غزوۂ حنین، اوطاس اور طائف
یوم شنبہ6شوال8ھ
حُنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ ہے۔ جہاں ہوازن و ثقیف آباد تھے۔ یہاں کے لوگ نہایت جنگ جو اور تیر انداز تھے۔ فتح مکہ کے بعد انہیں اپنے بارے میں خوف پیدا ہوا۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کرکے یہ طے کیا کہ قبل اس کے کہ مسلمان ان پر حملہ کریں، ہمیں خود ان پر حملہ کر دینا چاہیے۔ چنانچہ ان کا سردار مالک بن عوف نضری بیس ہزار کا لشکر لے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے چلا۔
آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کی اطلاع پہنچی تو آپ نے تحقیق حال کے لیے عبداللہ بن ابی حدر اسلمی کو روانہ فرمایا۔ انہوں نے آپ کو ان کی جنگی تیاریوں کی اطلاع دی۔ آپ نے بھی مقابلہ کا سامان شروع کیا۔
8 شوال8ھ کو بارہ ہزار آدمیوں کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوئے اور حنین کا قصد کیا۔ بارہ ہزار کا یہ لشکر جب حنین کی طرف بڑھ رہا تھا تو کسی صحابی کی زبان سے کثرت تعداد کے پیش نظر پُر فخر جملہ نکل گیا:لَنْ نُغْلَبَ الْيَوْمَ مِنْ قِلَّةٍ(تعداد کی قلت کی وجہ سے ہم آج ہر گز مغلوب نہ ہوں گے)سیرۃ ابن ہشام، جلد2، صفحہ 444۔ اس جملہ میں فخر و ناز کا جذبہ شامل تھا جو اللہ کو ناپسند ہے۔ چنانچہ تیسرے دن جب لشکر اسلام وادی حنین میں پہنچا تو دشمنوں نے بیس ہزار تلواروں سے ایک دم حملہ کر دیا۔ جس سے مسلمانوں میں حواس باختگی اور سراسیمگی پھیل گئی۔ صرف بارہ جاں نثار آپ کے پہلو میں رہ گئے۔
جو لوگ مکہ سے آئے تھے وہ اچانک ہزیمت سے آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ ابو سفیان نے کہا کہ اب یہ ہزیمت دریا سے پہلے نہیں تھمتی۔ اور کلدہ بن حنبل نے خوشی سے چلا کر کہاالابطل السحر الیوم(آج سحر کا خاتمہ ہوا)۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے اور بلند آواز سے کہہ رہے تھے:
أنَا النّبى لا كَذِبْ … أنَا ابنُ عَبْد المُطّلبْ
یعنی میں نبی ہوں اور اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔ اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔
حضرت عباس نے آپ کے حکم سے مہاجرین و انصار کو آواز لگائی۔
يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، يَا أَصْحَابَ السَّمُرَةِ (الطبقات الکبریٰ، جلد2، صفحہ 115)۔ یعنی، اے گروہ انصار!، اے کیکر کےدرخت کے نیچے بیعت کرنے والو!
اس آواز کو سن کر تمام لوگ پھر آپ کے گرد جمع ہوگئے۔ آپ نے دوبارہ حملہ کا حکم دیا۔ چنانچہ لشکر اسلام نے دوبارہ پوری ہمت و قوت کے ساتھ ان پر حملہ کر دیا۔ جس کے نتیجہ میں دشمنوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ کچھ لوگوں نے بھاگ کر مقام اوطاس میں اور کچھ نے مقام نخلہ میں پناہ لی۔
اس طرح مسلمانوں کو فتح ہوئی اوروہ لوگ مغلوب ہوگئے۔ قبیلۂ ہوازن کے قیدیوں کی تعداد تقریباً6 ہزار تھی۔ رسول اللہ نے ان کو چھوڑ دیا۔ بعد کو وہ لوگ ایمان لے لائے۔
