جنت المُعَلّی

مکہ جس زمین پر آباد ہے وہ ایک طرف نیچی اور دوسری طرف اونچی ہے۔ نچلے علاقہ کو مِسفَلہ اور اونچے علاقہ کو مَعلیٰ کہتے ہیں ۔ اونچائی والے علاقہ میں ایک قدیم قبرستان ہے۔ اس کا نام جنت المعلیٰ ہے ۔ یہ مکہ سے منی کے رخ پر واقع ہے ۔ اس قبرستان میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی قبر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادہ ابراہیم اور آپ کی والدہ آمنہ بنت وہب کی قبر ہے ۔ آپ کے چچا ابو طالب اور آپ کے دادا عبد المطلب کی قبریں بھی یہیں ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر جیسا صحابی اور ابو جعفر منصور جیسا حکمراں بھی یہیں مدفون ہیں ۔ اسی طرح اور بھی بہت سےلوگوں کے مزارات ہیں جو ان شخصیتوں کی یاد دلاتے ہیں جو کبھی ہماری طرح زمین پر چلتے پھرتے تھے ۔

زندہ آدمی کی علامت گھر ہوتے ہیں اور مردہ آدمی کی علامت قبرستان - قبرستان ہم کو یاد دلاتے ہیں کہ یہاں کچھ زندہ آدمی تھے جو اپنی عمر کی مدت پوری کر کے زندگی کے اگلے مرحلہ میں داخل ہو گئے۔ پھر وہ قبرستان جس کے باسیوں کا حال نام بنام معلوم ہو، اس کی اہمیت اور زیادہ ہو جاتی ہے۔ ایسے قبرستان تاریخ کا جزء ہوتے ہیں ۔ وہ تاریخ کے زندہ صفحات ہوتے ہیں جن میں اگلی نسلیں اپنی پچھلی نسلوں کے احوال پڑھتی ہیں اور زندگی کے تسلسل کو یاد کر کے اپنے حال کو اپنے ماضی سے مربوط کرتی ہیں۔ قبرستان گویا ایک بیتاہوا تجربہ ہے جو آج کے لوگوں کو کل کے لوگوں کی کامیابیوں اور ناکامیوں کی داستان سناتا ہے۔ کوئی حاجی یا مکہ کی زیارت کرنے والا جب جنت المعلیٰ کے سامنے پہنچتا ہے تو یہ مقام اس کو یاد دلاتا ہے کہ زندگی کے جس راستہ پر وہ چل رہا ہے یہ وہی معلوم اور متعین راستہ ہے جس پر اس سے پہلے بہت سے لوگ چلے تھے۔ یہ ایک ایسے قافلہ کے گزرنے کے نشانات ہیں جو تاریخ میں اپنی واقعیت ثبت کر چکا ہے نہ کہ ایسا قافلہ جس کے نشانات ماضی کے دھندلے افسانوں میں گم ہو چکے ہوں ۔

عرب میں قبوں اور پختہ تعمیرات والے قبرستان نہیں ہوتے ۔ وہاں کی قبریں گویا ہموار میدان میں کچھ ابھرے ہوئے نشانات ہوتے ہیں، تقریباً ویسے ہی جیسے ہمارے یہاں کے کسی عام اور غیر پختہ قبرستان میں دکھائی دیتے ہیں۔ جنت المعلیٰ عرب کا ایسا ہی ایک قبرستان ہے ۔ جنت المعلیٰ ایک ایسا قبرستان ہے جو انسانی اضافوں سے پاک ہے۔ یہاں فطرت کا سادہ ماحول ہے نہ کہ انسان کا بنایا ہوا مصنوعی ماحول ۔

ایک شخص جب جنت المعلیٰ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اس کا ذہن تاریخ کے ان معلوم انسانوں کی طرف چلا جاتا ہے جو ہم سے پہلے عرب کی خاک میں پیدا ہوئے اور چلتے اور بولتے ہوئے بالآخر یہاں کی مٹی میں خاموش ہو کر لیٹ گئے۔

1۔  جنت المعلیٰ میں خاموش ہو جانے والی روحوں میں سے ایک عبد المطلب (497-579ء) ہیں۔ عبد المطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا تھے۔ انھیں نے آپ کا نام ’’محمد‘‘  تجویز کیا جو اس وقت عرب میں ایک نیا نام تھا۔ وہ آٹھ سال کی عمر تک آپ کے کفیل رہے ۔ وہ بنو ہاشم کے سردار تھے اور نہایت شاندار شخصیت کے مالک تھے۔

