مصنوعی اولاد کا مسئلہ
آزادیِ نسواں کی تحریک کا مقصدیہ تھا کہ عورت اور مرد دونو ں ہر اعتبار سے بالکل برابر کا درجہ حاصل کر لیں۔ مگر عملاً ایسا نہ ہوسکا۔ آزادیِ نسواں کی تحریک اپنے اصل مقصد کو پانے میں پوری طرح ناکام ہے۔ ایک امریکی خاتون ٹی گریس اٹکنسن (Ti-Grace Atkinson)نے کہا کہ یہا ں تحریک کا کوئی وجود نہیں۔ تحریک کا مطلب کہیں جانا ہے، اورآزادیِ نسواں کی تحریک کہیں بھی نہیں جارہی ہے۔ اس نے اب تک کچھ حاصل نہیں کیا:
‘‘There is no movement. Movement means going some place, and the movement is not going anywhere. It hasn’t accomplished anything.’’
(Time, March 20, 1972, p.30).
اس تجربہ کی بنا پر مغربی ملکوں میں کچھ ایسی پر جوش خواتین پیدا ہوگئی ہیں جن کا مطالبہ ہے کہ مردوں پر انحصار کو کامل طور پر ختم کر دیا جائے۔ حتیٰ کہ ان سے جنسی تعلق بھی نہ رکھا جائے جل جانسٹن کا کہنا ہے کہ آزادیِ نسواں دراصل اس کا نا م ہے کہ عورتیں ہم جنسی کا طریقہ اختیار کرلیں۔ یہ اِسی وقت ممکن ہے جب کہ عورتیں اپنی جنسی ضرورت کے لیے مردوں پر انحصار نہ کریںاس طرح وہ مردانہ کنٹرول سے آزاد ہوسکتی ہیں:
Due to this experience, feminist extremists in western countries demand a complete withdrawal from dependence on men, including sexual ties. Village Voice columnist Jill Johnston, for example, insists that ''feminism is lesbianism'' and that it is only when women do not rely upon men to fulfill their sexual needs that they are finally free of masculine control.’’
(Time, August 10, 1987, p. 25)
دو عورتوں کا شوہر اور بیوی کی طرح رہنا سادہ سی بات نہیں۔اس میں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ جو ڑے اگر اپنا بچہ چاہتے ہوں تو وہ اپنے لیے ایک بچہ کیسے حاصل کریں۔ اس کا ذریعہ جدید میڈیکل سا ئنس نے مصنوعی تخم ریزی (artificial insemination) کی صورت میں فراہم کر دیا ہے۔
ہالینڈ کی دو عورتیں پولا ڈیجز (39) اور جی نین ہا کسمن (38) میا ں بیوی کے طورپر رہتی ہیں۔ان کو اولاد کی خواہش ہوئی تو انھوں نے لیڈن کے انسٹی ٹیوٹ آف بر تھ کنٹرول سے رابطہ قائم کیا۔پہلی کوشش ناکام رہی۔ دوسری کوشش میں پولاڈیجز (Paula Deijs) حاملہ ہوگئی۔ ایک نا معلوم شخص کے مادہ کے ذریعہ ان کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نا م ٹامس رکھا گیا۔ مگر ٹامس کی پیدائش کے بعد انھیںمحسوس ہوا کہ دوبارہ انھیں اسی مرد کی ضرورت ہے جس سے توحش کی بنا پر انھوں نے ہم جنسی کا طریقہ اختیار کیا تھا۔
دونو ں عورتیں اس حقیقت کے بارے میں بہت حساس ہیں کہ ان کے لڑکے ٹامس کو مرد درکار ہیں جو اس کے لیے کرداری نمونہ بن سکیں۔ اب دوبارہ وہ اس مقصد کو مصنوعی طور پر حاصل کررہی ہیں۔چنا نچہ ان خواتین کے چچا، ان کے دادا ، ان کے بھائی اور مرد پڑوسیوںسے درخواستیں کی جارہی ہیں کہ وہ باربار ان کے گھر آئیں۔ جی نین ہا کسمن (Jeanine Haaksman) نے کہا کہ ہم نے اپنے ایک مرد دوست کو چنا ہے جو ٹامس کے لیے باپ کا کام کرے۔ہم ٹا مس کو اس کے یہاں تما م فنی ہدایات کے لیے بھیجتے رہیں گے:
The women are sensitive to the fact that Thomas needs men as role models. Uncles, a grandfather, brothers- in-law and male neighbours are encouraged to visit frequently. ‘‘We have a good friend not too far from here whom we have chosen to be a father image for Thomas,” says Haaksman. ‘‘We’ll send Thomas over to him for all the technical instructions.’’
ٹامس کو ایک ’’باپ ‘‘ فراہم کرنے کا مذکورہ بالامصنوعی طریقہ کسی طرح اصل باپ کا بدل نہیں۔یہ یقینی ہے کہ ان دونوںباپ اور بیٹے کے درمیا ن ایک قسم کی اجنبیت حائل رہے گی۔ اور ٹامس جب بڑا ہوگا تو یہ موہوم اجنبیت شعوری اجنبیت بن جائے گی۔ ٹامس اپنی ماں کوجانتا ہوگا مگر وہ اپنے باپ سے سراسر ناواقف ہوگا۔ ٹامس کی زندگی کا یہ خلااس کے اندر طرح طرح کی ذہنی پیچیدگیاں پیدا کرے گا۔ اس کی یہ ذہنی حالت آخرکار اس کو نا ممکن بنا دے گی کہ وہ سماج کا ایک مفید حصہ بن سکے۔
گویا عورت اور عورت کے درمیان ہم جنسی کے نظام (Lesbianism) میں لڑکی پیدا کرنے کی گنجائش توہے، مگر لڑکا پیداکرنے کی نہیں۔ اگرچہ لڑکی پیداکرنے کے لیے بھی دوبارہ اسی مرد پر انحصار کرنا پڑے گاجس پر انحصار کو ختم کر نے کے لیے یہ نظام اختیار کیا گیا تھا۔
فطرت کے نظام سے انحراف کرنا آسان ہے، مگر اس کے بعد اس انحراف کی جو قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اس کو اداکرنا کسی انسان یا کسی انسانی سماج کے لیے ممکن نہیں۔
