ہار میں جیت

لاوزے قدیم چین کا ایک مشہور فلسفی ہے۔ اس کا زمانہ چھٹی صدی قبل مسیح ہے۔ اس کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے سچائی کا راستہ اس کتاب میں اس نے زندگی کے بڑے گہرے راز بتائے ہیں، لاوزے کا ایک قول یہ ہے:

جس کو ہارنا آجائے اس کو کوئی ہرا نہیں سکتا

بظا ہر یہ بات عجیب سی لگتی ہے کیونکہ عام لوگ تو جیت اس کو سمجھتے ہیں کہ آدمی بھی اپنی ہار نہ مانے یہاں تک کہ مقابلہ میں اگر وہ ہار جائے تب بھی یہی کہتا رہے کہ لوگوں نے دھاندلی کر دی۔ ورنہ جیت لاز ما میری ہوئی ہوتی۔ مگر لاوزے نے جو بات کہی ہے وہ زندگی کا بڑا گہرا راز ہے اور کامیابی کا سب سے زیادہ یقینی راستہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص ہار کو مان لینے کا حوصلہ پیدا کرلے وہ اپنی جیت کو یقینی بنالیتا ہے۔ ایک شخص جب ہارتا ہے تو وہ در اصل اپنی کمزوری کی قیمت ادا کرتا ہے ، خواہ وہ کمزوری طاقت کے اعتبار سے ہو یا تدبیر کے اعتبار سے ۔ ایک ظالم اگر اپنے ظالمانہ منصوبہ میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہوتی ہے کہ وہ کسی پہلو سے اپنے حریف کے مقابلہ میں زیادہ بہتر پوزیشن میں تھا۔ جب ایسا ہے تو بہترین عقلمندی یہ ہے کہ آدمی اپنی ہار کوتسلیم کرے اور اس کے بعد اپنی تمام توجہ اپنی کمی کی تلافی میں لگا دے ۔ ہار مان کر وہ زیادہ بہتر طور پر اس مقصد کو حاصل کر سکتا ہے، جو ہار کا انکار کر کے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔

ایک شخص نے زمین خریدی اور اپنا نیا مکان بنانا شروع کیا۔ جب نیو کی کھدائی شروع ہوئی تو پڑوس کے آدمی نے ایک دیوار پر جھگڑا شروع کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ تمھاری نیو ایک فٹ آگے ہے۔ اس کو ایک فٹ پیچھے کرو، ورنہ ہم نہ نیو کھودنے دیں گے اور نہ گھر بنانے دیں گے ۔ گھر والے نے سمجھانے کی کوشش کی ۔ مگر وہ نہ مانا اور تیز ہوتا چلاگیا۔ آدمی نے دیکھا کہ اس کا پڑوسی لڑائی پر تلا ہوا ہے۔ وہ کسی حال میں جھکنے پر راضی نہیں ہے۔ اب اس نے سوچا کہ اگر میں اصرار کرتا ہوں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لاٹھی ڈنڈے تک نوبت آئے گی ۔ سر پھوٹیں گے۔ مقدمہ بازی ہوگی۔ بے کار مدوں میں روپیہ خرچ ہوگا ۔ اور ہو سکتا ہے کہ اس لڑائی جھگڑے میں گھر بننے کا کام بھی نامعلوم مدت تک رک جائے اور اسی کے ساتھ میرا جو کاروبار ہے وہ بھی خراب ہو۔ اس نے ٹھنڈے دل سے سوچنے کے بعد لاوزے کا طریقہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے ہار مان لی ۔ اس نے اپنے مزدوروں کو حکم دیا کہ ایک فٹ پیچھے ہٹ کر نیو کھو دو۔ اس نے ایک فٹ چھوڑ کر بقیہ زمین پر اپنا گھر بنایا اور اس کے بعد اپنے کاروبار میں لگ گیا۔

یہ طریق کار اس کے لیے بہت کار آمد ثابت ہوا ۔ کچھ دنوں بعد اس نے اتنا کما لیا کہ اپنے مکان کے اوپر ایک اور منزل بنائی ۔ دو منزلہ ہو کر اس کا مکان کافی کشادہ ہو گیا۔ اس کے اس تعمیری طریقہ کا اثر اس کے بچوں پر پڑا۔ ان میں لڑائی جھگڑے کا ذہن ختم ہو گیا۔ سب تعمیری انداز میں سوچنے لگے۔ سب بچے خاموشی کے ساتھ کام کرنے کے راستہ پر لگ گئے۔ کچھ دنوں بعد باپ بیٹوں نے مل کر اتنا کافی پیسہ کما لیا کہ انھوں نے اپنے مکان سے ملا ہوا ایک پرانا بڑا مکان خرید لیا۔ اس کو گرا کر دوبارے تعمیرات کرائیں اور کافی بڑا مکان اپنے لیے بنالیا— آدمی نے ایک فٹ زمین ہاری تھی ، اس کو ہزاروں فٹ زمین اس کے بدلہ میں حاصل ہوگئی ۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion