
مزید یہ کہ رذریق کی ایک لاکھ فوج میں ایک عنصر ایسا بھی تھا، جو سابق شاہ اسپین سے عقیدت رکھنے کی وجہ سے باغی رذریق کا اندر اندر مخالف تھا۔ ان کے فوجی سرداروں میں شسرت اور ابتہ بھی تھے جو سابق شاہ کے بیٹے تھے۔ انہوں نے اپنی خفیہ میٹنگ کی اور کہا:
’’رذریق خبیث ہمارے ملک پر خواہ مخواہ مسلط ہوگیا ہے، حالاں کہ شاہی خاندان سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ تو ہمارے یہاں کے کمینوں میں سے ہے۔ رہے مسلمان، وہ تو صرف وقتی لوٹ مار کے لیے آئے ہیں۔ اس کے بعد اپنے وطن کو واپس چلے جائیں گے۔ اس لیے مقابلہ کے وقت اس خبیث کو زک دینے کے لیے ہم کو خود شکست کھا جانا چاہیے۔‘‘
رذریق کی فوج کے ایک حصہ نے نہایت سخت جنگ کی۔ مگر غیر مطمئن فوجیوں نے جنگ میں زور نہیں دکھایا۔ بالآخر شکست ہوئی اور رذریق میدان جنگ سے بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کے بعد وہ نہ زندہ مل سکا نہ مردہ۔ کہا جاتا ہے کہ بھاگنے کے دوران وہ ایک دلدل میں پھنس کر مر گیا۔
اسپین کے بعض علاقوں کو طارق نے فتح کیا۔ بعض کو مغیث رومی نے، بعض کو موسیٰ بن نصیر نے جو بعد کو18 ہزار فوج کے ساتھ اندلس میں داخل ہوئے تھے۔ رعایا کی اپنے بادشاہ اور سرداروں سے بیزاری کی وجہ سے ان کو خود اسپینیوں میں مدد گار اور جاسوس ملتے چلے گئے۔ تمام مورخین لکھتے ہیں کہ غیر مسلم جاسوسوں نے اسپین کی ابتدائی فتوحات میں بہت مدد کی تھی۔
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا(1984) نے لکھا ہے کہ اسپین پر مسلمانوں کا حملہ گاتھ کی دعوت پر ہوا تھا ، نہ کہ محض اپنی تحریک پر۔ 709 میں وٹیزا (Witiza) کی موت سے اسپین میں خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ اس جنگ میں رذریق کے مقابلہ میں وٹیزا کے خاندان نے موسیٰ بن نصیر سے مدد چاہی۔ اس کے بعد طارق711ء میں آبنائے جبرالٹر کو پار کر کے اسپین میں اترے اور ذریق کو فیصلہ کن شکست دی۔
اس کے بعد تعجب خیز طور پر اکثر اسپینیوں نے رضا کارانہ طور پر اس کی اطاعت قبول کر لی۔20 ہزار کی ایک فوج کے ہاتھوں اس تیز رفتار فتح کا سبب غالباً یہ تھا کہ اس وقت اسپین کے لوگوں میں اتحاد نہ تھا۔ مزید یہ کہ مسلمانوں سے اسپین کے لوگوں کو بہت فائدے پہنچے۔ مثلاً نئے حکمرانوں نے ان کے اوپر سے ٹیکس کا بوجھ کم کر دیا۔ نچلے طبقہ کے لوگوں کو آزادی حاصل ہوگئی۔ یہود پر عیسائیوں کی طرف سے ہونے والے مظالم ختم ہوگئے اور انہیں سماج کے اندر برابری کا درجہ مل گیا۔ اس طرح آٹھویں صدی عیسوی کے پہلے نصف حصہ میں مسلم اسپین کے اندر ایک نیا اور بالکل مختلف سماج قائم ہوگیا۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، جلد 17، صفحہ 414)
