تصوف اور تہذیب نفس
تصوف کا گہرا تعلق تہذیب نفس سے ہے۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ تصوف کا اصل مقصد ہی یہی ہے کہ انسان کو نفسیاتی اعتبار سے ایک مہذب انسان بنایا جائے۔
سیاست کا نشانہ ہمیشہ خارجی نظام ہوتا ہے۔ اہل سیاست اپنے اصلاحی نقشہ کو قائم کرنے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت جس چیز کو دیتے ہیں وہ خارجی سماجی ڈھانچہ کو توڑنا ہے۔ تصوف کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ تصوف کا نشانہ ہمیشہ فرد ہوتا ہے۔ یعنی فرد کے اندر روحانی تبدیلی اور اخلاقی اصلاح پیدا کر نا۔ اس اعتبار سے تصوف گویا روحانی یا اخلاقی سائنس کا دوسرا نام ہے۔
اہل تصوف کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ فرد کو مادی رغبتوں سے اوپر اٹھائیں ۔ وہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتے ہیں کہ وہ مادی چیزوں سے زیادہ روحانی مقصد کو اہمیت دے۔ وہ اپنے وجود کے حیوانی عنصر کو دبائے اور اپنے وجود کے انسانی عنصر کو ترقی دے۔ وہ اپنے اندر یہ اخلاقی استعداد پیدا کرے کہ وہ زیادتی کے باوجود مشتعل نہ ہو ۔ وہ نفرت کے جواب میں محبت کا سلوک کرے ۔ وہ ہر حال میں اپنے کو ردعمل کی نفسیات سے بچائے اوردوست اور دشمن سب کے ساتھ یکساں طور پر مثبت رویہ پرقائم رہے۔
تصوف آدمی کے اندر مہربانی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر محبت اور تعفف کا مزاج بناتا ہے۔ تصوف کا مقصد انسان کو سطحی چیزوں سے اٹھانا اور اس کو اعلیٰ حقیقتوں میں جینے کے قابل بنانا ہے۔ جو آدمی اس قسم کی برتر زندگی حاصل کرلے وہ اس دنیا میں پھول کی طرح جینے لگتا ہے۔ اس سے ہر ایک کو خوش اخلاقی کا تجربہ ہوتا ہے۔ سماج کے اندر وہ ایک ایسا بے ضرر انسان بن جاتا ہے جس سے کسی آدمی کو اپنے لیےخطرہ محسوس نہیں ہوتا۔
سچے اہل تصوف دوسروں سے لینے کے بجائے دوسروں کو دینے والے ہوتے ہیں۔ وہ درخت کی مانند ہوتے ہیں جس سے لوگوں کو سایہ اور لکڑی اور سبزہ اور پھل اور پھول ملتا ہے۔ مگر خود درخت لوگوں سے کچھ بھی نہیں چاہتا۔ تصوف کے طریقہ کو اختیار کرنے کے بعد آدمی کو روحانی طور پر اتنا زیادہ مل جاتا ہے کہ وہ دوسروں کو حسد کی نظر سے نہیں دیکھتا۔ وہ دوسروں کے اثاثہ کا خواہشمند نہیں ہوتا۔ وہ دوسروں کی چیزوں میں حصہ دار بننے کی کوشش نہیں کرتا۔ وہ اپنے آپ میں جیتا ہے۔ اس کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کو نفع پہنچاؤ ، اور اگر نفع نہ پہنچا سکو تو دوسروں کو نقصان بھی نہ پہنچاؤ۔
ایک تمثیلی قصہ تصوف کی اس حقیقت کو بہت خوبصورتی کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صوفی کا کردار کیا ہے اور صوفی اور غیر صوفی میں کیا فرق ہے۔
