فطرت سے ہم آہنگی
کوئی آدمی زلزلہ سے لڑ نہیں سکتا۔ اس طرح کوئی آدمی فطرت کے قوانین سے لڑ کر موجودہ دنیا میں اپنی زندگی کی تعمیر نہیں کر سکتا۔ فطرت کے مقابلے میں انسان کے لیے واحد ممکن روش یہ ہے کہ وہ اس سے ہم آہنگی کرے۔ وہ فطرت کے قوانین سے مطابقت کرتے ہوئے اپنی زندگی کا نقشہ بنائے۔ اس کے بعد دوسرا ممکن بدل صرف تباہی ہے، نہ کہ تعمیر یا ترقی۔
اس دنیا میں اگر آپ اپنے لیے ایک ہرا بھر ادر خت چاہتے ہوں تو اس کا آغاز ایک بیج یا ایک چھوٹے سے پودے سے کرنا ہو گا۔ اور پھر ضروری ہو گا کہ آپ لمبی مدت تک انتظار کریں اس کے بعد ہی آپ اپنے مطلوب درخت کو پا سکتے ہیں، اس قانون فطرت کی خلاف ورزی کرنا صرف اس قیمت پر ممکن ہو گا کہ آپ کو اپنا مطلوب درخت کبھی حاصل ہی نہ ہو۔
یہی مثال زندگی کے تمام معاملات پر صادق آتی ہے۔ آپ جب بھی اپنی زندگی کا کوئی منصوبہ بنائیں تو اپنی خواہشوں اور امنگوں کے ساتھ اس حقیقت کو بھی ضرور ملحوظ رکھئے کہ آپ کو اپنے منصوبہ کی تکمیل ایسی دنیا میں کرنی ہے جو آپ کی مرضی کی پابند نہیں۔ آپ کو چاہیے کہ فطرت کے ان خارجی ضابطوں کی رعایت کرتے ہوئے اپنا منصوبہ بنائیں اور اس سے مطابقت کرتے ہوئے اس کو چلائیں۔ یہی واحد حکمت ہے جس کی تعمیل کر کے اس دنیا میں کسی انفرادی یا اجتماعی منصوبہ کو کامیاب کیا جا سکتا ہے۔
دنیا میں کامیابی اسی مطابق فطرت عمل کا دوسرا نام ہے۔ اس کے مقابلے میں ناکامی یہ ہے کہ آدمی فطرت کے نظام سے مطابقت نہ کر سکے۔ کامیابی پچاس فی صد اپنی کوششوں کا نام ہے اور پچاس فی صد فطرت کی موافقت کا نام۔
