کھونا بھی پانا ہے

’’حادثات آدمی کو ہیرو بنا دیتے ہیں‘‘ کسی مفکر کا یہ قول لوئی بریل (1852-1809) کی زندگی پر پوری طرح صادق آتا ہے۔لوئی بریل ایک بڑھئی کا لڑکا تھا۔ ابھی وہ تین سال کا تھا کہ باپ کی دکان میں ایک حادثہ ہونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں جاتی رہیں ۔ وہ ہمیشہ کے لیے اندھا ہو گیا۔ یہی فرانسیسی اندھا ہے جس نے تاریخ میں پہلی بار اندھوں کے لیے پڑھنے لکھنے کا وہ علامتی طریقہ ایجاد کیا جس کو اسی کے نام پر بریل کا طریقہ (Braille System) کہا جاتا ہے۔ لوئی بریل کے لیے بظاہر دنیا تاریک ہو چکی تھی۔ مگر اس کے شوق اور محنت نے تاریکی میں بھی ایک نئی روشنی کار از دریافت کر لیا۔

اسی قسم کا واقعہ ہیلن کیلر (1968-1889) کا ہے۔ یہ امریکی خاتون ابھی صرف ڈیڑھ سال کی تھی کہ ایک مہلک بخار میں وہ اندھی اور بہری ہوگئی۔ چونکہ وہ نہ دیکھ سکتی اور نہ سن سکتی تھی اس لیے وہ بولنا بھی نہ سیکھ سکی۔ آنکھ اور کان دونوں سے محرومی نے اس کو بالکل بے بسی کی حالت میں ڈال دیا تھا۔ بظاہر اب ہیلن کیلر کے لیے ایک ہی انجام مقدر تھا۔ وہ کسی معذور خانہ میں کس مپرسی کی زندگی گزارتے ہوئے مرجائے ۔ ہیلن کیلر نے آنکھ اور کان کھو دئے تھے مگر اس نے ہمت نہیں کھوئی تھی۔ اس نے طے کیا کہ وہ آنکھ نہ ہوتے ہوئے دیکھے گی اور کان نہ ہوتے ہوئے سنے گی ۔ وہ ان خوش قسمت لوگوں کی مانند بنے گی جن کو قدرت کی طرف سے آنکھ اور کان حاصل ہوتے ہیں ۔

جب آدمی عزم کرے تو راہیں بھی کھلنے لگتی ہیں۔ ہیلن کیلر کو اپنی مدد کے لیے ایک لائق ٹیچر مس سولیون مل گئی ۔ ہیلن کیلر نے انگلی سے چھو کر پڑھنے والے حروف سیکھے۔ یہاں تک کہ اس کو پڑھنا آگیا۔ بہری ہونے کے باوجود اس نے اپنی محنت سے بولنا سیکھ لیا۔ اس نے یہ کیا کہ اس کی استانی جب بولتی تو وہ اس کے حلق پر اور اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھے کر حلق اور ہونٹ پر الفاظ کی حرکاتی شکل کو محسوس کرتی اور ان حرکتوں کو انگلی سے سمجھ کر اپنی زبان سے ان کی نقل کرتی۔ اس انوکھے قسم کی تعلیمی کوشش میں برسہا برس لگ گئے۔ مگر بالآخر اس کی کوشش کامیاب ہوئی ۔ اس نے انگلیوں کی مدد سے الفاظ کی حرکتوں کو پہچانا اور ان کو اسی طرح دہرا دہرا کر بولنا سیکھ لیا۔ اب وہ باقاعدہ پڑھنے اور بولنے لگی ۔ اس نے اپنی تعلیم میں اپنی انگلیوں کو آنکھ اور کان کا بدل بنالیا۔ انگلیوں کی مدد سے اس نے پڑھنا سیکھا اور انگلیوں ہی کی مدد سے بولنا بھی ۔

مس سولیون سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہیلن کیلر نے پر کن کے اندھوں کے کالج میں داخلہ لیا اور وہاں سے 1904میں گریجویٹ ہو کر نیکی ۔ اب اس نے لکھنا بھی سیکھ لیا۔ اس نے بہت سی کتابیں تصنیف کیں۔ دیکھنے اور سننے کی فطری استعداد سے محرومی کے باوجود اس نے تین زبانیں سیکھ لیں ۔ انگریزی ، فرانسیسی اور اسپینی ۔ اس نے دنیا بھر کا سفر کر کے اندھوں کی تعلیم پر لیکچر دئے ۔ اس کو ہارورڈ ، گلاسگو ، برلن اور دہلی کی یونیورسٹیوں نے اعزازی ڈگریاں دیں ۔ اس کے علاوہ اس کو اور بہت سے عالمی اعزازات ملے۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کوئی بڑا کارنامہ اکثر وہی لوگ انجام دیتے ہیں جو کسی بڑے حادثہ سے دو چار ہوئے ہوں کسی کے ساتھ جب کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو وہ اس کے اندر کمی کے احساس کو بے پناہ حد تک جگا دیتا ہے۔ وہ اس چیز کو پانے کے لیے دوسروں سے زیادہ بے تاب ہو جاتا ہے جس کو وہ کسی وجہ سے دوسروں سے بہت کم پائے ہوئے ہے۔ اس کی یہ بیتابی اس کے اندر سوئی ہوئی بہت سی نئی نئی صلاحیتوں کو ابھار دیتی ہے۔ دوسرے لوگ جس چیز کو صرف جزئی محنت سے لینا چاہتے ہیں اس کو وہ اپنی ساری شخصیت لگا کر حاصل کرنے کے لیے بے چین ہو جاتا ہے۔ اس کی یہ تڑپ اس کے اندر ایک نیا انسان جگا دیتی ہے ۔ آنکھ سے محروم ہونے والا اپنے ’’ہاتھ‘‘ سے پڑھنے کا راستہ نکال لیتا ہے ۔ پیروں کو کھونے والا اپنی عقل کے ذریعہ اپنے سفر کی تدبیر کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ایک اعتبار سے گھاٹا اٹھانے والا دوسرے اعتبار سے نفع حاصل کر کے آگے بڑھ جاتا ہے ۔

حادثات بظا ہر امکانات کا خاتمہ ہیں۔ مگر وہ ایک نئے آغاز کا سبب بن سکتے ہیں۔ وہ آدمی کے اندرنیا ارادہ ابھارتے ہیں۔ اس کی چھپی ہوئی قوتوں کو بروئے کار لاتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ’’پائے ہوئے‘‘ آدمیوں کے مقابلہ میں ’’کھوئے ہوئے ‘‘ آدمیوں نے زیادہ بڑے کارنامے انجام دئے ہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion