بلند کرداری
ہندوستان میں مسلمان بادشاہ بھی آئے اور مسلمان صوفی بھی۔ مگر ہندستان کی غیر مسلم قوموں نے بادشاہوں کو اپنا رقیب سمجھا اور صوفیوں کو احترام کی نظر سے دیکھا۔ انہوں نے بادشاہوں سے لڑائیاں کیں مگر صوفیوں کے آگے وہ عقیدت سے جھک گئے۔ حتٰی کہ ان میں سے لاکھوں لوگوں نے ان کے مذہب(اسلام) کو قبول کرلیا۔ آج بھی ہندستان کے لوگ مسلم صوفیوں کا نام عزت سے لیتے ہیں۔ ان کے مزاروں اور درگاہوں پر حاضری دینے والوں میں ان کی تعداد مسلمانوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ جب کہ مسلمان بادشاہوں کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیں۔
اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ مسلم بادشاہ ان کو اپنی سطح پر نظر آتے تھے، اور مسلم صوفی اپنے سے اونچی سطح پر۔ لوگوں نے دیکھا کہ جس طرح وہ دولت کے حریص ہیں، اسی طرح مسلم بادشاہ بھی دولت کے حریص ہیں لوگ اقتدار کے لیے لڑتے ہیں، اور مسلم بادشاہ بھی اقتدار کے لیے لڑتے ہیں۔ لوگ اپنی خواہش کے پیچھے چلتے ہیں، اور مسلم بادشاہ بھی اپنی خواہش کے پیچھے چلتے ہیں۔ لوگ دوسروں کو لوٹتے ہیں اور مسلم بادشاہ بھی دوسروں کو لوٹتے ہیں۔ مسلم بادشاہ لوگوں کو اسی عام سطح پر نظر آئے جہاں وہ خود تھے۔ ایسی حالت میں مسلم بادشاہوں کے لیے ان کے دل میں کوئی اعلیٰ جذبہ ابھرتا تو کیسے ابھرتا۔
مگر مسلم صوفیوں کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ انہیں دولت کی تمنا نہ تھی وہ اپنی فقیری میں مگن تھے۔ اقتدار کو چاہنا تو درکنار وہ اقتدار سے دور بھاگنے والے لوگ تھے۔ انہوں نے اپنی خواہش کو معبود نہیں بنایا تھا بلکہ ان کا حال یہ تھا کہ وہ سخت قسم کی نفسیاتی ورزشیں کرتے تھے، تاکہ اپنی خواہش کے شیطان کو زیر کر سکیں، وہ دوسروں سے صرف محبت کرنا جانتے تھے۔ ان کے یہاں نفرت کا کوئی گزر نہ تھا۔
ان صوفیوں کا یہ حال تھا کہ اپنے دشمنو ن اور مخالفوں کے لیے بھی ان کے پاس جو چیز تھی، وہ دعا اور خیر خواہی تھی ، نہ کہ نفرت اور انتقام۔ ایک صوفی کو ایک شخص نے ایک بار پتھر مارا۔ صوفی کو چوٹ لگی مگر وہ غصہ نہیں ہوا بلکہ آگے بڑھ کر اس آدمی کو سینے سے لگا لیا۔ مارنے والے نے پوچھا کہ آپ نے مجھ کو سینے سے کیوں لگایا جب کہ میں نے آپ کو مارا تھا۔ صوفی نے جواب دیا کہ تمہارے اندر ایک برائی ہے اس لیے تم سب سے زیادہ اس کے مستحق ہو کہ تم کو سینے سے لگایا جائے۔ اس واقعہ کے بعد اس شخص نے توبہ کر لی اور صوفی کا مرید ہوگیا۔
