آداب مدینہ

قدیم عرب میں تین بڑے شہر تھے ۔ مکہ ، طائف اور یثرب۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے ہجرت کی اور مدینہ کو اپنی قیام گاہ بنایا، اس وقت سے یثرب شہر کا نام مدینۃ النبی (پیغمبر کا شہر)پڑ گیا۔ بعد کو وہ مختصر ہو کر مدینہ کہا جانے لگا۔

مدینہ جاناحج کا ضروری رکن نہیں ہے ۔ مدینہ جائے بغیر حاجی کا حج مکمل ہو جاتا ہے۔ لیکن جو لوگ حج کرنے کے لیے مکہ جاتے ہیں وہ عام طور پر مدینہ بھی ضرور جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام سے اور اسلامی تاریخ سے مدینہ کا اتنا گہرا تعلق ہے کہ مدینہ جانا شرعی طور پر ضروری نہ ہوتے ہوئے بھی عملاً ایک حاجی کے لیے ضروری ہو گیا ہے۔

مکہ سے مدینہ جانا، مسجد نبوی میں نماز پڑھنا اور روضۂ رسول پر درود پڑھنا ، اگرچہ حج کے ارکان و فرائض میں داخل نہیں ، تاہم اس کا بہت ثواب ہے ۔ اور حاجی کو ضرور وہاں بھی حاضری دینا چاہیے ۔ حاجی کو چاہیے کہ طواف وداع کے بعد مکہ سے مدینہ کے لیے روانہ ہو۔

مدینہ کے سفر میں زبان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زیادہ سے زیادہ درود و سلام جاری رہنا چاہیے ۔ حاجی کو چاہیے کہ مدینہ پہنچ کر غسل کرے اور مسجد نبوی میں داخل ہو کر دورکعت نما زپڑھے اور اس کے بعد دعا کرے ۔ نماز کے بعد ادب کے ساتھ مواجہ شریف کی جالیوں کے پاس آئے اور درود و سلام پڑھے۔ مدینہ کے قیام کے زمانہ میں نمازیں زیادہ سے زیادہ مسجد نبوی میں ادا کرنا چاہیے ۔ کیوں کہ اس کا ثواب بہت زیادہ ہے۔

مسجد نبوی میں نماز اور درود سے فارغ ہو کر مدینہ کے اندر اور اطراف کے ان مقامات کی زیارت کرنا چاہیے جن سے اسلام کی تاریخ وابستہ ہے۔ جن کو دیکھ کر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا زمانہ یاد آنے لگتا ہے۔ مثلاً جنت البقیع ، جہاں بہت سے صحابہ کر ام دفن ہیں۔ مسجد قبا ، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آکر پہلی نماز ادا کی۔ جبل احد جہاں اسلام اور غیر اسلام کی دوسری بڑی جنگ پیش آئی ۔ مسجدِ قبلتینجہاں عین حالت نماز میں تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا، وغیرہ۔

مکہ سے مدینہ جاتے ہوئے مغرب کی جانب تقریباً 90میل کے فاصلہ پر وہ مقام آتا ہے جس کو بدر کہتے ہیں ۔ یہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ رمضان 2ھ میں اسی مقام پر اسلام اور غیر اسلام کا پہلا مقابلہ ہوا۔ اسلام کے مخالفین مدینہ پر حملہ کرنے کے ارادے سے بڑھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے نکل کر مقابلہ کیا ۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی تعدادا اور قوت آپ کے دشمنوں کے مقابلہ میں بہت کم تھی۔ مگر آپ کو اپنے دشمنوں پر غیر معمولی فتح حاصل ہوئی۔ بدر کا مقام حاجی کو یہ یاد دلاتا ہے کہ اس کو سب سے زیادہ فکر اس کی کرنی چاہیے کہ وہ حق پر قائم رہے۔ کیوں کہ اگر وہ حق پر قائم رہا تو ضرور اس کو خدا کی مدد حاصل ہوگی۔ اور وہ اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں فتح یاب ہوگا۔

جب مدینہ شہر کے چاروں طرف فصیل تھی، تو اس کے ایک دروازہ کا نام باب عنبریہ تھا۔ ترکی دور میں یہاں ریلوے اسٹیشن تھا۔ اس کے کچھ باقیات اب بھی موجود ہیں۔ مکہ سے آنے والی سٹرک اسی باب عنبریہ سے مدینہ میں داخل ہوتی ہے۔ جب یہ علاقہ شروع ہو تو دعاؤں کی کثرت کر دیناچاہیے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے احترام کی تاکید ان لفظوں میں فرمائی ہے— ابراہیم نے مکہ کو حرم قرار دینے کا اعلان کیا تھا اور میں مدینہ کے حرم ہونے کا اعلان کرتا ہوں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3367؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1361)۔ مدینہ کے دونوں دروں کے بیچ کا پورا رقبہ حرم ہے۔ اس میں خون نہ بہایا جائے۔ کسی پر ہتھیار نہ اٹھایا جائے ۔ درختوں کے پتے نہ جھاڑے جائیں ۔ البتہ چارے کے لیے جھاڑے جاسکتے ہیں۔