عبد المطلب کے زمانہ میں یہ واقعہ ہوا کہ ابر ہہ (شاہ حبش کی طرف سے صنعا کا حاکم ) ہاتھیوں کی فوج لے کر مکہ پر حملہ آور ہوا۔ ابرہہ نے مکہ کے باہر پڑاؤ ڈالا ۔ اس نے عبد المطلب کے دوسو اونٹ پکڑوا لیے۔ عبدالمطلب اس سلسلہ میں ابرہہ سے ملنے گئے۔ ابر ہہ  ان کی پروقار شخصیت سے بہت متاثر ہوا اور ان کو اپنے پاس عزت کے ساتھ بٹھایا اور آنے کی وجہ پوچھی۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنے دوسو اونٹوں کے لیے آیا ہوں جو آپ کے آدمیوں نے پکڑ لیے ہیں:ابرہہ نے کہا:تم اپنے اونٹوں کے لیے مجھ سے سفارش کرنے آئے ہو اور اس محترم گھر (کعبہ) کے لیے کچھ نہیں کہتے جس کے اوپر تمھاری قومی عزت قائم ہے اور جس کو ڈھانے کے لیے میں یہاں آیا ہوں ۔ عبدالمطلب نے اطمینان کے ساتھ جواب دیا:میں اونٹ کا مالک ہوں۔ کعبہ کا مالک خدا ہے، وہ اس کی حفاظت کرےگا:أَنَا رَبُّ الْإِبِلِ، وَإِنَّ لِلْبَيْتِ ‌رَبًّا ‌سَيَمْنَعُهُ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 44)۔ چنانچہ خدا نے ابرہہ کے عظیم لشکر کو تباہ کر دیا اور وہ کعبہ پر حملہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

عبد المطلب کا نام اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ کعبہ وہ مقدس گھر ہے جس کا پاسبان خود خدا ہے۔

2۔  اسی طرح جنت المعلیٰ میں ابوطالب دفن ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ عام روایت کے مطابق وہ اگر چہ آپ پر ایمان نہیں لائے مگر انھوں نے اپنے بس پھر آپ کی پوری مدد کی ۔ وہ آپ کے دشمنوں کے مقابلہ میں آپ کی چٹان بن گئے ۔ انھوں نے اپنے آبائی دین کو نہ چھوڑا۔ مگر انسانی حیثیت سے آخر وقت تک وہ آپ کا ساتھ دیتے رہے۔ حتی کہ جب قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بائیکاٹ کیا اور آپ کو مع اپنے خاندان کے ایک خشک پہاڑ کے درہ (شعب ابی طالب) میں محصور ہونا پڑا ، اس وقت بھی ابو طالب آپ کے ساتھ رہے۔ اگر چہ یہ تین سال کی مدت اتنی سخت تھی کہ وہ بیمار پڑ گئے اور بالآخر بعثت کے دسویں سال (620ء) ان کا انتقال ہو گیا ۔ ابو طالب نے آپ کے مشن سے اتفاق نہ کرتے ہوئے بھی اپنے بھتیجے کے وہ سارے حقوق مکمل طور پر ادا کیے جو خاندان کے بڑے ہونے کی حیثیت سے ان پر آتے تھے ۔

3۔   آمنہ بنت وہب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ تھیں۔ آپ ابھی ماں کے پیٹ میں تھے کہ آپ کےوالد عبد الله (525-570ء) کا انتقال ہوگیا۔ عبداللہ کا نانہال مدینہ (یثرب) میں تھا اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چھ سال تھی کہ آپ کی والدہ آپ کو لے کر مدینہ گئیں تاکہ اپنے شوہر کی قبر کی زیارت کر سکیں ۔ ایک مہینہ سے کچھ زیادہ قیام کرکے مکہ واپس آرہی تھیں کہ راستہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ آمنہ کی عمر اس وقت قریب 25 سال تھی۔ اس سفر میں آپ کی باندی امّ ایمنحبشیہ آپ کے ساتھ تھیں ۔ ام ایمن نے کچھ لوگوں کی مدد سے موجودہ جنت المعلیٰ میں ان کو دفن کیا اور آپ کے چھ سالہ بچہ کو ساتھ لا کر ان کے دادا عبدالمطلب کے حوالے کر دیا۔ آمنہ نے تاریخ کے سب سے بڑے انسان کو پیدا کیا ، اگر چہ وہ اس کی عظمت کو دیکھنے کے لیے زیادہ دن تک زندہ نہ رہ سکیں۔

4۔   حضرت خدیجہ بنت خویلد مکہ کی ایک نہایت شریف اور مالدار خاتون تھیں۔ ان کے والد خویلدبن اسد ایک اچھے تاجر تھے ۔ وہ اپنی لڑکی کے لیے کافی سرمایہ چھوڑ کر مرے۔ پھر خدیجہ کی شادی مکہ کے دو تاجروں سے ہوئی۔

اولاً ابو ہالہ بن زرارہ تمیمی سے ، اور ان کے مرنے کے بعد عتیق بن عائذ مخزومی سے۔ یہ دونوں کچھ کچھ عرصہ کے بعد انتقال کر گئے اور حضرت خدیجہ کو دونوں کی دولت وراثت میں ملی۔ اس طرح حضرت خدیجہ بیوہ ہونے کے باوجود مکہ کی سب سے زیادہ مال دار خاتون بن گئیں ۔ قریش کے شرفاء اور دولت مند لوگ ان سے نکاح کی خواہش کرنے لگے۔ اسی درمیان میں ایک تجارتی تعلق کے ذیل میں ان کا تعارف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا۔ آپ دنیوی دولت سے خالی تھے مگر حضرت خدیجہ آپ کے کردار اور آپ کی شرافت سے متاثر ہوئیں اور خود ہی آپ سے نکاح کا پیغام بھجوایا ۔ چنانچہ دونوں کا نکاح ہو گیا۔ نکاح کے وقت حضرت خدیجہ کی عمر 40سال اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 25 سال تھی ۔ جنت المعلیٰ میں حضرت خدیجہ کی قبر ہر آنے جانے والے کو یاد دلاتی ہے کہ تم کو دولت کے مقابلہ میں کردار کو اہمیت دینا چاہیے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم کو پیغمبری ملی تو وہ فوراً آپ پر ایمان لائیں ۔ اس مشن میں آپ کو سخت ترین مصیبتیں پیش آئیں۔ حضرت خدیجہ کی ساری دولت اس مشن کی راہ میں خرچ ہوگئی مگر انھوں نے کبھی اف نہ کیا ۔ ہر سختی جو آپ پر پڑی اس کو سہنے میں وہ برابر کی شریک رہیں۔ وہ آپ کی صرف بیوی نہ تھیں بلکہ پورے معنوں میں آپ کی زندگی کی ساتھی تھیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم گھر سے باہرکسی مقام پر تھے کہ حضرت جبریل آئے اور کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ خدیجہ آپ کے لیے کھانا لیے ہوئے آرہی ہیں ۔ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے رب کی طرف سے اور پھر میری طرف سے ان کو سلام کہئے اور ان کو جنت کے ایک محل کی بشارت دے دیجیے جو موتیوں کا بنا ہوا ہوگا۔ اس محل میں نہ کوئی شور ہو گا اور نہ کوئی تکلیف (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3820؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2432)۔ حضرت خدیجہ کا انتقال نبوت کے دسویں سال (620ء) میں ہوا۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ذکر کر تے ہوئے ایک بار فرمایا:خدیجہ مجھ پر ایمان لائیں جب کہ لوگوں نے میرا انکار کر دیا۔ انھوں نے میری تصدیق کی جب کہ لوگوں نے مجھ کو جھٹلایا ۔ انھوں نے اپنے مال میں مجھ کو شریک کیا جب کہ لوگوں نے مجھ کو مال سے روکا (مسند احمد، حدیث نمبر 24864)۔ حضرت خدیجہ کی قبر تاریخ کی انتہائی معیاری خاتون کی یاد دلاتی ہے، ایسی خاتون جو اپنے رفیق زندگی کے لیے کبھی مسئلہ نہیں بنی۔ جس نے تکلیف کے دنوں میں بھی اپنے رفیق زندگی کا اسی طرح ساتھ دیا جس طرح آرام کے دنوں میں۔

5 ۔ جنت المعلیٰ کے باسیوں میں حضرت عبداللہ بن زبیر بھی ہیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔ حالت اسلام میں پیدا ہوئے ۔ رسول اللہ کے زمانہ میں ان کا شمار نو عمر صحابہ میں ہوتا تھا۔ خدا ترس ہونے کے ساتھ وہ ایک بہادر اور مدبر انسان تھے۔ وہب بن کیسان کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر نے مجھ کو نصیحت نامہ بھیجا اور اس میں لکھا:خدا سے ڈرنے والا وہ ہے جس نے بلائوں پر صبر کیا اور اللہ کے فیصلہ پر راضی رہا اور نعمتوں کا شکر ادا کیا اورقرآن کے حکم کے آگے جھک گیا:مَنْ صَبَرَ عَلَى الْبَلَاءِ وَرَضِيَ بِالْقَضَاءِ وَشَكَرَ النَّعْمَاءَ وَذَلَّ لِحُكْمِ الْقُرْآنِ (حلیۃ الاولیا لابی نعیم، جلد 1، صفحہ نمبر 336)۔

