احادیث
- وما أكرَمَ النساءَ إلا كريمٌ، ولا أَهانَهنَّ إلا لَئيمٌ (الإيماء إلى زوائد الأمالي والأجزاء، حدیث نمبر4399)۔یعنی،عورتوں کی عزت وہی شخص کرے گا جو شریف ہو اور عورتوں کو وہی شخص بے عزت کرے گا جو کمینہ ہو۔
- خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي(سنن الترمذی ،حدیث نمبر 3495)۔ یعنی،تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہو۔ اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم میں سب سے اچھا ہوں۔
- لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ(صحیح مسلم، حدیث نمبر1469)۔ یعنی،کوئی مومن مرد کسی مومن عورت سے نفرت نہ کرے اگر اس کی کوئی خصلت اس کو ناپسند ہو گی تو کوئی دوسری خصلت اس کی پسند کے مطابق ہو گی۔
- أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِنِسَائِهِم (سنن الترمذی،حدیث نمبر ،1142)۔ یعنی،مومنین میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہے۔ اور تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنی عورتوں کے لیے اچھا ہو۔
- ایک حدیث میں اچھی عورت کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ؟ قَالَ: الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهَا بِمَا يَكْرَهُ ( سنن نسائی،حدیث نمبر3231)۔یعنی، حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا۔ سب سے بہتر عورتیں کون ہیں۔ فرمایا وہ عورت کہ مرد جب اسے دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے۔ اور مرد جب کسی کام کے لیے کہے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور اپنے نفس اور اپنے مال میں وہ مرد کی مرضی کے خلاف کچھ نہ کرے۔
عورت کو اسلام میں کتنا باعزت مقام دیا گیا ہے ، اس کا اندازہ حسب ذیل روایات سے ہوتا ہے
- عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو أَنّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَالدُّنْيَا مَتَاعٌ. وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ(صحیح مسلم،حدیث نمبر1467)۔ یعنی،دنیا کی ہر چیز سامان ہے۔ اور دنیا کا سب سے اچھا سرمایہ نیک عورت ہے۔
- عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ :قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ:الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ، وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ، وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ (سنن ابو داؤد،حدیث نمبر1664)۔ یعنی، کیا میں تم کو نہ بتاؤں کہ آدمی کے لیے بہتر جمع کرنے والا مال کیا ہے۔ نیک عورت کہ جب وہ اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے۔ اور جب وہ اس کو حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے۔ اور جب وہ موجود نہ ہو تو وہ اس کی حفاظت کرے۔
- عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ:لَمَّا نَزَلَتْ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالفِضَّةَ( 9:34) قَالَكُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: أُنْزِلَتْ فِي الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ، لَوْ عَلِمْنَا أَيُّ المَالِ خَيْرٌ فَنَتَّخِذَهُ؟ فَقَال: أَفْضَلُهُ لِسَانٌ ذَاكِرٌ، وَقَلْبٌ شَاكِرٌ، وَزَوْجَةٌ مُؤْمِنَةٌ تُعِينُهُ عَلَى إِيمَانِهِ (مسند احمد،حديث نمبر22392؛ سنن الترمذی ،حديث نمبر 3094؛ سنن ابن ماجہ، حديث نمبر1856)۔یعنی،قرآن میں جب یہ آیت اتری کہ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں ان کے لیے وعید ہے تو بعض صحابہ نے کہا کہ اگر ہم یہ جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو ہم اسی کو لیتے۔ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:سب سے افضل چیز خدا کی یاد کرنے والی زبان ہے۔ اور خدا کا شکر کرنے والا دل ہے۔ اور مومن بیوی ہے جو اس کے ایمان پر اس کی مدد کرے۔
- عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ’’مَا اسْتَفَادَ الْمُؤْمِنُ بَعْدَ تَقْوَى اللهِ، خَيْرًا لَهُ مِنْ زَوْجَةٍ صَالِحَةٍ، إِنْ أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ، وَإِنْ نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ، وَإِنْ أَقْسَمَ عَلَيْهَا أَبَرَّتْهُ، وَإِنْ غَابَ عَنْهَا نَصَحَتْهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ‘‘ (سنن ابن ماجہ،حديث نمبر1857)۔یعنی، اللہ کے تقویٰ کے بعد سب سے بہتر چیز جو ایک مومن پاتا ہے وہ نیک بیوی ہے۔ اگر وہ اس کو کوئی حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور اگر وہ اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کر د ے۔ اور اگر وہ اس پر قسم کھا لے تو وہ اس کو پورا کرے اور اگر وہ اس كے پاس موجود نه ہو تو وہ اپنے نفس اور اس کے مال میں اس کی خیر خواہی کرے۔
- عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ’’: أَرْبَعٌ مَنْ أُعْطِيَهُنَّ فَقَدْ أُعْطِيَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ: قَلْبٌ شَاكِرٌ، وَلِسَانٌ ذَاكِرٌ، وَبَدَنٌ عَلَى الْبَلَاءِ صَابِرٌ، وَزَوْجَةٌ لَا تَبْغِيهِ خَوْنًا فِي نَفْسِهَا وَلَا مَالِهِ (سنن البیہقی،حديث نمبر717)۔ یعنی،چار چیزیں ہیں جن کو وہ دی گئیں تو اس کو دنیا اور آخرت کی تمام بھلائی دیدی گئی۔ شکر کرنے والا دل اور ذکر کرنے والی زبان اور مصیبتوں پر صبر کرنے والا بدن اور ایسی بیوی جس کے نفس اور اپنے مال میں اس کو کوئی ڈر نہ ہو۔
- قَالَ عُمَرُتَصَنَّعُوا لِلنِّسَاءِ فَإِنَّهُنَّ يُحِبِبْنَ مِنْكُمْ مَا تُحِبُّونَ مِنْهُنَّ۔ (المحاسن والأضداد للجاحظ،صفحہ212)۔ یعنی،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، کیوں کہ وہ بھی تم سے وہی چاہتی ہیں جو تم ان سے چاہتے ہو۔
- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلَاهُ فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ (صحیح البخاری،حديث نمبر3331)۔ یعنی،حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کروں کیوں کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھ اس کے اوپر کے حصہ میں ہوتی ہے اگر تم اس کو سیدھا کرنے لگو تو تم اس کو توڑ دو گے اور اگر تم اس کو چھوڑ دو تو وہ ویسی ہی رہے گی پس تم عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی میری نصیحت قبول کرو۔
- إنَّما حُبِّبَ إلَيَّ مِن دُنياكُمُ النِّساءُ والطِّيبُ، وجُعِلَت قُرَّةُ عَينِي في الصَّلاةِ(سنن الكبرى للبيهقي،حديث نمبر13583)۔یعنی،مجھے تمہاری دنیا کی چیزوں میں سے خوشبو اور عورتیں محبوب بنائی گئی ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔
- إِنَّ النِّسَاءَ شَقَائِقُ الرِّجَالِ(سنن الترمذی،حديث نمبر113)۔ یعنی، عورتیں مردوں کی نصف ثانی ہیں۔
- خِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ (سنن ابن ماجہ،حديث نمبر1978)۔یعنی،تم میں سب سے اچھے وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے لیے اچھے ہیں۔
- اتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ(سنن أبو داود،حديث نمبر1905)۔ یعنی،عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو۔
- لَيْسَ مِنْ مَتَاعِ الدُّنْيَا شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنَ الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ (سنن ابن ماجہ، حديث نمبر1855)۔یعنی،دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز نیک بیوی سے بہتر نہیں۔
- الْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ(مسند الشهاب القضاعي،حديث نمبر119)۔ یعنی،جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔
- مَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ فَأَدَّبَهُنَّ، وَزَوَّجَهُنَّ، وَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ فَلَهُ الْجَنَّةُ (سنن ابوداؤد،حديث نمبر5147)۔ جس شخص نے تین لڑکیوں کی پرورش کی۔ پھر ان کو ادب سکھایا اور ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے۔
- مَنْ كَانَتْ لَهُ أُنْثَى فَلَمْ يَئِدْهَا، وَلَمْ يُهِنْهَا، وَلَمْ يُؤْثِرْ وَلَدَهُ عَلَيْهَا، - قَالَ: يَعْنِي الذُّكُورَ - أَدْخَلَهُ الله الْجَنَّة(سنن ابو داود،حديث نمبر5146)۔ یعنی،جس شخص کے یہاں لڑکی ہو۔ پھر وہ نہ اس کو زمین میں گاڑے اور نہ اس کی تحقیر کرے اور نہ اس پر اپنے لڑکے کو ترجیح دے تو اللہ اس کو جنّت میں داخل کرے گا۔
- أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ؟ ابْنَتُكَ مَرْدُودَةً إِلَيْكَ، لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ(سنن ابن ماجہ،حديث نمبر3667)۔یعنی، کیا میں تم کو نہ بتاؤں کہ افضل صدقہ کیا ہے۔ تمہاری لڑکی جو (بیوگی یا طلاق کی وجہ سے)تمہاری طرف لوٹا دی جائے۔ تمہارے سوا کوئی اس کا کمانے والا نہ ہو۔
- مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ(صحیح البخاری، حديث نمبر1352)۔یعنی، اللہ جس شخص کو ان لڑکیوں کے ذریعہ کچھ آزمائے پھر وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ اس کے لیے آگ سے بچاؤ کا ذریعہ ہوں گی۔
Book :
