کمزور تعمیر
بچوں کا گھروند اجتنی دیر میں بنتا ہے ، اس سے بھی کم مدت میں وہ زمیں بوس ہو جاتا ہے— یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مضبوط اور مستحکم زندگی کیا ہے ۔ اور وہ زندگی کیا ہے جو کمزور بنیادوں پر کھڑی کی گئی ہو۔
بارش اور طوفان میں جب کوئی مکان گرپڑتا ہے تو باہر کا طوفان اس کو نہیں گر اتا، مکان کی اپنی کمزوری اس کو گرا دیتی ہے۔آندھیاں اٹھتی ہیں تو چھپر اڑ جاتے ہیں مگر پتھر سے بنے ہوئے قلعےآندھیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جگہ کھڑے رہتے ہیں۔
ہر آدمی اپنے عمل سے اپنی زندگی کی تعمیر کر رہا ہے۔ مگر تعمیر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تعمیر وہ ہے جس کے پیچھے گہری بنیاد نہ ہو، جس کا ڈھانچہ بس اوپر اوپر کھڑا کر دیا گیا ہو۔ ایسی زندگی ہمیشہ حادثات کی زد میں رہتی ہے ۔ مخالفت کا معمولی جھونکا بھی اس کو ہلانے کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے زمین پر قرار اور استحکام نہیں۔
دوسری زندگی وہ ہے جو گہری بنیادوں پر تعمیر کی جائے۔ جس کے تمام اجزاء پختہ مادہ سے تیار کیے گئے ہوں۔ ایسی زندگی کو کوئی ہلا نہیں سکتا۔ مخالفین کی مخالفتیں اور دشمنوں کی سازشیں صرف اس کی مضبوطی کی تصدیق کرتی ہیں ۔
کمز ور تعمیر میں وقت بہت کم لگتا ہے ، اس لیے اکثر لوگ کمزور تعمیر کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ مگرکمزور تعمیر روز انہ گرتی ہے اور روزانہ بنائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس مستحکم تعمیر کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک بار بنا دی جائے تو صدیوں تک اپنی جگہ اٹل ہو کر کھڑی رہتی ہے۔ مستقبل کے لحاظ سے دیکھیے تو سب سے کم وقت مستحکم تعمیر میں لگتا ہے ، مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے۔
اگر آپ کو بنا نا ہے تو قلعہ بنائیے ، بچوں کا گھروندا نہ بنائیے ۔ اس کے بعد آپ کو کسی کے ظلم کی شکایت نہ ہوگی ۔ کیوں کہ اس کے بعد کوئی ظالم آپ کے قلعہ کو توڑنے کی ہمت ہی نہیں کرے گا۔ اور اگر کسی نے توڑنا چاہا تو اس کا اپنا سر توضرور ٹوٹ جائے گا، مگر آپ کا قلعہ توڑنے میں وہ کامیاب نہ ہوگا۔