وہ قصہ اس طرح ہے کہ ایک صوفی بزرگ تھے۔ وہ اپنے مریدوں کے قافلہ کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ قافلہ نے درمیان میں ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا ۔ یہاں بہت سے درخت تھے۔ اگلی صبح کو بہت سے فاختہ غول کی صورت میں وہاں آگئے۔ اور اس درخت کے اوپر منڈلانے لگے جس کے نیچے بزرگ ٹھہرے ہوئے تھے۔ یہ فاختہ برابر کچھ بولیاں نکال رہے تھے جیسے کہ وہ کسی معاملہ کے خلاف احتجاج کر رہے ہوں۔
بزرگ نے جب فاختہ کے غول کو اس حال میں دیکھا تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے اس احتجاج کا سبب پوچھا۔ فاختہ کے لیڈر نے جواب دیا کہ آپ کے ایک مرید نے ہمارے ساتھ دھو کے کا معاملہ کیا ہے اور ہم اس کے خلاف آپ سے احتجاج کر رہے ہیں۔
اس نے کہا کہ ہم میں سے ایک کبوتر یہاں درخت پر پتیوں کے سایہ میں آرام کر رہا تھا کہ آپ کے ایک مرید نے اس کو غلیل کا نشانہ بنایا اور اس کو مار کر گرا دیا اور پھر اس کو ذبح کر ڈالا۔ بزرگ نے اپنے مذکورہ مرید کو بلایا اور اس سے فاختہ کی اس شکایت کے بارے میں پوچھا۔ مرید نے جواب دیا کہ حضرت، میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ ان جانوروں کو تو خدا نے ہماری خوراک بنایا ہے۔ ان کو مارنا ہمارے لیے حلال ہے ۔ پھر اگر میں نے ایک فاختہ کو مارکر ذبح کر ڈالا تومیں نے کون سا غلط کام کیا۔
بزرگ نے مرید کا یہ جواب فاختہ کے لیڈر تک پہنچایا ۔ اس نے کہا کہ ہماری شکایت وہ نہیں ہے جو آپ اور آپ کے مرید سمجھ رہے ہیں۔ ہماری شکایت تو یہ ہے کہ آپ لوگوں نے صوفی کا مذہب اختیار کیا اور آپ نے صوفی کے روپ میں آکر یہاں پڑاؤ ڈالا۔ مگر عملاً آپ نے شکاری والا کام کیا۔ آپ کو صوفی کے بھیس میں دیکھ کہ ہم مطمئن ہو گئے تھے کہ آپ کے وجود سے ہم کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اگر آپ شکاری کے روپ میں یہاں آتے تو ہم بھی اپنے بچاؤ کا انتظام کر لیتے جیسا کہ ہم دوسروں سے کرتے ہیں۔
یہ تمثیلی قصہ تصوف اور صوفی کی حقیقت کو بہت اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ صوفی ایک بے ضرر انسان ہوتا ہے۔ صوفی کی نظر دوسروں پر نہیں ہوتی بلکہ اپنے آپ پر ہوتی ہے۔ صوفی دوسروں کو دکھ دینا نہیں چاہتا۔ صوفی آخری حد تک دوسروں کے جذبات کا احترام کرتا ہے۔ اسی لیے ہندستان کے تمام بڑے بڑے صوفیاء ویجٹیرین تھے۔ اور ان کی درگاہوں کا لنگر آج تک ویجٹیرین ہی ہوتا ہے۔
تصوف مادی چیزوں کے مقابلہ میں روحانی حقیقتوں پر زور دیتا ہے۔ تصوف کا مقصد آدمی کے نفس کو نکھارنا ہے ۔ تصوف آدمی کو روحانی اور اخلاقی انسان بناتا ہے۔ تصوف آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ دشمن کو بھی دوست سمجھے۔ تصوف آدمی کے اندر منفی جذبات کو دباتا ہے اور اس کے مثبت جذبات کو ابھارتا ہے۔ تصوف آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے اور غیر کا فرق کیے بغیر ہر ایک کو اپنے سینہ سے لگا سکے۔
___________________________________________________
نوٹ:یہ تقریر 27 اکتوبر 1994کو آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے براڈ کاسٹ کی گئی۔
