اُلٹی طرف سفر
امریکا کا انگریزی ہفتہ وار ٹائم (Time)نہایت کثیر الاشاعت میگزین ہے۔ وہ95 ملکوں میں پڑھا جاتا ہے۔ اس میگزین نے اپنی اشاعت 26 جنوری 1987 میں امریکا کے بارےمیں ایک دل چسپ رپورٹ شائع کی ہے۔ یہا ں ہم اس کا خلاصہ درج کرتے ہیں۔ پچھلے 25 سال کے اندر امریکا میں خاتون کا رکنوں کی تعداد .بہت بڑھی ہے۔ امریکا میں اس وقت بچہ پیدا کرنے کی عمر کی خواتین کی 65 فی صد تعداد دفتروں میں کام کرتی ہے۔ ان میں سے 90 فی صد عورتیں وہ ہیں جو کارکردگی کے دوران حاملہ پائی گئی ہیں۔عورتوں کے لیے یہ زبردست مسئلہ ہے۔ کام کا بھاری بوجھ اٹھا نا اور اسی کے ساتھ بیک وقت بچوں کی ماں بننا:
‘‘This has created a tremendous problem for women: the onerous task of holding down a job and having children at the same time.’’
اسی قسم کی ایک امریکی خاتون لیلین گارلینڈ (Lillian Garland)ہے۔ وہ کیلی فورنیا کی ایک کمپنی میں بطور ر سپشنسٹ کام کررہی تھی۔ ملازمت کے دوران وہ حاملہ ہوگئی۔ چنانچہ اس نے 1982 میں عارضی طور پر دفتر سے چھٹی لے لی۔ اس کے یہاں بچی پیدا ہوئی۔ ڈاکٹر نے اس کو مشورہ دیا کہ وہ تین مہینہ تک دفتر نہ جائے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ مگر تین مہینے کے بعد جب وہ دوبارہ دفتر آئی تو اس کو بتایا گیا کہ اب کمپنی میں اس کے لیے جگہ نہیں ہے۔ اس کی جگہ دوسرے کارکن کے ذریعہ پُر کر لی گئی تھی۔
گارلینڈ نے 850 ڈالر ماہانہ کی سروس کھودی۔ وہ ایسے وقت میں بے روز گارہوگئی جب کہ بچی کی پیدائش کے نتیجے میں اس کے اخراجات کافی بڑھ چکے تھے۔ اس نے امریکا کی فیڈرل کورٹ میں اپیل کی کہ کمپنی نے اس کو ملازمت سے برخواست کر کے اس کے ساتھ امتیاز (discrimination)کا برتاؤ کیا ہے۔ مقدمہ چلتا رہا۔ گا رلینڈ کے وکیل اور کمپنی کے وکیل نے ایک دوسرے کے خلاف دلائل پیش کیے۔ یہاں تک کہ پانچ سال بعد جنوری 1987 میں امریکی سپریم کورٹ کے جسٹس تھر گڈ مارشل (Thurgood Marshall) نے فیصلہ دیا کہ خاتوں کار کن اگر حاملہ ہوجائے تو جس ادارہ میں وہ کام کررہی ہے اس کو چاہیے کہ وہ اس کو چار مہینہ کی باضابطہ رخصت دے۔
اس فیصلہ نے امریکا میں زبر دست بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف آزادیِ نسواں کی حامی دوسری طرف امریکا کے سنجیدہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ فیصلہ خواتین کے لیے مضر ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ اس قسم کا تحفظ صرف خواتین کے حق میں امتیاز کو بڑھانے والا ثا بت ہوتاہے۔یہ تدبیر ایسی ہے جوہمیشہ الٹا نتیجہ ظاہر کرتی ہے:
”That almost always backfires. “
لاس اینجلس کی مر چنٹس اینڈمینو فیکچررس ایسوسی ایشن کے صد ر مسڑڈون بٹلر (Don Butler) نے کہاکہ یہ فیصلہ ایک مہلک فیصلہ ہے۔ اگر کمپنیوں کو اس طرح حاملہ خواتین کو چار مہینہ کی باضابطہ رخصت دینی پڑی تووہ دیوالیہ پن (Bankruptcy) کا شکا ر ہوجائیں گی۔ امریکی چیمبر آف کامرس کے اٹارنی لیمپ (Attorney Lamp) نے کہاکہ اس طرح عورت کے خلاف امتیاز اور بڑھ جائے گا۔ اس لیے کہ بہت سی کمپنیاں یہ نہ چاہیں گی کہ وہ بچہ پیداکرنے کی عمر میں عورتوں کو اپنے یہاں ملازم رکھیں:
‘‘Discrimination against women might increase. Many companies just won’t hire women in their childbearing years,’’ says the Chamber’s Attorney Lamp. (p.21).
گارلینڈ کے مذکورہ معاملہ کی حمایت میں ایک مشہور خاتون لیڈر بیٹی فریڈان (Betty Friedan)نے کہا کہ عورت اور مرد کے درمیان برابر ی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورتیں مردوں کے نمونہ پر پوری اُتر یں:
‘‘Equality does not mean that women have to fit the male model.’’
یہ دلیل بھی کیسی عجیب ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب عورتیں اپنی فطری سا خت کے اعتبار سے اتنی مختلف ہیں کہ وہ مردوں کے ’’ماڈل‘‘ کے مطابق نہیں بن سکتیں تو اس عجیب وغریب صنفی بر ابری کی کیا ضرورت ہے کہ عورتون کومردوں کی طرح ہر جگہ کام کے لیے کھڑا کر دیا جائے۔اور پھر جبری قوانین کے ذریعہ اس مصنوعی برابری کو قائم رکھا جائے۔
اسی طرح سلویا این ہیولٹ (Sylvia Ann Hewlett)نے کہا کہ امریکا کی عدالت عالیہ کے اس فیصلہ کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ تر ین قانونی سطح پر اس حقیقت کا اعتراف کر لیا گیا کہ عورتوں کو دفاتر میں برابر ی کا مقا م دلانے کے لیے ایک خاندانی سپورٹر کو وجو د میں لانا ہوگا:
"This decision means that there is recognition at the highest legal levels that, in order to get equal status for women in the workplace, you have to create family supporters." (p.21).
یہ قدیم روایتی نظام کی معقولیت کا با لواسطہ اعتراف ہے۔ جدید تہذیب نے یہ معیار پیش کیا تھا کہ مرد کو عورت کا سپورٹر نہ ہونا چاہیے۔ بلکہ عورت خودکمائے اور خود اپنی سپورٹر بنے۔ مگر جب اس اصول کو عمل میں لایا گیا تومعلوم ہوا کہ عورت سپورٹر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے اس سپورٹر کا نام ’’شوہر‘‘ تھا اور اب اس سپورٹر کا نام ’’کمپنی‘‘ ہے۔
قدیم روایتی ماحول جو مذہب کے زیر اثر بنا تھا۔ اس میں مرد بنیاد ی طور پر باہر کا کام کرتے تھے اور عورتیں بنیادی طور پر گھر کا کام۔ یہ دراصل ایک طرح کی تقسیم کا ر تھی۔مگر جدید تہذیب نے اس کے متعلق کہا کہ یہ ایک صنف اور دوسری صنف کے درمیان امتیاز ہے۔ چنانچہ زور وشور کے ساتھ آزادیِ نسواں کی تحریک چلی۔عورتوں کو گھر وں سے نکال کر دفتروں اور کارخانوں میں ڈال دیا گیا۔
مگر بہت جلد معلوم ہواکہ اس نئے انتظام میں مختلف قسم کی رکاوٹیں حائل ہیں۔ مثال کے طورپر عورت کا معاملہ یہ ہے کہ وہ حاملہ ہوتی ہے۔ وہ بچہ پیداکرتی ہے اور پھر ایک مدت تک وہ با ہر کے کام کے قابل نہیں رہتی۔ اس مشکل کے حل کے لیے قانون بنا یا گیا کہ عورت کو حمل اور رضاعت کے دوران خصوصی چھٹی دی جائے۔ مگر اس قسم کا لفظی کھیل صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جو قانون ساز مجالس میں بیٹھ کر قانون بناتے ہیں۔ اس اصول کا تحمل وہ لوگ نہیں کر سکتے جن کو عملاً ایک کا رخانہ چلانا ہے۔ یا ایک دفتر کا انتظام کرنا ہے۔ چنانچہ اب مالکوں اور خاتون ملازموں کے درمیان لا متنا ہی جھگڑے چھڑگئے ہیں۔
حکومتی ادارہ اب تک اس نزاع میں بظاہر خواتین کا ساتھ دے رہا ہے تاکہ اس کے تہذیبی اصول کی عظمت باقی رہے۔ مگر حقیقت کے خلاف یہ جانب داری قابل عمل نہیں۔ حکومت اگر دفتر وں اور کار خانوں سے کہے کہ وہ خاتون کا رکنوں کو’’چارماہ ‘‘ کی باتنخواہ چھٹی دیں تو کون ادارہ اس تہذیبی تعیش کو بر داشت کرسکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اداروں میں یہ رجحان بڑھے گا کہ جوان عورتوں کو ملازمت میں نہ لیا جائے اور جب عورتیں بوڑھی ہوچکی ہوں گی تو وہ اپنے آپ ملازمتوں میں جانے سے رک جائیں گی۔ اس طرح مغربی سوسائٹی میں وہی چیز شدید تر صورت میں پیدا ہوجائے گی جس کو ختم کرنے کے لیے آزادیِ نسواں کی تحریک چلائی گئی تھی، یعنی صنفی امتیاز۔
