فطرت پر
وَقَعَتْ دِمَاءٌ بَيْنَ حَيَّيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ، فَأَقْبَلَ أَبُو سُفْيَانَ؛ فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ وَاضِعٌ رَأْيَهُ إِلَّا رَفَعَهُ. فَقَالَ:يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، هَلْ لَكُمْ فِي الْحَقِّ أَوْ فِيمَا هُوَ أَفْضَلُ مِنَ الْحَقِّ؟ قَالُوا:وَهَلْ شَيْءٌ أَفْضَلُ مِنَ الْحَقِّ؟ قَالَ:نَعَمْ، الْعَفْوُ۔ فَتَهَادَنَ الْقَوْمُ وَاصْطَلَحُوا (العقد الفريد، جلد2، صفحہ 61)۔ یعنی، قبیلہ قریش کے دو خاندانوں میں خون بہانے کا واقعہ ہوا۔ ابوسفیان نے ان کے بڑوں کوجمع کیااورکہا کہ اے قریش کے لوگو، تم خون کا بدلہ لینا چاہتے ہو یا وہ جو اس سے بہتر ہے۔ لوگوں نے کہا، کیا کوئی چیز ہے جو اس سے بھی بہتر ہو۔ ابوسفیان نے کہا ہاں۔ اس سے بہتر چیز معافی ہے۔ پس لوگ اٹھے اور آپس میں صلح کر لی۔
یہ واقعہ اس انسان کے مزاج کو بتاتا ہے جو اپنی فطرت پر قائم ہو۔ قدیم عرب کے لوگ اسی فطری حالت پر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اکثریت نے بھرپور طور پراسلام کو قبول کر لیا، اور جب ایک بار اسلام کو قبول کر لیا تو پھر اس سے انحراف کرنا ان کے لیے ممکن نہ رہا۔
جو آدمی اپنی فطرت پر قائم ہو وہ ایک ایسا انسان ہوتا ہے کہ اس کے سامنے جب کوئی سیدھی اور صحیح بات آتی ہے تو وہ فوراً اس کومان لیتا ہے۔ وہ ان نفسیاتی پیچیدگیوں سے خالی ہوتی ہے جو لوگوں کے لیے سچائی کو ماننے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔
فطرت پر قائم رہنے والا آدمی ضد، انتقام، انانیت، بے اعتراضی جیسے جذبات سے خالی ہوتا ہے۔ وہ ایک وسیع القلب اور وسیع الظرف انسان ہوتا ہے۔ وہ دُہرے انداز سے سوچنا نہیں جانتا۔ وہ نفرت اور بدگمانی کے تحت فیصلہ نہیں کرتا بلکہ جو فیصلہ کرتا ہے خالی الذہن ہو کر کرتا ہے۔ وہ اس بیماری سے خالی ہوتا ہے کہ کسی چیزکو اپنے لیے وقار کا مسئلہ بنا لے اور پھر کسی حال میں اس سے ہٹنے کے لیے تیار نہ ہو۔ ایسے انسان کے شرسے بچنے کی واحد تدبیر اعراض ہے۔ یعنی اپنے آپ کو اس کی زد میں آنے سے بچانا۔
فطرت پر قائم رہنا خدا کے نقشہ پرقائم رہنا ہے۔ اور جو آدمی فطرت پر قائم ہو اس کو کمالِ انسانیت کی منزل تک پہنچنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔
