ایک شخص دو مثال

1857ء میں انگریزوں کے خلاف جو بغاوت ہوئی ، اس کا ایک معرکہ وہ ہے جو شاملی کے میدان میں لڑا گیا۔ یہاں ایک طرف انگریزی فوج تھی اور دوسری طرف علماء کی جماعت۔ علماء کی اس جماعت کے سربراہ مولانا محمد قاسم نانوتوی (1879-1823) تھے۔ دونوں فریقوں کے درمیان یہ جنگ 1857میں ہوئی۔ اس جنگ میں انگریزوں کو مکمل کامیابی اور مولانا قاسم نانوتوی کی جماعت کو مکمل ناکامی ہوئی۔ اس مقابلے میں علماء کی ایک تعداد انگریزی فوج کی گولیوں کا نشانہ بنی اور ایک تعداد بھاگ کر منتشر ہو گئی۔

اب تاریخ کا دوسرا منظر دیکھیے  ۔ مذکورہ جنگ کے 20 سال بعد 1876 میں شاہجہاں پور میں ایک مناظرہ ہوا۔ اس کا نام ’’میلہ خدا شناسی‘‘ تھا۔ یہ دراصل ایک مذہبی مناظرہ تھا جس میں ہندو، مسلمان اور عیسائی تینوں مذہبوں کے علماء شریک ہوئے۔ کہا جاتا کہ یہ مناظرہ انگریزوں کی سازش کے تحت کرایا گیا تھا۔

ہندو اور عیسائی مذہب کے نمائندوں نے اپنے مذہب کی برتری ثابت کرنے کے لیے پرجوش تقریریں کیں۔ اسلام کے بارے میں بھی کئی علماء نے تقریریں کیں۔ مثلاً مولانا محمود حسن دیوبندی ، مولانا رحیم اللہ بجنوری اور مولانا فخر الحسن وغیرہ۔ آخر میں مولانا محمد قاسم نانوتوی کھڑے ہوئے۔ ان کی تقریرکا موضوع اثبات توحید اور ابطال شرک تھا۔ مولانا نانوتوی کی تقریر اتنی شاندار تھی کہ موافق و مخالف دونوں ہی اس سے مسحور ہو گئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے سننے والوں پر جادو کر دیا ہو۔ مذہب اسلام کی صداقت اس طرح آشکارا ہوئی کہ لوگوں کے سامنے سے پردہ ہٹ گیا۔ مجمع دم بخود تھا اور سننے والے ایسا محسوس کر رہے تھے کہ بیان کرنے والا کوئی عام انسان نہیں بلکہ آسمان سے اترنے والا فرشتہ ہے جو ایسی مؤثر تقریر کر رہا ہے۔ حتیٰ کہ خود انگریز پادری اسکاٹ نے اس کو سن کر کہا کہ اگر تقریروں پر ایمان لایا جاتا تو یہ تقریر ایسی تھی کہ اس پر ایمان لایا جائے۔ (سوانح قاسمی، جلد2، صفحہ441)

ان دونوں واقعات کا فرق نہایت سبق آموز ہے۔ وہی مولانا قاسم نانوتوی ہیں۔وہ  1857 میں  انگریزوں مقابلہ کرتے ہیں۔ اس میں انھیں مکمل شکست ہوتی ہے۔پھر 1876 میں وہی مولانا قاسم نانوتوی عیسائی مشنریوں سے مقابلہ کرتے ہیں تو انہیں اس میں مکمل فتح حاصل ہوتی ہے۔ ایک ہی شخص ہے ، اور اس کاانجام دو میدانوں میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے ، ایک جگہ کامل شکست ، اور دوسری جگہ کامل فتح۔

اس فرق کا راز یہ ہے کہ 1857 میں مولانا نانوتوی کا مقابلہ ’’حربی انگریزوں‘‘ سے ہوا تھا۔ اور 1876 میں ان کا مقابلہ ’’مبلغ انگریزوں‘‘ سے ہوا۔ حربی انگریزوں سے لڑنے کے لیے ہتھیار درکار تھا جو ان کے پاس ضروری مقدار میں موجود نہ تھے۔ اس کے برعکس، مبلغ انگریزوں سے مقابلہ کرنے کے لیے اسلام کا نظریہ کافی تھا جو ان کے پاس مکمل طور پر موجود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا نانوتوی 1857 میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ اور 1876 میں مکمل طور پر کامیاب۔

یہ واقعہ سو سال سے بھی زیادہ پہلے پیش آچکا ہے۔ مگر مسلم رہنماؤ ں نے اس سے کوئی سبق نہیں لیا۔ وہ بدستور ساری دنیا میں ’’حربی انگریزوں‘‘ سے ناکام لڑائی لڑنے میں مشغول ہیں۔ وہ ’’مبلغ انگریزوں‘‘ سے مقابلے کے لیے نہیں اُٹھتے۔ جس میدان میں ان کے لیے    شکست مقدر ہے ، وہاں وہ مسلسل لڑ رہے ہیں۔ اور جس میدان میں ان کے لیے ابدی طور پر فتح لکھی ہوئی ہے ، اس کو انہوں نے چھوڑ رکھا ہے۔ نادانی کی یہ قسم اتنی عجیب ہے کہ اس کی کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی ، خواہ ڈکشنری کے تمام الفاظ اس کی توجیہ کے لیے یکجا کر دیے گئے ہوں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion