دوسر اگروہ:آئن اسٹائن
دوسرے گروہ کی ایک علامتی شخصیت آئن اسٹائن ہے۔آئنسٹین نے اپنی پوری زندگی سائنس کے مطالعہ میں گزاری۔مگر اسی کے ساتھ وہ اپنے اندرروحانی جذبات بھی پاتا تھا۔ چنانچہ اس نے مذہب کا بھی مطالعہ کیا۔ مذہب کے بارے میں بھی اس کا عقیدہ اتناہی گہرا تھا جتناکہ سائنس کے بارے میں اس کا عقیدہ گہراتھا۔تاہم اس کے نظریہ کے مطابق دونوں دو بالکل الگ الگ موضوعات تھے۔ اس کے الفاظ میں ، سائنس کا موضوع یہ جاننا ہے کہ کیاہے (what is)۔ اس کے مقابلے میں مذہب کا موضوع یہ جانناہے کہ کیا ہونا چاہیے (what should be)۔گویامذہب کا تعلق داخلی یقین سے ہے اورسائنس کاتعلق خارجی معلومات سے۔
تاہم یہ تقسیم کافی نہیں۔اس تقسیم کے باوجود وہ اصل سوال بدستور باقی رہتاہے جس کی بناپر سائنس اورمذہب کامسئلہ پیداہواہے۔ خالص علمی اعتبار سے مذکورہ تقسیم کاکوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ اصل سوال مذہب اورسائنس دونوں کو ملانے کا ہے۔مذہب علم ِالٰہی کانام ہے اور سائنس علم ِانسانی کانام۔یہ ضروری ہے کہ ہم ایسافارمولادریافت کریں جو علم ِالٰہی اور علم ِانسانی دونوں کو ایک کرسکے۔اس کے بغیر انسان کے اندروہ مطلوب شخصیت پیدانہیں ہوسکتی جس کو علم ِنفسیات میں متکامل شخصیت (integrated personality) کہاجاتاہے۔
برٹرینڈرَسل اوراس کے جیسے لوگوں کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے علم کی نوعیت کو نہیں سمجھا۔ اس لیے وہ صحیح رائے تک نہ پہنچ سکے۔ اس طرح آئن اسٹائن اور اس کے جیسے لوگوں کی یہ غلطی ہے کہ انہوں نے مذہب کی نوعیت کو نہیں سمجھا اور اپنی عدم واقفیت کی بناپر مذہب کا ایک خود ساختہ تصور قائم کر لیا جو حقیقت سے مطابقت نہ رکھتا تھا۔ اس گروہ کے لوگوں کی غلطی یہ ہے کہ تمام مروجہ مذاہب کو مذہب کانمائندہ سمجھتے ہیں۔ دنیامیں ایک درجن بڑے مذاہب (major religions) ہیں۔ اس کے علاوہ سیکڑوں کی تعداد میں دوسرے مذاہب موجود ہیں۔ یہ لوگ ان سب کو ملاکر مذہب کا مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ان میں سے ہر مذہب کی تعلیمات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ان میں وہ یکسانیت نہیں پائی جاتی جو سائنس میں موجود ہے۔ اس لیے وہ یہ رائے قائم کرلیتے ہیں کہ مذہب ایک شخصی معاملہ ہے۔ جوشخص جس مذہبی عقیدہ کومانے وہی اس کامذہب ہے، کسی دوسرے شخص کو اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔
اس قسم کا مذہبی تصور خود مذہب کی نفی ہے۔ مذہب کیاہے۔ مذہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ایسی مکمل آئیڈیالوجی کا نام ہے جو انسان اور کائنات کی اطمینان بخش توجیہ کرسکے۔ جس میں انسان اپنے تمام داخلی اور خارجی سوالات کا جواب پالے۔ مذہب آدمی کے لیے یقین کا سرچشمہ ہے۔ جو مذہب کلی صداقت نہ ہو وہ انسان کو یقین کا سرمایہ نہیں دے سکتا۔ اور جو مذہب انسان کو یقین نہ دے وہ مذہب بلاشبہ مذہب بھی نہیں۔
اصل یہ ہے کہ جدید اہلِ علم مذہب کے مطالعہ میں چند غلطیاں کرتے ہیں۔اس بناپر وہ مذہب کو سمجھنے میں بھی ناکام ثابت ہوئے ہیں۔
1۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہر موجود مذہب کو مستند مذہب سمجھ لینا اور اس بنیاد پر مذہب کا مطالعہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے توہماتی عقائد جیوتش (Astrology) اور فلکیات (Astronomy) سب کو یکجاکرکے اورپھر ان کے مجموعی مطالعہ سے ایک علم الافلاک بنانے کی کوشش کی جائے۔اس معاملے میں سائنٹفک مطالعہ کا طریقہ یہ ہے کہ غیر ثابت شدہ خیالات اور اوہام کو الگ کر دیا جائے اور صرف ثابت شدہ معلومات کی بنیاد پر علم افلاک وضع کیا جائے۔
ٹھیک یہی طریقہ ہمیں مذہب کے مطالعہ میں بھی اختیار کرناچاہیے۔بطورِواقعہ یہ درست ہے کہ آج کی دنیامیں مذہب کے نام سے بہت سے اعتقادی نظام پائے جاتے ہیں۔لیکن جب ان کا گہراجائزہ لیاجائے تو معلوم ہوتاہے کہ خالص علمی اعتبارسے تمام مذاہب کی حیثیت یکساں نہیں۔