خلیفه چهارم حضرت علی بن ابی طالب کے بعد خلافت کا بار سنبھالنے کے لیے پورے عالم اسلام میں جو چند شخصیتیں موزوں ترین تھیں ان میں سے ایک حضرت عبداللہ بن زبیر تھے۔ وہ بہادری اور دانش مندی اور تقوی میں کمال درجہ رکھتے تھے۔ حجاز اور عراق کے لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی ۔ تاہم وہ عبدالملک بن مروان کے عامل حجاج بن یوسف سے جنگ کرتے ہوئے 73ھ میں شہید ہو گئے۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر کی قبر ایک ایسے بلند انسان کی یاد دلاتی ہے جو حق کے آگے پوری طرح جھکا ہوا تھا مگر وہ ظلم اور بے انصافی کے آگے جھکنانہیں جانتا تھا۔

6۔   ابو جعفر منصور ( 101-158) عباسی خلفا میں ایک نہایت قابل اور مدبر خلیفہ تھا۔ یہی خلیفہ ہے جس نے عراق کے شہر بغداد کی بنیاد رکھی اور اس کو اتنی ترقی دی کہ اپنے وقت میں وہ علم اور سیاست دونوں اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ اس کے زمانہ میں عجمی زبانوں کی کتابوں کے ترجمے کثرت سے عربی زبان میں ہوئے۔ سنسکرت کی کتاب کا مشہور عربی ترجمہ کلیلہ و دمنہ بھی اسی کے زمانہ میں ہوا۔ تمام حکمرانوں کی طرح اگر چہ اس نے بھی اپنے سیاسی حریفوں پر مظالم کیے اور ان کو قتل کرایا۔ تاہم پُر امن رعایا کے لیے وہ ایک بہترین حکمراں کی حیثیت رکھتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ابو جعفر منصور موٹا کپڑا پہنتا تھا۔ حتی کہ بعض اوقات اس کے کرتے میں پیوند دکھائی دیتے تھے۔ اسی بنا پر جعفربن محمد صادق نے اس کے بارے میں کہا تھا:خدا کا شکر ہے کہ اس نے منصور کو بادشاہ ہونے کے باوجود اپنی ذات کے لیے فقر میں مبتلا کر دیا ہے (تاریخ الطبری، جلد8، صفحہ 81)۔

  ابو جعفر منصور ذی قعدہ 158ء میں بغداد سے مکہ کے لیے حج کے ارادہ سے روانہ ہوا۔ مگر وہ مکہ کے قریب پہنچا تھا کہ سخت بیمار ہو گیا اور وہیں حالت سفر میں اس کا انتقال ہوگیا۔ وفات کے بعد اس کو قریبی قبرستان جنت المعلیٰ میں دفن کر دیا گیا۔

7۔   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں چار لڑکیاں پیدا ہوئیں ۔ زینب، رقیہ، ام کلثوم، فاطمہ اور یہ چاروں صاحبزادیاں حضرت خدیجہ کے بطن سے تھیں ۔ ان میں سے ابتدائی تین صاحبزادیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں انتقال کر گئیں۔ حضرت فاطمہ نے آپ کی وفات کے چھ ماہ بعد تقریباً 30 سال کی عمرمیں انتقال کیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لڑکوں کی تعداد تین تھی۔ تینوں لڑکے بچپن ہی میں انتقال کر گئے ۔ ان میں سے قاسم اور عبد اللہ حضرت خدیجہ کے بطن سے پیدا ہوئے اور مکہ کے ابتدائی زمانہ میں ان کا انتقال ہوگیا۔ تیسرے صاحبزادے ابراہیم حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے ۔ انھوں نے تقریباً ڈیڑھ سال کی عمر میں 10ھ میں وفات پائی۔

کہا جاتا ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہونے والے آپ کے دونوں صاحبزادوں کی قبر بھی مکہ کے اسی قبرستان (جنت المعلیٰ) میں ہے تاہم اب یہ صرف ایک زبانی روایت ہے۔ موجودہ قبرستان میں اس کا کوئی یقینی نشان موجود نہیں۔

______________________________________________

نوٹ:یہ تقریر 13نومبر 1980ء کو آل انڈیا ریڈیونئی دہلی سے نشر کی گئی۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion