ایک سبق آموز واقعہ
ایک دیوبندی عالم سے ملاقات ہوئی۔ دوران گفتگو انہوں نے بتایا کہ ایک بار ہمارے مدرسہ میں امتحان کے پرچہ میں ایک سوال یہ تھا کہ اخلاق اور معاشرت سے متعلق دو حدیث لکھیے۔ مگر بہت کم طلبہ اس کے جواب میں دو حدیث لکھ سکے۔ حالانکہ انہیں طلبہ کا حال یہ تھا کہ رفع یدین اور اس قسم کے دوسرے اختلافی مسائل پر سوال ہو تو وہ اس کے جواب میں گھنٹوں تقریر کرسکتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ان طلبہ کو جب حدیث کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں تو استاد اخلاق اور معاشرت جیسی حدیثوں کی صرف لفظی قرأت کرکے گزرجاتا ہے مگر جب رفع یدین اور آمین بالجہر جیسے اختلافی مسائل آتے ہیں تو وہ ان پر کئی کئی دن تک تقریر کرتا ہے اور ان پراپنی معلومات کا دریا بہاتا ہے۔ یہ طریقۂ درس ظاہر ہے کہ اسی قسم کے علماپیدا کرے گا جس کا ذکر مذکورہ دیوبندی عالم نے کیا۔(ڈائری،14فروری1998)