ان میں ایسے مذاہب ہیں جن کی کوئی معلوم تاریخ نہیں۔ظاہر ہے کہ ایسے تمام مذاہب ابتدائی طورپر ہی ردہوجاتے ہیں۔کیوں کہ جن مذاہب کو تاریخی اعتباریت (historical credibility) حاصل نہ ہووہ سرے سے اس قابل ہی نہیں کہ ان پر غور کیا جائے۔ اسی طرح کتنے مذاہب ہیں جن کے بارے میں یہ ثابت نہیں کہ ان کاموجودہ متن (text) کسی تبدیلی کے بغیر آج موجود ہے ،اورجس مذہب کا خود متن مشتبہ ہواس کی صداقت پر کیسے یقین کیاجاسکتاہے۔
اس قسم کے مختلف علمی معیار (scientific criteria) ہیں جن کا استعمال مذاہب کے مطالعہ میں ضروری ہے۔ مگر جب ان معیاروں کو موجودہ مذاہب پر منطبق کیا جاتا ہے تو یہ مذاہب اس علمی جانچ پر پورے نہیں اترتے۔
مذاہب کے پورے مجموعے میں صرف اسلام ایک ایسامذہب ہے جو استثنائی طور پر اس خصوصیت کا حامل ہے کہ وہ ہر قسم کی علمی جانچ پرپورااترتاہے۔ایسی حالت میں تمام موجود مذاہب کویکساں درجہ دے کر ان کا خلاصہ نکالناایک غیر علمی فعل ہے۔اس معاملے میں واحد درست موقف یہ ہے کہ ضروری علمی جانچ پرپورااترنے والے مذہب کو لے لیاجائے اورجو مذاہب اس قسم کی علمی جانچ پر پورے نہ اتریں انہیں تاریخ کے کتب خانہ میں محفوظ کردیاجائے۔
2۔ اسلام کو مذہب کا مستندایڈیشن (authentic version) ماننے کے بعد وہ تمام غلط فہمیاں اپنے آپ ختم ہوجاتی ہیں جو مختلف مذاہب کو یکساں درجہ دینے کی صورت میں پیداہوتی ہیں۔یہ ایساہی ہے جیسے کائنات کے بارے میں تو ہماتی عقائدکو الگ کرکے خالص سائنسی حقیقتوں کی بنیاد پر کائنات کامطالعہ کرنا۔
3۔ اسلام کو مذہب کا واحد نمائندہ ماننے کی صورت میں ہم کو ایک ایسامستند ماخذ مل جاتا ہے، جس کے ذریعہ مذہبی عقائد کاایک غیر اختلافی نظام بنایاجاسکے۔مثلاً مذاہب میں خدا کے بارے میں مختلف اورمتضاد نظریات پائے جاتے ہیں۔اسی طرح پیغمبری اور رسالت کے بارے میں سخت اختلافی نظریات موجود ہیں۔موت کے بعد زندگی کی نوعیت کیاہوگی ،اس کے بارے میں بھی متضاد نظریات پائے جاتے ہیں۔یہی معاملہ دوسرے تمام مذہبی عقائد وافکار کاہے۔مگر اسلام کو مذہب کے مستند ماخذ کی صورت میں لینے کے بعد ہمیں ایسے غیر اختلافی نظریات وعقائدمل جاتے ہیں جن پر ہم یقین کرسکیں۔یقین وہ سب سے بڑ ی چیز ہے جس کے لیے انسان کو مذہب کی ضرورت ہے۔اورتمام مذاہب کو یکساں ماننے کی صورت میں ،اسی اصل مطلوب چیز سے انسان محروم ہوجاتاہے۔
4۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ مذہب اوردنیوی معاملات کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہو۔ یہ ایک بے حد اہم سوال ہے جس کاجواب مختلف مذاہب میں مختلف انداز سے دیا گیا ہے۔ مثال کے طورپر عیسائیت میں دنیوی معاملات کو مذہب کالازمی جزء قرار دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ لوگوں کو ناقابلِ عمل نظر آنے لگا۔یہاں تک کہ چرچ اور ریاست میں وہ جنگ شروع ہوئی جس کے نتیجے میں دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوگئے۔ اس معاملے میں اسلام نے نہایت اہم ہدایات دی ہیں۔ ان میں سے کچھ کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔
الف۔ اسلام میں ایک اہم تعلیم وہ ہے جو حدیث میں ان الفاظ میں دی گئی ہے:أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2363)۔ یعنی تم لوگ اپنی دنیاکے معاملے میں زیادہ جانتے ہو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ خالص دنیوی نوعیت کے معاملات،مثلاً زراعت،باغبانی،شہری منصوبہ بندی،اقتصادی تنظیم جیسی چیزوں کو علمی ریسرچ کی بنیاد پر طے کیاجائے گا۔یعنی علمی ریسرچ میں جوچیز انسانیت کے لیے مفید ثابت ہوگی وہی مذہب کے نزدیک بھی درست مانی جائے گی۔
ب۔ اسی طرح مذہب اورسیاسی حکمرانی کے معاملے میں قرآن میں یہ بتایاگیاہے کہ سیاسی اقتدار اللہ کاہے۔وہی جس کو چاہتاہے سیاسی اقتدار دیتا ہے (3:26)۔ مزید یہ کہ سیاسی اقتدار امتحان کاایک پرچہ ہے جس طرح مال اور اولاد وغیرہ امتحان کے پرچے ہیں(10:14)۔ اس کامطلب یہ ہے کہ سیاسی حکمرانی کے حصول کے لیے لڑائی کرنااسلام کی تعلیم نہیں۔اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ فطری تاریخی حالات جس کے حق میں سیاسی اقتدار کا فیصلہ کریں، دوسرے لوگ اس کو قبول کرکے اس کو اپنے امتحان کا موقع دیں ،نہ کہ لڑائی کرکے اس سے سیاسی امتحان کے خداداد پرچے کو چھیننے کی کوشش کریں۔