مدینہ کی مسجد نبوی کی تعمیر رسول اللّہ ﷺ نے خود اپنے ہاتھوں سے فرائی ۔ اور اپنی زندگی کے آخری دس برسوں میں اسی میں نماز پڑھی۔ اس مسجد کے بارے میں آپ کا ارشاد ہے— میری اس مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں ہزار نمازیں پڑھنے سے زیادہ افضل ہے ، سوا مسجد حرام کے(صحیح البخاری، حدیث نمبر 1190؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1394)۔ ایک اور حدیث کے الفاظ یہ ہیں — میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی ایک ہزار نماز سے افضل ہے ، مسجد حرام کے سوا ۔ اور مسجد حرام کی ایک نماز دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ نماز سے افضل ہے (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 1406)۔

مسجد نبوی کے بہت سے دروازے ہیں۔ بہتر ہے کہ حاجی باب جبریل سے داخل ہو ۔ اگر یہاں بھیڑ ہو تو کسی بھی دروازے سے داخل ہو سکتے ہیں ۔ مدینہ میں یا مسجد نبوی میں کسی کو تکلیف پہنچانا یا کسی سے جھگڑا کرنا بالکل جائز نہیں۔ مسجد کے اندر ایک خاص مقام ہے جس کو روضۂ جنت کہتے ہیں۔ اس مقام کی خاص فضیلت ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبرحوض کو ثر پر ہے (مسند احمد، حدیث نمبر 9214)۔

مسجد نبوی میں داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑ ھے۔ نماز کے بعد اللہ سے دنیا اور آخرت کی رحمتیں مانگے اگر یہ دونوں رکعتیں ریاض الجنۃ میں پڑھے تو اور بہتر ہے تاہم اگر وہاں بھیٹر ہو تو مسجد کے کسی بھی حصے میں نماز پڑھی جاسکتی ہے۔

نماز کے بعد اس مقام پر آئے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر ہے اور آپ کے دونوں خاص ساتھی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی قبریں ہیں۔ یہاں اگر قبروں کی زیارت کرے اور رسول اللہ ﷺ کی قبر کے سامنے ادب کے ساتھ کھڑا ہو جائے اور اس طرح آپ کو سلام کرے — السلام علیک یا رسول اللہ و برکاتہ۔ روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا — جو شخص مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ میری روح مجھ پر لوٹا دیتا ہے ، یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 2041)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجنے کے بعد حضرت ابو بکر اور حضرت عمر پر سلام بھیجے اور ان دونوں کے لیے دعا کرے۔

حاجی کو چاہیے کہ مسجد نبوی میں پانچوں وقت کی نمازیں پڑھے اور اس میں کثرت سے ذکر، دعا اور نفلی نمازوں کا اہتمام کرے اور زیادہ ثواب کمانے کی اس فرصت کو پوری طرح استعمال کر ے۔

مدینہ کی زیارت کرنے والے کے لیے مسجد قبا کی زیارت اور اس میں نماز پڑھنا بھی مستحب ہے۔ جیسا کہ عبد اللہ بن عمر کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم مسجد قبا کی زیارت سواری پر اور پیدل چل کر کرتے تھے اور اس میں دورکعت نماز پڑھتے تھے۔ اسی طرح جنت البقیع اور شہداء کی قبروں اور حضرت حمزہ کی زیارت بھی مسنون ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی زیارت کیا کرتے تھے اور ان کے لیے دعا فرماتے تھے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ— قبروں کی زیارت کرو وہ تمہیں آخرت کی یاد دلاتی ہیں (مسند احمد، حدیث نمبر 23005)۔

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قبروں کی زیارت کا مقصد یہ ہے کہ وہ آخرت کی یاد دلاتی ہیں وہ جانے والوں کے انجام کی صورت میں رہنے والوں کے انجام کو بتاتی ہیں۔

مدینہ سے شمال کی جانب تین میل کے فاصلہ پر احد کا پہاڑ ہے۔ اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ — احد ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم احد سے محبت کرتے ہیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2889)۔ اب مدینہ کی آبادی احد کے قریب تک پہنچ گئی ہے۔ اس پہاڑ کے پاس اب بھی وہ جگہ موجود ہے جہاں 3ھ میں غزوہ احد پیش آیا۔ آپ کے چچا حضرت حمزہ اسی موقع پر شہید ہوئے ۔ یہاں ایک احاطہ میں حضرت حمزہ کی سادہ قبر اب بھی موجود ہے۔ اس کے ساتھ اور بھی کئی اصحاب کی قبریں ہیں۔ مدینہ کے آس پاس یا مدینہ کے اندر کئی مسجدیں ہیں اگر حاجی کو موقع ہو تو ان کی زیارت کرنا چاہیے اور وہ ہاں نماز پڑھنا چاہیے ۔ مثلاً مسجد قبا، مسجد جمعہ، مسجد غمامه، مسجد سقیا، مسجد فتح، مسجد بنی حرام، مسجد ذباب، مسجد قبلتین، مسجد الفضیح، مسجد بنی قریظہ ، مسجد بنی ظفر، مسجد الاجابة ، مسجد سجده ، مسجد ابی ،مسجد ابوبكر ، مسجد عمر، مسجد علی ، مسجد ابراہیم، وغیرہ۔

________________________________________

نوٹ:آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی سے 9 اکتوبر 1983کو نشر کیا گیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion